Dr. Muhammad Younis Kiani

  • Home
  • Dr. Muhammad Younis Kiani

Dr. Muhammad Younis Kiani Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr. Muhammad Younis Kiani, Government Official, .

26/04/2026

دل کی دھڑکن کا غیر معمولی طور پر محسوس ہونا، تیز ہونا یا بے ترتیب ہونا **پیلپی ٹیشن (Palpitation)** کہلاتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جنہیں درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
# # # 1. عام یا طرزِ زندگی سے متعلق وجوہات
اکثر اوقات یہ وجوہات خطرناک نہیں ہوتیں اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے ٹھیک ہو جاتی ہیں:
* **ذہنی تناؤ اور پریشانی:** شدید گھبراہٹ، خوف (Panic attack) یا ذہنی دباؤ۔
* **جسمانی مشقت:** اچانک تیز دوڑنا یا سخت ورزش کرنا۔
* **کیفین کا استعمال:** چائے، کافی یا انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال۔
* **نیکوٹین:** سگریٹ نوشی یا تمباکو کا استعمال۔
# # # 2. طبی وجوہات (Medical Causes)
جسم میں موجود دیگر بیماریوں کی وجہ سے بھی دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے:
* **خون کی کمی (Anemia):** جسم میں ہیموگلوبن کی کمی کی وجہ سے دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
* **تھائیرائیڈ کے مسائل:** خاص طور پر 'ہائپر تھائیرائیڈزم' (Hyperthyroidism) جس میں تھائیرائیڈ گلینڈ ضرورت سے زیادہ ہارمون بناتا ہے۔
* **بخار:** جسمانی درجہ حرارت بڑھنے سے دل کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے۔
* **خون میں شوگر کی کمی:** شوگر کم ہونے (Hypoglycemia) سے پسینہ آتا ہے اور دھڑکن تیز ہوتی ہے۔
# # # 3. دل کے امراض
کچھ صورتوں میں یہ دل کے کسی اندرونی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے:
* **ایریتھمیا (Arrhythmia):** دل کی برقی لہروں (Electrical signals) میں خرابی جس سے دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے۔
* **والو کے مسائل:** دل کے والوز میں خرابی (جیسے Mitral Valve Prolapse)۔
* **کارڈیو مایوپیتھی:** دل کے پٹھوں کی کمزوری یا بیماری۔
# # # کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
اگر دل کی دھڑکن کے ساتھ درج ذیل علامات ظاہر ہوں، تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے:
1. سینے میں درد یا دباؤ محسوس ہونا۔
2. سانس لینے میں شدید دشواری۔
3. چکر آنا یا بیہوشی طاری ہونا۔
4. بہت زیادہ پسینہ آنا۔
**مشورہ:** اگر آپ کو اکثر یہ مسئلہ رہتا ہے، تو ای سی جی (ECG) اور خون کے بنیادی ٹیسٹ (جیسے CBC اور TSH) کروانا بہتر ہوتا ہے تاکہ اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
سلامت رہیں۔
منقول

17/04/2026

سوال : ڈاکٹر صاحب! Anti D immunoglobulin کس کس حاملہ خاتون کو لگوانی ضروری ہے اور کب کب لگوانی چاہیے ؟؟
جواب : اینٹی ڈی انجیکشن یعنی Rho(D) immune globulin اس صورت میں لگوایا جاتا ہے جب ماں کا بلڈ گروپ Rh-negative ہو اور بچے کا Rh-positive ہونے کا خطرہ ہو۔ مقصد ماں کے جسم کو اینٹی باڈیز بنانے سے روکنا ہے جو اگلی پریگنینسی میں بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
لگوانے کا شیڈول :::
۔۔۔پہلی ڈوز::::حمل کے 28 ہفتے پر، اگر ماں Rh-negative ہے اور باپ Rh-positive ہے یا نامعلوم ہے
۔۔۔۔ڈلیوری کے بعد::: بچے کی پیدائش کے 72 گھنٹے کے اندر، اگر بچہ Rh-positive نکلا...اسقاط حمل ::::: کسی بھی ٹرائیمسٹر میں، 72 گھنٹے کے اندر
۔۔۔۔۔۔ایکٹوپک پریگنینسی ::::: ٹریٹمنٹ کے 72 گھنٹے کے اندر.....حمل میں بلیڈنگ::::: جیسے اسپاٹنگ، پلیسنٹا پریویا، ابریپشن - ہر ایپی سوڈ کے 72 گھنٹے کے اندر

۔۔۔۔پیٹ پر چوٹ یا ایکسیڈنٹ::::: حمل کے دوران کوئی بھی blunt trauma ہو تو 72 گھنٹے کے اندر
نوٹ ::
1. اگر ماں پہلے ہی اینٹی-D اینٹی باڈیز بنا چکی ہے تو انجیکشن کا فائدہ نہیں ہوتا، اس لیے پہلے Indirect Coombs Test کروایا جاتا ہے۔
2. اگر ماں اور باپ دونوں Rh-negative ہیں تو انجیکشن کی ضرورت نہیں۔
3. ہر اس صورت میں لگتا ہے جہاں ماں اور بچے کا خون مکس ہونے کا خطرہ ہو۔

اگر آپ Rh-negative ہیں تو اپنے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کریں تاکہ شیڈول مس نہ ہو !

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Muhammad Younis Kiani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your organization to be the top-listed Government Service?

Share