Sambrial سمبڑیال

Sambrial سمبڑیال https://en.m.wikipedia.org/wiki/Sambrial Sambrial City is located 16-km from sialkot towards wazirabad.

Sambrial is fastly growing city & Business Hub with having Sialkot Dryport & Airport.

25/08/2024
پنجاب سے گزشتہ سال ڈھائی ہزار بچے اغوا، 891 جنسی زیادتی کا نشانہ بنےسمبڑیال سے 4 سال پہلے اغوا ہونے والا 13 سالہ بچہ دبئ...
29/04/2024

پنجاب سے گزشتہ سال ڈھائی ہزار بچے اغوا، 891 جنسی زیادتی کا نشانہ بنے

سمبڑیال سے 4 سال پہلے اغوا ہونے والا 13 سالہ بچہ دبئی سے ملا!!!

2023 میں ہر ہفتے تقریبا 17 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
لاہور: اسسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں صوبہ پنجاب میں بچوں پر تشدد کے واقعات کی تعداد خطرناک حد تک زیادہ رہی جو متعلقہ اداروں کی فوری توجہ کا تقاضہ کرتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں مجموعی طور پر بچوں کے اغوا کے 2534 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اس سے گزشتہ سال 2022 میں بچوں کے اغوا کے 2539 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

سال 2023 کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزانہ اوسطاً 7 بچوں کو اغوا کیا گیا، یہ ایک خطرناک اعشاریہ ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بچوں کے اغوا کی روک تھام کے حوالے سے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
اس سلسلے میں سب سے حساس اضلاع کے لحاظ سے زیادہ تر کیسز لاہور (840)، سیالکوٹ (194) اور گوجرانوالہ (143) سے رپورٹ ہوئے۔

اسی طرح جنسی زیادتی کے واقعات کی تعداد بھی تشویش کا باعث تھی۔ سال 2023 میں مجموعی طور پر 891 کیسز سامنے آئے جبکہ 2022 میں یہ تعداد 621 تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ 2023 میں ہر ہفتے تقریبا 17 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک بار پھر لاہور (346) رپورٹ کیسز کے لحاظ سے نمایاں اور حساس ترین رہا۔ اس کے بعد شیخوپورہ میں 76 اور بہاولنگر میں 61 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ، چائلڈ پورنوگرافی کے 12 کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اس سال بچوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی انتہائی تشویشناک ہیں، 2023 میں 493 واقعات رپورٹ ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ہفتے ملک بھر میں اوسطا 9 بچے قتل کیے گئے۔ بچوں کے قتل کے مختلف رپورٹ کردہ واقعات کے لحاظ سے لاہور (61)، فیصل آباد (32) اور گوجرانوالہ (26) نمبر پر تھے جبکہ یہ شہر درج کردہ کیسز کے لحاظ سے بڑے ہاٹ اسپاٹ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

سال 2022 سے 2023 تک بچوں کی اسمگلنگ اور جسمانی استحصال کے واقعات میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ 2023 میں 157 بچوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 2022 میں یہ تعداد 83 تھی۔ اسی طرح 2023 میں بچوں کی اسمگلنگ کے 108 واقعات کی رپورٹ درج کی گئیں جبکہ 2022 میں یہ تعداد 49 تھی۔

جسمانی تشدد کے رپورٹ کردہ واقعات میں سیالکوٹ (37)، فیصل آباد (16) اور شیخوپورہ (11) کے ساتھ ہاٹ اسپاٹ میں شامل ہیں جبکہ بچوں کی اسمگلنگ کی درج کردہ رپورٹس کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ (51) اور چنیوٹ (35) کیسز کے طور پر نمایاں ہیں۔ ان اضلاع کو بھی بچوں کی اسمگلنگ کے ہاٹ اسپاٹس میں شامل کیا گیا ہے۔

ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا کہ بچوں کے ساتھ تشدد اور جنسی زیادتی ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ پنجاب میں پولیس ان کیسز کو رجسٹر کرنا شروع ہوگئی ہے، اب عدالتوں کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں پر تشدد کے کیسز پر سخت اور جلد فیصلہ دیں تاکہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے اور اس جرم کو روکا جا سکے۔

کوثر عباس نے کہا کہ ’’ہر نمبر ایک ایسے بچے کی نمائندگی کرتا ہے جس کی حفاظت پر سمجھوتہ کیا گیا ہے، یہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تشدد اور استحصال سے بچانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں۔ صرف ہماری مشترکہ کوششیں ہی ہر بچے کے محفوظ اور روشن مستقبل کو یقینی بنانے میں کارآمد ہو سکتی ہیں۔

واضع رہے کہ یہ اعداد و شمار آئین کے آرٹیکل 19 اے اور پنجاب ٹرانسپیرنسی اور معلومات تک رسائی کے قانون 2013 کے تحت پنجاب پولیس میں ’’رائٹ ٹو انفارمیشن‘‘ درخواست دائر کرکے جمع کیے گئے تھے

25/04/2024

ایک طالب علم کا پیج پر میسج
آج کل B فارمیسی ٹیکنیشن کے امتحانات ہو رہے ہیں اور پریکٹیکل کے امتحانات 30 مارچ 2024 کو منعقد ہوئے ہیں جو کہ 'پنجاب فارمیسی کونسل لاہور' کی جانب سے منعقد کیے گئے ہیں جس سے میں بہت سے طالب علموں نے حصہ لیا ہے جن میں نعمان ادریس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سمبڑیال ،سیالکوٹ کے طالب علموں نے بھی حصہ لیا لیکن اس اسٹی ٹیوٹ کی پرنسپل میمونہ نے طالب علموں کو پریکٹیکل کے امتحانات لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ وہ آئندہ آنے والے سال کی ایڈوانس میں 60000 فیس جمع کروائیں ورنہ پریکٹیکل نہیں ہوں گے یہ کہاں کا قانون ہے کہ جو سال ابھی آیا بھی نہیں اس کی فیس لی جائے ؟یہ تو قانونی طور پر جرم ہے یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ جبکہ موجودہ امتحان کی فیس ادا کرنے کہ باوجود طالب علموں کو B فارمیسی ٹیکنیشن کے پریکٹیکل کے امتحان میں بیٹھنے اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ قانونی طور پر جرم ہے ،طالب علموں نے بات چیت کر کے معاملات حل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کوئی بھی ادھر بات سننے کو تیار نہیں ہے، 'نعمان ادریس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سمبڑیال ،سیالکوٹ' کی دو برانچیں ہیں ایک سیالکوٹ میں اور دوسری وزیر آباد روڈ سمبڑیال میں ہے دونوں کیمپس میں میمونہ نامی خاتون کا راج چلتا ہے جو گالی کے سوا کسی سے بات نہیں کرتی میمونہ نامی خاتون نہایت ہی لالچی ، بد زبان اور ظالم پرنسپل ہے وہ طالب علموں اور انکے والدین سے بدتمیزی سے بات کرتی ہیں اور گالیاں دیتی ہیں کیا یہ ایک ٹیچر کو زیب دیتا ہے کہ وہ گالیاں دیں، سیالکوٹ میں موجود پولیس ، اعلیٰ افسران اور دیگر ادارے بالکل خاموش ہیں ' پنجاب فارمیسی کونسل لاہور ' میں بھی طالب علموں نے بہت دفع شکایات درج کروائی ہیں لیکن ہر محکمہ اور ادارہ طالب علموں کی آواز سننے سے قاصر ہے پرائیویٹ سیکٹر ز پیسوں کے نام پر بچوں کا خون نچوڑ رہے ہیں جس سال کے وہ امتحانات دے رہے ہیں اس سال کے واجبات سب طالب علموں نے ادا کیے ہیں لیکن بچوں کو پھر میں پریکٹیکل کے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جارہی جو کہ قانونی طور پر جرم ہے اور ظلم ہے ،لیکن ہمارے ادارے خاموش ہیں ، خدارا میمونہ نامی خاتون اور اسکے ادارے سے بچوں کو انصاف دلایا جائے کیوں کے امتحان نہ ہونے کی وجہ نہ صرف بچوں کی گزشتہ فیسیں ضائع ہوئی ہیں بلکہ وقت بھی ضائع ہوا ہے.

رانا شمیم احمد خاں  MNA
02/06/2023

رانا شمیم احمد خاں MNA

Address

Sambrial City
Sambrial
51070

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sambrial سمبڑیال posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sambrial سمبڑیال:

Share