31/05/2026
ساہیوال کی عوام اور دیگر دوستوں کی کاوش اور بڑا کشت کاٹنے کے بعد کہیں جا کر پل کے نیچے بنے کوڑے کے پہاڑوں سے عوام کی جان چھوٹی تھی کہ اب ستھرا پنجاب کی ٹیم نے بھٹو نگر کے سامنے سے گزرنے والی نہروں کے کنارے گندگی ڈھیر لگا دئیے ہیں بجائے ان کے ساتھ سروس روڑ بہترین بناے جائیں لائٹس لگائی جائیں پورے شہر کا کنڈی کچرا نہر لوئرباری دوآب کے کنارے بھٹو نگر سے لیکر جہاز گراؤنڈ ماتو کالونی تک نہر کے کنارے اکٹھا کیا جا رہا ہے جناح لائیبریری کی دوسری جانب گند ہی گند پڑا ہے جب ہوا چلتی ہے تو بدبواور تفن زدہ ماحول سے سارے شہر کے لوگ متاثر ہوتے ہیں اور ان کا سانس بند ہوتا ہے
ساہیوال کا تاریخی نہری سروس روڈ جو بدحالی کا شکار ہو چکا ہے اس علاقہ کی عوام بدبو اور تعفن سے بیمار ہو چکی ہے ساہیوال کے میڈیا پرسن شہری ایسے فلاحی کاموں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں مگر شنوائی ہی نہیں ہوتی بیوروکریٹ تو ویسے ہی پردیسی ہوتے ہیں اس لیے وہ سامنے نظر آنے والی سڑکوں پر پوچا پاچی کرواتے ہیں اندرون شہر بربادیاں ہی بربادیاں ہیں کبھی گزر کر تو دیکھیں انسان کیسے بس رہا ہے ان آبادیوں کے اردگرد یہاں تو
ساہیوال اندرون بیرون دونوں طرف گندگی ہے اب آ جایئں افسران کی طرف جنہوں نے اپنا سوشل میڈیا بنایا ہوا ہے انہیں اس موقع پر بلائیں اور آشیانہ ہاوسنگ سکیم دس منٹ رات کو بیٹھائیں اور انہیں دعوت کھلائیں جب بدبو سے اٹھنے لگیں تو انہیں اٹھنے نہ دیں بتائیں کہ ہم روزانہ ادھر ہی رہتے ہیں اور یہی گھروں میں بیٹھ کے کھاتے پیتے ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب چیف سیکرٹری پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ اب تو ستھرا پنجاب کا ایم ڈی اے سی رینک کا بندہ بھی ساہیوال میں بیٹھتا ہے مگر کارکردگی زیرو عوام سراپا احتجاج ہیں