PyaaR Ki Baat Nahi Karna Ab Hum syy

PyaaR Ki Baat Nahi Karna Ab Hum syy Life Is Short, So Work hard and Move on His Own path INSHA ALLAH You will be on success...!

12/08/2022
14/07/2021

میں اِس لئے بھی محبت سے بچ کے رہتا ہوں
یہ لڑکیاں نہیں ہیں
دوست
یہ بلائیں ہیں.......... 🐒

14/07/2021

*فنا ہونے کی کسی سے اجازت لی نہیں جاتی* 😉✋🏿

*یہ محبت ہے محترمہ پوچھ کے کی نہیں جاتی* 😘

25/05/2020

حجاب آپکی شناخت چھپتا نہیں ظاہر کرتا ہے ک
آپ ایک با عزت خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان خاتون ہیں
Dear crush😊

25/05/2020

LOVE IS NOTHING WITHOUT EMOTIONS😊💔

06/05/2020

*روزے کا کفارہ اور فدیہ*

سوال:
روزے کے کفارہ کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے!

جواب:
وہ شخص جس میں روزہ فرض ہونے کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں، رمضان کے اُس اَدا روزے میں جس کی نیت صبح صادق سے پہلے کرچکا ہو عمداً روزہ توڑدے، یعنی بدن کے کسی جوف میں قدرتی یا مصنوعی منفذ (Opening) سے کوئی ایسی چیز پہنچائے جو انسان کی غذا یا دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہو یا ج**ع کرے یا کرائے ان تمام صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور روزے کی قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوگا، اور اس فعل پر توبہ واستغفار بھی کرنا لازم ہوگی۔

کفارے میں اس پر مسلسل ساٹھ روزے رکھنا ضروری ہوگا، اگر درمیان میں ایک روزہ بھی رہ جائے تو از سرِ نو رکھنا لازم ہوں گے، اگر اس کی قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار غلہ یا اس کی قیمت دینا لازم ہے ، ایک صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع (پونے دو کلو ) گندم یا اس کی قیمت ہے۔

ایک مسکین کو ساٹھ دن صدقہ فطر کے برابر غلہ وغیرہ دیتا رہے یا ایک ہی دن ساٹھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقہ فطر کی مقدار دےدے ، دونوں جائز ہے۔

صدقہ فطر کی مقدار غلہ یا قیمت دینے کے بجائے اگر ساٹھ مسکینوں کو ایک دن صبح وشام، یا ایک مسکین کو ساٹھ دن صبح وشام کھانا کھلادے، تو بھی کفارہ ادا ہوجائےگا۔

اور اگر آپ کی مراد روزے کے کفارے سے فدیہ ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے:

جو شخص بڑھاپے یا دائم المریض ہونے کی وجہ سے روزے رکھنے پر قادر نہ ہو اور نہ ہی مستقبل میں اس کی صحت کی کوئی امید ہو تو ایسے شخص کو ہر روزے کے بدلے میں پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت بطورِ فدیہ دینی ہوگی، لیکن اس کے بعد اگر صحت یاب ہو گیا تو دوبارہ روزے قضاکرنا ضروری ہوگا، اور جو رقم فدیے میں دی وہ صدقہ شمار ہوگی، عام بیماری جس میں صحت یابی کی امید ہو اس میں روزے کا فدیہ ادا کرنا درست نہیں ہے، اگر روزوں کی ادائیگی پر قدرت حاصل ہونے کے بعد کوئی شخص زندگی میں روزے ادا نہ کرے تو ایسے شخص پر موت سے پہلے وصیت کرنا لازم ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے مال میں سے میرے اوپر واجب الادا قضا روزوں کا فدیہ ادا کردیا جائے، اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ قضا روزے باقی ہوں تو اگر اس نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو تو ورثاء پر لازم ہوگا کہ اس کے ایک تہائی ترکہ میں سے فی روزہ ایک فدیہ ادا کریں، لیکن ایک تہائی سے زائد سے فدیہ ادا کرنا واجب نہیں ہوگا، اسی طرح اگر اس نے وصیت ہی نہ کی ہو تو بھی ورثاء پر فدیہ ادا کرنا لازم نہیں، البتہ ادا کرنے سے ادا ہوجائے گا اور میت پر بڑا احسان ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
نشریات:
*جامع مسجد سالکین و جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات*
محلہ سالکین، ملحقہ آبادی سیکٹر نمبر 2،کھلابٹ ٹاؤن شپ

06/05/2020

*تراویح میں مسبوق اپنی نماز کیسے مکمل کرے؟*

سوال:
تراویح میں اگر کسی کی ج**عت چھوٹ جائے تو وہ اپنی چھوٹی ہوئی رکعت کو کیسے مکمل کر ے؟

جواب:
صورتِ مسئولہ میں اگر مکمل تراویح رہ گئی ہو، تو صبح صادق سے پہلے پہلے تک انفرادی طور پر یا کسی فرد کو شامل کرکے باج**عت تراویح ادا کرلینی چاہیے، باج**عت ادا کرنا افضل ہے، تاہم اگر ممکن نہ ہو تو اکیلے ادا کرلے، ترک نہیں کرنا چاہیے۔

اگر کوئی رکعت نکل گئی ہو تو امام کے سلام کے بعد کھڑے ہوکر رہ گئی رکعت اسی طریقے پر مکمل کرلے جس طرح دیگر نمازوں میں ادا کی جاتی ہے، یعنی ایک رکعت رہ گئی ہو تو امام کے سلام کے بعد کھڑے ہوکر ثناء، تعوذ و تسمیہ پڑھ کر سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھے اور آخر میں قعدہ کرکے سلام پھیر دے، اور دو رکعت رہ گئی ہوں تو دونوں رکعتوں میں تلاوت کرکے آخر میں قعدہ کرکے سلام پھیر دے۔

اور تراویح کے دوران ج**عت میں شامل ہو، اور کچھ رکعت رہ گئی ہوں، اور اندازا یہ ہو کہ اگر چھوٹی ہوئی رکعات پڑھوں گا تو مزید رکعات چھوٹ جائیں گی، تو اگر عشاء کی فرض نماز اور سنتیں پڑھ چکا ہو تو آتے ہی تراویح میں شامل ہوجائے، اور فرض نہ پڑھے ہوں تو پہلے فرض پڑھے، پھر تراویح میں شامل ہوجائے، اور امام کے فارغ ہوجانے کے بعد چھوٹی ہوئی رکعات صبح صادق سے پہلے پہلے ادا کرلے۔ فقط واللہ اعلم
نشریات:
*جامع مسجد سالکین و جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات*
محلہ سالکین، ملحقہ آبادی سیکٹر نمبر 2،کھلابٹ ٹاؤن شپ ہری پور.

06/05/2020

💕 نابالغ بچیوں کا لباس کیسا ہونا چاہے ؟

💕 (والدین کے لئے ایک انتہائی اہم پیغام)
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

💕 اگر بچیوں کو بنایا سنوارا جائے زینت والے کپڑے پہنائے جائیں، بالوں کو پرکشش طریقے سے بنایا جائے، لپ اسٹک، سرمہ، کریم، رنگین اور خوشبودار پوڈر، ڈیزائنوں والی مہندی وغیرہ لگائی جائے تو انہیں پردہ بھی مکمل (عورتوں جیسا) کروایا جائے گا۔

💕 دور حاضر میں بچیوں کو بڑی عورتوں والے فیشن کرانا ایک عام رواج بن چکا ہے۔ عورتوں نے فتنوں کو خود اتنا بڑھا دیا ہے کہ الامان الحفیظ.

💫 جب مائیں بیوٹی پارلر سے تیار ہوکر آتی ہیں تو وہ اپنی سات سات آٹھ آٹھ سالہ بچیوں کو بھی وہیں سے تیار کرواتی ہیں یا بچیاں تیار ہونے کی ضد کرتی ہیں نتیجہ یہ کہ پانچ پانچ چھ چھ سال کی بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات رونما ہورہے ہیں. لہذا فتنوں سے بچنے کیلئے بچیوں کو سادہ اور ساتر(جسم کو مکمل چھپانے والا) لباس پہنانا چاہیے.

💕 وہ بچیاں جن کی عمر سات سال سے کم ہوتی ہے ان کیلئے نہ پردہ ہے نہ ستر لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں ننگا رکھا جائے یا دوسرے لوگوں کے سامنے انھیں کپڑے بدلوائے جائیں یا غیر اسلامی لباس کی عادت ڈالی جائے.
💕 بچی میں بچپن ہی سے حیا پیدا کرنے کیلئے اسے نہ تو دوسروں کے سامنے کپڑے بدلوائیں نہ نہلائیں، نہ ناف سے گھٹنوں تک کے حصے میں دوسروں کے سامنے دوا وغیرہ لگائیں تاکہ اسے یہ پتہ ہو کہ اس جگہ کو دوسروں کے سامنے ننگا کرنا بری بات ہے.

💕 بچیوں کے کپڑوں میں بھی یہ خیال رکھا جائے کہ جاندار، کی تصویر نہ ہو، غیر مسلموں کے کسی شعار(مذہب کی کھلی نشانی) کی تصویر نہ ہو، لڑکوں جیسا لڑکی کا لباس نہ ہو. یاد رہے کہ بچی خود مکلف وذمہ دار نہیں ہے لیکن والدین مکلف وذمہ دار ہیں لھذا اگر وہ غیر اسلامی غیر شرعی نامکل چست لباس بچی کو پہناتے ہیں تو ان سے رب کریم اس کا مواخذہ پکڑ بھی کرے گا۔

💕 آج کل بچیوں کو فلموں، ڈراموں والے نامکمل چست فیشن والے لباس پہنائے جاتے ہیں جوکہ معاشرے سماج میں بچیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی زیادتی کے اسباب میں سے شمار ہوتا ہے. جب بچیوں میں بچپنے سے ہی اس طرح کے لباس کی عادت دلوائیں گے تو بڑے ہوکر ہرگز مہذب شریفانہ اسلامی لباس پہننے کو تیار نہیں ہونگے. اگر آپکو اپنی بچیوں سے محبت ہے تو انکی بچپنے سے ہی انکو مغربی ویسٹرن لباس سے دور رکھیں، قمیض شلوار پہننے کی عادت اور کم از کم سر مکمل ڈھانپنے کی عادت ڈالیں، تاکہ بھیڑیوں سے محفوظ رہنے کا سبب بن سکے. محبت کا یہ ثبوت ہرگز نہیں کہ آپ بیٹی کی پرورش نامکمل چست مہنگےلباس پہنا کر کرتے رہیں اور اسکی یہ عادت بعد میں آپ کو قبر میں ڈستی رہے.

💕 ہوسکے تو مکمل شرعی حجاب کی عادت ڈالیئے، اگر اتنا ممکن نہیں ہوسکتا تو بچپن سے ہی ڈھیلےشلوار قمیض اور چادر پہننے کی عادت ڈلوائیں، اور بےپردگی ننگے سر پھرنے،باہر نکلنے کے خطرات سے آگاہ بھی کرتے رہیں.
💕اگر ایک گھرانہ آج ان باتوں پر عمل کرے گا تو یہ نسل در نسل چلتا رہے گا اور ایک مہذب شریف مومنہ بیٹی، بیوی، ماں پیدا ہوتی جائیگی جوکہ صدقہ جاریہ شمار ہوگا. اور تاقیامت اہتمام کرنے والے کی قبر پر یہ عمل رحمت بن کے برستا رہیگا...

اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین
💫💫💫💫💫💫💫

Crush😊
05/05/2020

Crush😊

Admin
05/05/2020

Admin

Address

Bedil Beckus Mohallah Rohri
Rohri

Telephone

+923088246202

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PyaaR Ki Baat Nahi Karna Ab Hum syy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to PyaaR Ki Baat Nahi Karna Ab Hum syy:

Share

Category