10/09/2026
شرافت نام میں ۔۔۔
جرأت کردار میں ۔۔۔
بکری کا دودھ ۔۔۔ تھانے کا کھانا اور حلال رزق
قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ کر دینے والے سابق ایس ایچ او تھانہ سٹی جلالپور جٹاں، مولوی شریف کی ایمان افروز داستان !!!
آج دوپہر تقریباً سوا بارہ بجے اچانک موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف ایک بارعب مگر شائستہ آواز تھی۔ موصوف میڈیا سے وابستہ ہمارے ایک دوست سے بات کرنا چاہتے تھے۔ مگر ان کے پاس نمبر موجود نہیں تھا۔ ایک دو لوگوں سے نمبر حاصل کرنے کی کوشش کی تو میرا نمبر انہیں دے دیا گیا۔ یوں ایک اچانک آنے والی فون کال نے ماضی کے ایک ایسے کردار سے ملاقات کرا دی۔ جس کا ذکر میں نے برسوں سے اپنے دوستوں اور اہلِ علاقہ کی زبان سے سن رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ مولوی شریف صاحب 2008ء میں تھانہ سٹی جلالپور جٹاں میں بطور ایس ایچ او تعینات رہے تھے۔ اُس زمانے میں اگرچہ میں باقاعدہ طور پر میڈیا کا حصہ نہیں تھا۔ مگر ان کے بارے میں بہت کچھ سن چکا تھا۔ انتہائی پابندِ صوم و صلوٰۃ، دیانت دار، اصول پسند، فرض شناس اور ساتھ ہی غیر معمولی جرأت و بہادری رکھنے والے پولیس افسر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گفتگو مختصر تعارف سے شروع ہوئی اور پھر نہ جانے کیسے ایک طویل، دل نشیں اور یادگار گفتگو میں بدل گئی۔ وہ اپنے ماضی کے واقعات سناتے رہے اور میں حیرت سے سنتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتانے لگے کہ ڈنگہ ہو، گجرات ہو، جلالپور جٹاں ہو یا ضلع کے کسی اور علاقے میں تعیناتی وہ اپنی ایک بکری ساتھ رکھتے تھے اور اسی کا دودھ استعمال کرتے۔ اچار ساتھ ہوتا۔ کھانے میں سادگی ایسی کہ تھانے میں خود کھانا پکا لیتے۔ ہوٹلوں کے کھانے اور غیر ضروری تکلفات سے حتیٰ الامکان دور رہتے۔
جلالپور جٹاں اور ضلع کے دیگر علاقوں میں تعیناتی کے دوران ان کا ایک اور منفرد پہلو بھی لوگوں کی یادوں میں محفوظ ہے۔ وہ ناکوں پر آنے والے شہریوں سے اکثر کلمے اور دعائیں سنا کرتے۔ خود بھی انہیں دعائیں یاد کرواتے اور نماز کی تلقین کرتے۔ حتیٰ کہ بعض لوگ تھانے میں کسی ملزم کی سفارش لے کر آتے تو مولوی شریف صاحب انہیں نماز، دعا اور اللہ سے تعلق کی بات سمجھا کر رخصت کر دیتے۔ ان کے نزدیک کسی کی سفارش، اثر و رسوخ یا تعلق قانون اور میرٹ سے بالاتر نہیں تھا۔ جو حق دار ہوتا، اس کا کام میرٹ پر کرتے اور جو حق دار نہ ہوتا اسے کسی سفارش کے باوجود رعایت نہ دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مرتبہ کسی شخص نے ان کی بکری کے لیے چارہ لا کر دیا۔ انہوں نے پوچھا یہ کس لیے ۔۔۔ ؟؟؟ جواب ملا کہ بکری کے لیے ہے۔ فوراً فرمایا کہیں یہ میری بکری کے لیے چارے کی صورت میں رشوت تو نہیں ۔۔۔ ؟؟؟
سامنے والے نے بہت اصرار کیا کہ ایسا کچھ نہیں۔ مگر ان کا ضمیر مطمئن نہ ہوا۔ انہوں نے اس روز بکری کا دودھ نہیں پیا وہ دودھ اسی شخص کو دے دیا اور کہا کہ آج میں یہ دودھ استعمال نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور واقعہ بھی سنایا کہ ایک بڑے تھانے کی حدود میں اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا۔ حالات ایسے تھے کہ اگر ملزمان مزاحمت کرتے تو مقابلے کا جواز پیدا ہو سکتا تھا۔ مگر انہوں نے ہاتھ اوپر کر کے خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔ مولوی شریف صاحب نے انہیں گرفتار کر لیا اور صاف کہا کہ اب ان کے بارے میں فیصلہ عدالت کرے گی۔
اس موقع پر مختلف ذرائع سے معاملات کو کسی اور رخ پر لے جانے کی کوششیں ہوئیں حتیٰ کہ مخالف فریق کی طرف سے ماورائے عدالت کاروائی کیلئے انتہائی پرکشش رقم کی پیشکش بھی کی گئی مگر انہوں نے اسے ٹھکرا دیا۔ ان کا موقف تھا
انہوں نے ہمارے ساتھ مقابلہ نہیں کیا ہاتھ اوپر کر دیے ہیں۔ میں انہیں جعلی مقابلے میں نہیں ماروں گا۔ عدالت ان کے بارے میں فیصلہ کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ان کے واقعات سنتا رہا اور دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوتی گئی۔ آخر میں میں نے بے اختیار ان سے کہا
مولوی شریف صاحب ۔۔۔ آپ کے دور کی یہ مثالیں اور آپ کی یہ باتیں تو قرونِ اولیٰ کے اُن مسلمانوں کی یاد تازہ کر رہی ہیں۔ جن کے لیے دیانت صرف ایک لفظ نہیں بلکہ زندگی کا اصول تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاید میرے یہ الفاظ سیدھے ان کے ❤️ دل میں اتر گئے۔ دوسری طرف چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر ان کی آواز بھرا گئی۔ لہجے میں نمی اتر آئی اور گفتگو ایک ایسی کیفیت میں بدل گئی جس سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ آبدیدہ ہو چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرونِ اولیٰ کا ذکر شاید ان کے اندر سوئی ہوئی کسی یاد کو جگا گیا تھا۔ اس لمحے فون پر صرف دو آدمی گفتگو نہیں کر رہے تھے؛ جیسے کردار، ایمان اور گزرا ہوا ایک زمانہ ایک دوسرے سے ہم کلام ہو گئے ہوں۔
ان کا نام مولوی شریف تھا اور سچی بات یہ ہے کہ وہ اپنے نام کی طرح شریف بھی تھے۔ مگر اس شرافت میں کمزوری نہیں بلکہ ایک عجیب سی جرأت، استقامت اور باوقار رعب بھی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے لوگ شاید بظاہر پولیس کی وردی پہنتے ہیں۔ مگر حقیقت میں وہ اپنے کردار کی وردی پہنتے ہیں۔ وقت گزرتا ہے عہدے ختم ہو جاتے ہیں وردیاں اتر جاتی ہیں سرکاری گاڑیاں واپس ہو جاتی ہیں مگر کردار کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ دیانت کبھی ریٹائر نہیں ہوتی۔ اصول کبھی ریٹائر نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج مولوی شریف صاحب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر ان کی یہ " آپ بیتیاں " سن کر مجھے محسوس ہوا کہ پولیس کے محکمے کی اصل عزت انہی کرداروں سے بنتی ہے۔ ایسے افسر کسی ادارے کا محض حصہ نہیں ہوتے وہ اس ادارے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور سچی بات ہے یہ اچانک آنے والی فون کال میرے لیے محض ایک تعارف نہیں تھی۔ یہ ایک ایمان افروز ٹیلیفونک ملاقات ایک یادگار احساس اور کردار کی ایک ایسی روشن داستان تھی جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ وردی پہننے والے بہت ہوتے ہیں۔ مگر وردی کو عزت دینے والے کردار والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے لوگوں پر صرف فخر نہیں کیا جاتا ۔۔۔
ایسے لوگوں پر ناز کیا جاتا ہے ۔۔۔
شاھد عزیر
ایکسپریس نیوز
صدر پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کری ایٹرز پنجاب شمالی