21/05/2026
سیٹلائٹ ٹاؤن مکان تنازع: ایم پی اے ضیاء اللہ شاہ کا دو ٹوک موقف سامنے آ گیا
راولپنڈی: سیٹلائٹ ٹاؤن، ای بلاک میں واقع ایک گھر پر مبینہ قبضے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل خبروں پر حلقے کے ایم پی اے ضیاء اللہ شاہ نے اپنا تفصیلی موقف جاری کرتے ہوئے تمام الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔
حقائق اور دستاویزی ثبوت:
قانونی خریداری: ضیاء اللہ شاہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سیٹلائٹ ٹاؤن ای بلاک کا یہ گھر 4 کروڑ 25 لاکھ روپے کی خطیر رقم کے عوض باقاعدہ خریدا ہے، جس کی مکمل اور قانونی دستاویزات ان کے پاس موجود ہیں۔
پراپرٹی کا تبادلہ: انہوں نے واشگاف الفاظ میں بتایا کہ ارسلان حمید نامی شخص نے یہ گھر ایاز نامی شہری سے خریدا تھا، اور بعد ازاں ارسلان حمید نے اس پراپرٹی کے بدلے ایک دوسرا گھر اور 2 کروڑ روپے نقد وصول کیے تھے۔
آر ڈی اے (RDA) میں منتقلی کا کیس: مالکِ مکان ایاز نے راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) میں یہ گھر میرے نام منتقل کرنے کی باضابطہ درخواست دائر کر رکھی ہے۔ تاہم، ٹرانسفر کے حتمی وقت پر ایاز آر ڈی اے میں پیش ہونے کے بجائے فرار ہو گیا۔
قبضے کی اصل کوشش اور عدالتی حکم:
مبینہ قبضے کی ناکام کوشش: ضیاء اللہ شاہ نے انکشاف کیا کہ دو روز قبل ایاز نے خود اس گھر پر غیر قانونی قبضے کی کوشش کی تھی، جسے وہاں موجود میرے آدمیوں نے بروقت مداخلت کر کے ناکام بنا دیا۔
عدالتی حکمِ امتناع (Stay Order): اس جائیداد کے معاملے پر سول کورٹ سے پہلے ہی باقاعدہ اسٹے آرڈر لے رکھا ہے، اس لیے کوئی بھی غیر قانونی اقدام قانون کی خلاف ورزی ہے۔
سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش:
ایم پی اے ضیاء اللہ شاہ نے مزید کہا کہ الزام تراشی کرنے والے کردار "ارسلان حمید" پر پہلے ہی درجنوں ایف آئی آرز (FIRs) درج ہیں اور وہ ایک نامی گرامی نادہندہ ہے۔ دو دن قبل سوشل میڈیا پر اچھالا جانے والا ڈرامہ محض ایک سیاسی سازش ہے جس کا مقصد میری عوامی اور سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ گھر قانونی طور پر میری ملکیت ہے اور میں ہر فورم پر اپنے دستاویزی ثبوت پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔