Jk NSF ALI SOJAL Branch√

Jk NSF ALI SOJAL Branch√ The struggle

پٹرول کی قیمت میں بے جا اضافہ فی الفور واپس لیا جائے، بدر رفیقراولاکوٹ (بیورو رپورٹ) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے...
04/04/2026

پٹرول کی قیمت میں بے جا اضافہ فی الفور واپس لیا جائے، بدر رفیق

راولاکوٹ (بیورو رپورٹ) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر بدر رفیق نے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں یکمشت انتہائی اضافہ پہلے سے مہنگائی کا شکار عوام کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔ مرکزی صدر این ایس ایف کا میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہنا تھا کہ ایک طرف وزیراعظم، وزراء ص مشیران سمیت حکومتی نمائندگان کو سرکاری خزانے سے لا محدود فیول کی فراہمی اور دوسری جانب عوام پر اتنا بڑا بوجھ حکمرانوں کے دوہرے معیار اور عوام دشمن پالیسیوں کا ثبوت ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ بدر رفیق کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی نمائندگان کے مفت پٹرول میں کٹوتی کرتے ہوئے عوام کو فی الفور ریلیف مہیا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پٹرول کی قیمت میں بے جا اضافہ فی الفور واپس نا لیا گیا تو جموں کشمیر بھر میں بھرپور احتجاجی مہم کا آغاز کیا جائے گا ۔




راولاکوٹ مرکزی سیکرٹری ایٹ میں این ایس ایف اور پی آر ایف کا مشترکہ اجلاس!پٹرول کی قیمتوں میں بے جا اضافہ واپس لینے کا مط...
04/04/2026

راولاکوٹ
مرکزی سیکرٹری ایٹ میں این ایس ایف اور پی آر ایف کا مشترکہ اجلاس!
پٹرول کی قیمتوں میں بے جا اضافہ واپس لینے کا مطالبہ!
بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند، جموں کشمیر کو لوڈ شیڈنگ فری زون قرار دیا جائے۔
ہیلتھ ورکرز کی جاری احتجاجی تحریک کی حمایت، ملازمین کے جائز مطالبات کو منظور کیا جائے

مرکزی صدر این ایس ایف بدر رفیق، پی آر ایف کے مرکزی آرگنائزر راشد شیخ ، بشارت علی خان، ابرار لطیف، ارسلان شانی، آصف رشید و دیگر کا خطاب!

19/03/2026

محکمہ صحت کے محنت کشوں کا عید بھی سڑکوں پر منانے کا اعلان۔ التمش تصدق

راولا کوٹ( مزدور نامہ) آزاد کشمیر میں محکمہ صحت کے محنت کش مرد و خواتین ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے پرامن احتجاج پر ہیں لیکن حکمران طبقہ حسب روایت بے ہسی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محنت کشوں کو انتہائی اقدام پرمجبور کر رہا ہے جس سے اس خطے کے لاکھوں عوام کو مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔محکمہ صحت کے محنت کشوں نے عوام مشکلات کے پیش نظر 2 گھنٹے کی علامتی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن کی قیادت کا کہنا ہے اگر حکمرانوں کا یہی رویہ رہا تو ہم مکمل کام چھوڑ ہڑتال پرمجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر ہو گی۔رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں آزاد کشمیر کے تمام شہروں میں ہزاروں محنت کش مرد و خواتین ہر جمعے کو محنت کش کے عالمی پہچان سرخ پرچم اور محنت کشوں کے عالمی اتحاد کے پیغام " دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ"کے بینر کے ساتھ سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ملازمین نے حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے اس مرتبہ عید بھی سڑکوں پر منانے کا اعلان کیا ہے۔نظام زر میں مہنگائی کے اس طوفان میں محنت کشوں کے نصیب میں مذہبی اور ثقافتی تہواروں کی خوشیاں بھی نہیں ہیں۔

محکمہ صحت کے محنت کشوں کا کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہے جو منِظور نہ کیا جا سکے لیکن حکمران اس وقت تک محنت کشوں کا کوئی مسلہ حل نہیں کرتے جب تک احتجاج کے ذریعے بزور طاقت حکمرانوں کو محبور نا کیا جائے۔دن رات محنت کے ذریعے لاکھوں زندگیاں بچانے والے محنت کش خود زندہ رہنے کے بنیادی وسائل سے محروم ہیں۔لیڈیز ہیلتھ ورکرز جنہوں نے محدود وسائل اور ناکافی سہولیات کے باجود آزد کشمیر کو پولیو جیسے مرض سے پاک کر کے بچوں کو عمر بھر کی معزوری اور محتاجی سے بچایا ہے۔حکمران ان ہیلتھ ورکرز کو بڑھاپے میں بے سہارا چھوڑ رہے ہیں ان کے پاس پینشن کا حق نہیں ہے۔عمر بھر عوامی خدمت کے بعد وہ جب کام کے قابل نہیں رہتی وہ اپنے لیے خوراک اور ادویات تک نہیں خرید سکتے، دوسری طرف کروڑ پتی فرد ایک مرتبہ ایم ایل اے منتخب ہونے کے بعد تاحیات پنشن لیتا ہے۔اسی طرح ایم این سی ایچ پروگرام کے محنت کش ہیں جنہوں نے کرونا وبا کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر بے شمار زندگیاں بچائی ہیں انہیں مستقل ملازمت کا حق نہیں دیا جا رہا ہے۔

ہیلتھ ایمپلائز فیڈیشن کے مطالبات میں لیڈیز ہیلتھ ورکرز کو پینشن کا حق، ایم این سی ایچ ملازمین کی مستقلی، تمام ہیلتھ ملازمین اسکیل 1 تا 20 کے لیے رننگ بیسک پے کے سو فیصد کے برابر ہیلتھ الاؤنس کی منظوری یا ڈسپیئرٹی ریڈکشن الاؤئنس جاری کرنے کا نوٹیفکیشن ۔سروس سٹرکچر کی منظوری، ٹریننگ پالیسی کا نوٹیفکیشن،پاکستان کی طرز پر جی پی ایف پر منافع، ٹیکنالوجی ملازمین کی پروموشنز،ایم فل، پی ایچ ڈی الاؤنس، سپیشل ہیلتھ کیئر الاؤنس۔یہ ایسے مطالبات ہیں جو ملازمین کا بنیادی حقوق میں شمار ہوتے ہیں۔آزاد کشمیر کے ملازمین نہ صرف بنیادی معاشی حقوق سے محروم ہیں بلکہ بنیادی سیاسی جمہوری حقوق سے بھی محروم ہیں۔حکمرانوں نے ایکٹ 2016 اور ارڈیننس 2023 کے تحت ملازمین کو یونین سازی جیسے بنیادی جمہوری حق سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔اس کے علاوہ ملازمین کی سیاست اور انتخابات کے جمہوری عمل میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے بلکہ ملازمت کے حصول کے لیے مخصوص سیاسی نِظریے کی شرائط موجود ہیں جو غیر جمہوری اور غیر انسانی عمل ہے۔

محنت کش عوام کی تحریکوں کی اہمیت محض فوری مسائل کے حل تک محدود نہیں ہوتی بلکہ محنت کش اس عمل میں وہ طبقاتی شعور حاصل کرتے ہیں جو اس نظام کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کے طرف محنت کشوں کو لے جاتا ہے۔محنت کشوں کی حتمی نجات ان کے فوری مطالبات کی منظوری میں نہیں بلکہ محنت کشوں کے روز بروز بڑھتے ہوئے اتحاد میں ہے۔محکمہ صحت کے محنت کش آج وہ سرخ پرچم آزاد کشمیر بھر میں لہرا رہے ہیں جسے شکاگو کے مزدورں نے اپنے لہو سے سرخ کیا تھا اور ان کے بینر میں دنیا بھر کے محنت کشوں کی اس نظام سے نجات کا پیغام" دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ" درج ہے۔حکمران طبقے نے اگر ملازمین کے مطالبات فوری طور پر منظور نہ کیے تو یہ تحریک صرف محکمہ صحت کے ملازمین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ تحریک نہ صرف آزاد کشمیر کے دیگر محکموں کو اپنی لپیٹ میں لے گی بلکہ پاکستان کے ملازمین پر بھی اثرات مرتب کرے گی جو آئی ایم ایف کے بدترین معاشی جبر کا شکار ہیں۔

علی سوجلامریکہ اور اسرائیل کی طرف سے فلسطین و ایرانی عوام پر سامراجی جارحیت کے خلاف احتجاجی ریلی و جلسہ عام!مرکزی صدر بد...
13/03/2026

علی سوجل
امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے فلسطین و ایرانی عوام پر سامراجی جارحیت کے خلاف احتجاجی ریلی و جلسہ عام!

مرکزی صدر بدر رفیق، سابق صدر بشارت علی خان، سیکرٹری جنرل ارسلان شانی، نو منتخب چیئرمین سٹی یونٹ علی سوجل ، سابق ممبر سی سی واجد خان، سابق ڈپٹی ایڈیٹر سہیل اسماعیل، پی جی سی کالج ہجیرہ کے آرگنائزر شرجیل شاہ و دیگر نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا۔

علی سوجلمرکزی سیکرٹری جنرل ارسلان شانی نو منتخب سٹی یونٹ علی سوجل کے عہدیداران سے حلف لے رہے ہیں۔چیئرمین: فیضان خاننائب ...
13/03/2026

علی سوجل
مرکزی سیکرٹری جنرل ارسلان شانی نو منتخب سٹی یونٹ علی سوجل کے عہدیداران سے حلف لے رہے ہیں۔
چیئرمین: فیضان خان
نائب چیئرمین: سمیع رحیم داد
جنرل سیکرٹری: امان شوکت
ڈپٹی جنرل سیکرٹری: حماد خان
آرگنائزر: حارث منشاء
ڈپٹی آرگنائزر: عمیر منظور
جوائنٹ سیکرٹری: مصیب عقیل
فنانس سیکرٹری: کامریڈ بلال
ڈپٹی فنانس سیکرٹری: عبداللہ
میڈیا سیکرٹری: خیام روشن
انچارج سٹڈی سرکل: ارباب حمید

ہم امید کرتے ہیں کہ نو منتخب یونٹ تنظیم کی تعمیر میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔
علم جدوجہد فتح

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن علی سوجل سٹی یونٹ کے زیرِ اہتمام بروز جمعہ 23 رمضان المبارک 13 مارچ علی سوجل بازار میں ...
12/03/2026

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن علی سوجل سٹی یونٹ کے زیرِ اہتمام بروز جمعہ 23 رمضان المبارک 13 مارچ علی سوجل بازار میں افطار ڈنر کا انعقاد کیا گیا ہے افطار ڈنر کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا تمام احباب سے شرکت کی اپیل ۔۔۔۔🚩
Long live JKNSF 🚩

Join Us 🚩
08/03/2026

Join Us 🚩

علی سوجل:جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کے زیرِ اہتمام امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مظلوم ایرانی عوام پر ہونے...
06/03/2026

علی سوجل:
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کے زیرِ اہتمام امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مظلوم ایرانی عوام پر ہونے والی سامراجی جارحیت کے خلاف ایک اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں جے کے این ایس ایف کے مرکزی صدر بدر رفیق نے خصوصی شرکت کی۔

اجلاس کے دوران عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور امریکہ و اسرائیل کی جنگی پالیسیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سامراجی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں جھونک کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتی ہیں، جس کے خلاف عالمی سطح پر مزاحمت کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔

اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ 23 رمضان کو علی سوجل کے مقام پر امریکہ اور اسرائیل کی سامراجی جارحیت کے خلاف اور ایران کے محنت کش عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کے لیے بھرپور احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جائے گا۔






پریس ریلیز لاہور، 3 مارچ 2026ء جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF)، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC)، ریولو...
03/03/2026

پریس ریلیز
لاہور، 3 مارچ 2026ء

جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF)، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC)، ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ (RSF) اور پیپلز ریولوشنری فرنٹ (PRF) کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کراس بارڈر دہشت گردی کے معاملے کو لے کے پاک افغان تنازعے کا ایک براہِ راست جنگ کی صورت میں بھڑک جانا کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ جس کا شکار ایک بار پھر ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف کے غریب عوام (بالخصوص پشتون آبادیاں) ہی بنیں گے۔ یہ صورتحال ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے امریکی سامراج، خلیجی بادشاہتوں اور علاقائی ریاستوں بشمول پاکستان کی دہائیوں پر مبنی پالیسیاں کارفرما ہیں جنہوں نے حالات کو اس نازک موڑ پر پہنچایا ہے۔

افغانستان کے ثور انقلاب کو کچلنے کے لئے ڈالر جہاد کے آغاز سے لے کر نام نہاد تذویراتی گہرائی کی پالیسی ساز تک‘ ان مسلح بنیاد پرست گروہوں ( جو طالبان کے مختلف دھڑوں اور داعش وغیرہ سمیت کئی شکلوں اور ناموں سے آپریٹ کرتے ہیں) کو سامراجی پراکسیوں کے طور پر پروان چڑھایا اور استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بھرتیوں اور فنڈنگ کے لئے سینکڑوں ہزاروں مدرسوں کا نیٹ ورک بھی بچھایا گیا، نام نہاد پرامن ’’سیاسی‘‘ یا تبلیغی بنیاد پرست گروہوں کی سہولت کاری بھی کی گئی اور امریکی سی آئی اے کے تعاون سے منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ کا کالا دھندہ بھی شروع کیا گیا۔ کروڑوں نوجوانوں پر مشتمل آبادیوں میں پھیلی وسیع پیمانے کی بیروزگاری، غربت، بیگانگی اور پھر تعلیمی اداروں اور میڈیا وغیرہ کے ذریعے رجعتی سوچوں اور نظریات کی یلغار نے بھی اس سامراجی پراجیکٹ کے لئے سازگار ماحول پیدا کیا۔ یہ وہ تلخ تاریخی حقائق ہیں جن پر ہمیشہ پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن آج نہ صرف امریکہ اور پاکستان کے اہم ریاستی نمائندے بلکہ مولانا فضل الرحمان جیسے لوگ بھی انہیں تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اگست 2021ء میں طالبان کے کابل پر قبضے پر شادیانے بجا رہے تھے۔

لیکن وقت کے ساتھ یہ سارا عمل ایک نسبتاً آزادانہ منطق اختیار کرتا گیا ہے اور یہ جہادی گروہ نہ صرف عددی ہجم، عسکری صلاحیتوں اور مالیاتی طاقت بلکہ تعداد میں بھی بڑھ کے اپنے پرانے آقاؤں کے کنٹرول سے باہر ہوتے گئے ہیں۔جبکہ بھارت، چین، ترکی اور متحدہ عرب امارات وغیرہ جیسی نئی سامراجی قوتوں کی شمولیت سے نئے دور کی یہ ’گریٹ گیم‘ مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ امریکی سامراج اور اس کے حواریوں کی جانب سے بیس سالوں تک افغانستان میں کشت و خون کرنے کے بعد بڑی تعداد میں جدید ترین اسلحہ چھوڑ کر راتوں رات بھاگ جانے سے نہ صرف طالبان بلکہ دوسرے بنیاد پرست گروہوں کے حوصلے بڑھے ہیں، انہوں نے زیادہ خودمختار حیثیت حاصل کی ہے اور انہیں آپریٹ کرنے کا نسبتاً آزاد اور موافق ماحول میسر آیا ہے۔ طالبان نے کابل پر قبضے کے بعد نہ صرف افغان عوام (بالخصوص خواتین) پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں اور افغانستان کو واپس پتھر کے دور میں لے جانے پر بضد ہیں۔ بلکہ ان سے جڑے ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ ان دہشت گردانہ حملوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں (جن میں سے بیشتر کا تعلق غریب محنت کش گھرانوں سے ہوتا ہے) کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی بڑی تعداد میں مارے جا رہے ہیں۔

نہ صرف پچھلی تقریباً ڈیڑھ دہائی کے تجربات بلکہ ان دہشت گرد گروہوں کی ذہنیت، طریقہ کار اور معیشت سے معمولی واقفیت بھی واضح کر دیتی ہے کہ ان سے کسی قسم کی مذاکرات یا مفاہمت ناممکن ہے۔ ماضی قریب تک ریاست کے کچھ دھڑے اور جماعت اسلامی اور عمران خان خان وغیرہ جیسے بنیاد پرست رجحات ایسے گروہوں سے ’’مذاکرات‘‘ کا جو اصرار یا کھلواڑ کرتے رہے ہیں وہ ان کی سہولت کاری اور انہیں مزید شہ دینے کے مترادف تھا۔ حالات کو اس نہج تک لانے میں مذاکرات کے نام پر جان بوجھ کر پھیلائی گئی اس کنفیوژن اور پھر ’’گڈ‘‘ا ور ’’بیڈ‘‘ طالبان کی پالیسیوں کا بھی کردار ہے۔ اسی تذبذب، دوغلی پالیسیوں اور مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کی بجائے جزوی کانٹ چھانٹ کی سوچ کے نتیجے میں ہی قبائلی عوام اور سکیورٹی فورسز کے بھاری جانی و مالی نقصانات کے باوجود فوجی آپریشنوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکا اور حالات پہلے سے بھی بدتر ہو گئے ہیں۔ لیکن دوسری طرف (سرکاری سوچ اور لبرل خوش فہمیوں کے برعکس) ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو محض عسکری طریقوں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک خطے کے وسیع تر عوام کی شمولیت سے نہ صرف ایسے مسلح مذہبی جنونی گروہوں بلکہ ہر قسم کی بنیاد پرستی کے خلاف ایک دیوہیکل سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی جنگ نہیں لڑی جاتی‘ یہاں کوئی دوررس امن اور استحکام ممکن نہیں ہے۔ اس حوالے سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:

﴾ سٹریٹجک ڈیپتھ (تذویراتی گہرائی) اور اس سے جڑی گڈ ‘ بیڈ طالبان اور پراکسی گروہ یا ’’اثاثے‘‘ بنانے کی پالیسیاں ترک کی جائیں۔

﴾ نہ صرف مغربی سرحد بلکہ کشمیر سمیت ملک کے دوسرے حصوں اور زیر انتظام علاقوں میں بھی ایسے ’جہادی‘ گروہوں کی پشت پناہی یا بالواسطہ سہولت کاری بند کی جائے۔ نیز ان گروہوں کی فنڈنگ کے نیٹ ورکس، نام نہاد عطیات اور چندوں، (جائز و ناجائز) کاروباری سرگرمیوں اور اغوائے برائے تاوان، منشیات، کرائے کی قتل و غارت اور بھتہ خوری جیسے سنگین جرائم کا قلع قمع کیا جائے۔

﴾ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ہر سطح پر مقامی عوام کی منتخب کردہ پنچایتوں/جرگوں کے ذریعے نظم و نسق اور دفاع کا نظام وضع کیا جائے۔ طلبہ، محنت کشوں اور وسیع تر عوام کے کنٹرول اور شمولیت پر مبنی مسلح ڈیفنس کمیٹیوں کے ذریعے ہی فسادی، فسطائی اور دہشت گرد عناصر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور انہیں شکست دی جا سکتی ہے۔

﴾ متاثرہ علاقوں میں گراس روٹ سطح کے عوامی نمائندوں (اور بوقت ضرورت دوسری غیر متنازعہ اور قابل اعتماد شخصیات) کی شمولیت سے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کی تحقیقات اور اندرونِ ملک دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ ماورائے عدالت کاروائیوں اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کو عدالتوں کے ذریعے سزائیں دلوائی جائیں۔ اس سلسلے میں سست روی، پیچیدگیوں اور رکاوٹوں کو دور کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

﴾ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کا افغانستان کی سلامتی یا خود مختاری سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ بلکہ یہ سامراج کی طرف سے افغان عوام پر مسلط کردہ ایک جنونی‘ فسطائی اور قبضہ گیر گروہ ہے۔ جو خود افغانستان کی سلامتی اور جڑت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اس حوالے سے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پنجاب سمیت پاکستان بھر کے محنت کشوں، طلبہ اور ترقی پسند سوچ رکھنے والے سیاسی کارکنان کا فریضہ ہے کہ وہ طالبان نامی عفریت کے خلاف افغان عوام کی جدوجہد کو ہر ممکنہ ہمدردی، یکجہتی اور سیاسی حمایت دیں۔

﴾ ملک کے طول و عرض میں پھیلے دسیوں ہزار مدرسے بنیاد پرستی کی فیکٹریوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں جہاں غریب طبقات کے بے سہارا بچوں کو ہر قسم کے ابیوز کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور دہشت گردی کے خام مال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے۔ جس نے ریاست کی سہولت کاری کے ساتھ ساتھ بنیادی ذمہ داریوں سے اس کے فرار سے جنم لیا ہے۔ جب تک ان مدرسوں کو قومی تحویل میں لے کے جدید نظام تعلیم سے آراستہ نہیں کیا جاتا ‘ بنیاد پرستی اور اس سے جڑے ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

﴾ اسی طرح مذہبی جنون، دہشت گردی اور تشدد کی معروضی بنیادوں یا سماجی حالات کا معاملہ ہے۔ جو غربت، بیروزگاری، مایوسی اور بیگانگی سے جنم لیتے ہیں۔ پاکستان میں نیولبرل ماڈل سمیت سرمایہ داری کی ہر شکل ناکام و نامراد ہو چکی ہے۔ جس کے نتیجے میں مہنگائی و معاشی تنگی بڑھ رہی ہے اور باعزت روزگار اور تعلیم و علاج کے مواقع مسلسل سکڑ رہے ہیں۔ یہی وہ مسائل ہیں جو بہت سے نوجوانوں کو منشیات ‘ جرائم یا سماجی و معاشی سہارے کے لئے بنیاد پرست رجحانات کی طرف مائل کر دیتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے نجکاری، آسٹیریٹی، قرضوں کے گھن چکر اور مزدور دشمن قوانین کے نفاذ پر مبنی سامراجی نیو لبرل پالیسیاں ترک کی جائیں اور ریاست‘ٹھوس معاشی منصوبہ بندی کے ذریعے بنیادی انسانی حق کے طور پر تعلیم، علاج، رہائش اور روزگار کی ذمہ داری قبول کرے۔

﴾ ایسی تمام سیاسی و غیر سیاسی تنظیمیں، ادارے اور مراکز جو بالواسطہ یا براہِ راست مذہبی بنیاد پرستی، جنون اور تشدد کو ہوا دیتے ہیں (اور بیشتر صورتوں میں مسلح دہشت گرد گروہوں کی نرسریوں کا کردار ادا کرتے ہیں)، کی سرکاری پشت پناہی بند کی جائے، ان کے تمام اثاثے بحق سرکار ضبط کیے جائیں اور متعلقہ ٹیلیوژن چینل اور اخبارات وغیرہ پر پابندی عائد کی جائے۔

﴾ تعلیمی نصاب سے قدامت پرستانہ ‘ غیر سائنسی مواد ہٹا کر نظام تعلیم کو عہد حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔

﴾ جنگوں اور فوجی آپریشنوں پر بیش بہا وسائل خرچ کرنے کی بجائے‘ قبائلی علاقہ جات (سابقہ فاٹا) کے عوامی نمائندوں کی نگرانی اور کنٹرول میں تعمیر و ترقی کے پانچ تا دس سالہ ہنگامی اور جامع منصوبے کا آغاز کیا جائے۔ جس کے تحت ان علاقوں کو پانی کی فراہمی و نکاس کے معقول نظام، جدید ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں (بشمول یونیورسٹیوں)، علاقے کے وسائل، معاشی طرز اور ضروریات کے مطابق صنعت اور سروسز کے اداروں (جن میں مقامی آبادی کے روزگار کو ترجیح دی جائے)، سستی و باعزت پبلک ٹرانسپورٹ اور رہائشی یونٹوں سے آراستہ کیا جائے۔ منشیات کی کاشت اور کاروبار سے وابستہ لوگوں کو متبادل روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ علاوہ ازیں چھوٹے کسانوں اور کاروباروں کو آسان اور بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں۔

﴾ ضیاالحق کی سیاہ آمریت کے دور سے طلبہ یونین پر عائد پابندی کے نتیجے میں نہ صرف بنیاد پرستی کے رجحانات کو سہولت ملی ہے بلکہ تحریک انصاف جیسے فسطائی اور شخصیت پرستانہ رجحانات بھی پروان چڑھے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمی کی حوصلہ شکنی اور یونین سازی پر پابندی نے طلبہ کے شعور پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور انہیں شدید نظریاتی اور ثقافتی پراگندگی کا شکار کر دیا ہے۔ لہٰذا صحتمند سیاسی عمل، جمہوری اقدار اور فکری و نظریاتی بحث کے فروغ کے لئے طلبہ یونین پر پابندی صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ عملاً اٹھائی جائے۔

﴾ فوجی آپریشنوں اور جنگ کے حالیہ ماحول سے دو طرفہ لسانی تعصبات اور قومی نفرتوں کو بھی ہوا ملی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ ایک تشویشناک اور قابل افسوس صورتحال ہے۔ محکوموں کی آپسی نفرت اور لڑائی کا فائدہ ہمیشہ استحصالی اور حکمران طبقات کو ہوتا ہے۔ پھر وہ چاہئے پاکستان کے حکمران ہوں یا افغانستان کے طالبان۔ موجودہ حالات میں کئی پشتون قوم پرست اور لبرل حلقوں کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی جیسے رجعتی عناصر بھی محض ریاست سے دشمنی یا قومی شاونزم کی بنیاد پر طالبان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ انتہائی عوام دشمن، رجعتی اور موقع پرستانہ پوزیشن ہے۔ جبکہ دوسری طرف افغانوں یا پشتونوں کے خلاف زہر اگلنے والے پنجابی/پاکستانی شاونسٹوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ جو اپنی جگہ انتہائی زہریلا اور قابل مذمت فعل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں بظاہر متصادم رجحانات ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور ایک دوسرے کو تقویت دیتے اور مکمل کرتے ہیں۔ ہر ذی شعور انسان کو ان کی مذمت اور مخالفت کرنی چاہئے اور دوسری قوم کے مظلوموں کی بجائے اپنے اصل دشمن پہ نظر رکھنی چاہئے۔

﴾ ہم افغانستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان ہر قسم کے نسلی تعصب، نفرت اور قوم پرستانہ یا ریاستی دشمنی کو مسترد کرتے ہیں۔ تمام قوموں کے مظلوم‘ استحصال زدہ عوام کی طبقاتی یکجہتی کے ذریعے جنگوں، دہشت گردی، غربت اور بھوک کا باعث بننے والے سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد ہی مستقل امن اور دوررس ترقی و خوشحالی کی ضامن بن سکتی ہے۔

ہمارا وقت ہماری زندگیوں کے بعد بھی آئیگا 🚩چھوٹے عہد کا بڑا آدمی!لال خان
20/02/2026

ہمارا وقت ہماری زندگیوں کے بعد بھی آئیگا 🚩چھوٹے عہد کا بڑا آدمی!
لال خان

ہمارا وقت ہماری زندگیوں کے بعد بھی آئیگا 🚩
20/02/2026

ہمارا وقت ہماری زندگیوں کے بعد بھی آئیگا 🚩

Address

Rawalakot
Rawala Kot
8230

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jk NSF ALI SOJAL Branch√ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share