17/08/2026
پریس ریلیز
پونچھ کو نظرانداز کرنے کی سازش کے کردار تاریخ میں بے نقاب ہوں گے، نبیلہ ارشاد
چیئرپرسن جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی (JKDP) ایڈووکیٹ نبیلہ ارشاد نے آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی و انتخابی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پونچھ کو سیاسی طور پر سائیڈ لائن کرنے کی کوئی بھی کوشش نہ ماضی میں کامیاب ہوئی ہے، نہ مستقبل میں کامیاب ہوگی۔ جو عناصر اس عمل کا حصہ بنیں گے، تاریخ ان کے کردار کا فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات کا انعقاد تین مراحل میں کیا گیا، تاہم احتجاج، گرفتاریوں، جانی نقصانات اور کشیدہ حالات کے باعث سات نشستوں پر انتخابی عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ ایسی صورتحال میں محض انتخابی عمل کو آگے بڑھانے کے بجائے ان بنیادی سیاسی وجمہوری مسائل کا حل ضروری ہے جنہوں نے پونچھ میں شدید عوامی بے چینی پیدا کی ہے۔
نبیلہ ارشاد نے کہا کہ راولاکوٹ میں جاری احتجاج آزاد کشمیر کی حالیہ تاریخ کے متنازع ترین سیاسی بحرانوں میں تبدیل ہو چکا ہے، جس میں ریاست کے مختلف علاقوں سے شہری شریک ہیں۔ یہ حقیقت اس امر کی متقاضی ہے کہ احتجاج کو طاقت سے دبانے کے بجائے سنجیدہ، بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں، طاقت کے استعمال اور سیاسی دباؤ سے عوامی مطالبات ختم نہیں کیے جا سکتے۔ ماضی میں طاقت آزمائی مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکی اور آئندہ بھی نہیں کر سکے گی۔ حکومت اور ریاستی اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی بحران کا علاج سیاسی مکالمہ ہی ہے۔
چیئرپرسن JKDP نے کہا کہ پونچھ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ، جمہوری جدوجہد اور عوامی شعور میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ پونچھ کے عوام نے ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے قربانیاں دی ہیں اور آج بھی وہ اپنے جمہوری و آئینی حقوق کے لیے اخلاقی قوت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ:
"پونچھ کو سائیڈ لائن کرکے آزاد کشمیر میں کوئی مستحکم حکومت قائم نہیں کی جا سکتی۔ پونچھ کے بغیر کوئی بھی حکومت پانی کے بلبلے کی مانند ہوگی، جس کی کوئی پائیدار سیاسی بنیاد نہیں ہوگی۔"
نبیلہ ارشاد نے اربابِ اختیار کو متنبہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حساس تاریخی، سیاسی اور آئینی حیثیت کو کسی تجربہ گاہ کی طرح استعمال کرنے کی لاحاصل مشقیں فوری طور پر بند کی جائیں۔ ریاست کے عوام کو سیاسی انجینئرنگ، غیر شفاف فیصلوں اور طاقت کے ذریعے سمت دینے کے بجائے ان کے جمہوری مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام کے جمہوری اور آئینی حقِ نمائندگی کو تسلیم کیے بغیر کوئی بھی سیاسی پیش رفت پائیدار نہیں ہو سکتی۔ سات نشستوں پر انتخابات کا التوا اور پونچھ میں جاری عوامی احتجاج اس بات کا واضح تقاضا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر سیاسی حل تلاش کیا جائے۔
نبیلہ ارشاد نے کہا:
"پونچھ کسی سیاسی نقشے کا حاشیہ نہیں؛ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ اور سیاسی شعور کا اہم مرکز ہے۔ اسے سائیڈ لائن کرنے والے شاید وقتی طور پر طاقت کا مظاہرہ کر سکیں، مگر تاریخ کے فیصلے سے نہیں بچ سکیں گے۔ پائیدار حل صرف جمہوریت، آئین، مذاکرات اور عوامی مینڈیٹ کے احترام میں ہے۔"
انہوں نے کہا کہ پونچھ آج جس اخلاقی قوت کے ساتھ اپنے جمہوری حق کے لیے کھڑا ہے، وہ آزاد کشمیر کی سیاسی سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اربابِ اختیار کو وقت کی نزاکت سمجھتے ہوئے طاقت آزمائی کے بجائے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔