PMS 2024 Falak Library

PMS 2024 Falak Library Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from PMS 2024 Falak Library, Sunny Pull, Palace Road, Rahim Yar Khan.

02/08/2023

*ضروری اطلاع*

شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں *4 اگست 2023 بروز جمعۃ المبارک* سے آؤٹ ڈور پرچی کا مکمل نظام حکومت پنجاب کے نئے آن لائن کمپیوٹر سسٹم PITB پر شفٹ ہو جائے گا جسکے بات پرچی بنوانے کے لیے *شناختی کارڈ* اور *موبائل نمبر* لازمی ہوگا
لہذا شیخ زاید ہسپتال رحیم یار خان میں علاج کے لئے آنے والے مریض اپنے ساتھ *شناختی کارڈ* اور *موبائل نمبر* لازمی لے کر ائیں بصورت دیگر ان کے لیے اؤٹ ڈور پرچی کا اجرا نہیں ہوگا اور مریضوں کو بغیر علاج کے واپس گھر جانا پڑ سکتا ہے

اس میسج کو مفاد عامہ اور اطلاع کے لیے ضلع رحیم یار خان کے تمام سوشل میڈیا گروپس میں شیئر ضرور کریں۔

15/06/2023

Want to Buy Payoneer Funds?
Rahim Yar Khan F2F

03/05/2023

Wise Funds available to Exchange

Exchange can be done face to face

15/01/2023

عوام کے لئے خود ہی مردم شُماری میں اپنے گھر کا اندراج کرنے کا آسان طریقہ کار:

اپنے موبائل سے Self Enumeration ایپ جو کہ 15 جنوری سے 31 جنوری تک کام کرے گی۔ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد ملک کے کسی بھی حصے میں اپنی فیملی کا ڈیٹا درج کریں آخر میں آپکو مخصوص کوڈ (UTN)ملے گا۔وہ کوڈ آپ اپنے متعلقہ اضلاع میں اپنے بلاک میں ڈیوٹی پر مامور ٹیچرز (Enumerator) کو مردم شماری والے دن خود یا کسی اور کے ذریعے پہنچا دے یا اگر آپ ملازمت پیشہ یا کاروباری ہیں تو گھر میں کسی کو بھی UTN نمبر لکھ کر دے دیں وہ مردم شماری کے عملے کو دے تو UTN نمبر درج کرتے ہی آپ کا تمام ڈیٹا آپکے متعلقہ بلاک میں درج ہوجائے گا۔
اس طرح سے آپ کو یا آپ کی غیر موجودگی میں خواتین کو دروازے پر کھڑا نہیں ہونا پڑے گا
یاد رکھیں کہ تمام لوگ آبادی ضرور درج کروائیں کیونکہ اسی کی بنیاد پر آپ کو ترقیاتی فنڈ ، صحت کے مراکز ، سکول ، کالجز ، یونیورسٹیاں اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں
اگر بلاک میں کم آبادی ہو گی تو اگلے انتخابات میں دوسری ولیج کونسل میں ضم کر دی جائے گی
لہذا کوشش کریں کہ اپنے حقوق کیلئے اپنی آبادی کا مکمل اندراج کروائیں۔۔۔

نوٹ:- اس پوسٹ کو تمام لوگ شیر ، کاپی پیسٹ کریں تاکہ مردم شماری میں ملک کی اصل آبادی انکے مسائل اور انکے لئے وسائل پیدا کئے جائیں

09/01/2023

موسمی حالات سے مزید آگاہی کے لیے آپ ہمارا یو ٹیوب چینل بھی سبسکرائب کر سکتے ہیں لنک درج زیل ہے

https://www.youtube.com/






























22/11/2022

مختلف نام !
عبادت گاہ میں دیا جائے تو چندہ " مزار کے لیے دیا جائے تو نذرانہ ۔
اسکول میں ادا ہو تو " فیس " خریداری کرنی ہو تو " قیمت "
شادی میں بیٹی کو دیا جائے تو " جہیز " ولیمہ پہ دلہا کو ملے تو " نیوتہ "
بینک میں رکھا جائے تو " کیش " موبائل میں ڈلوایا جائے تو " بیلنس"
معاہدہ کے وقت دیا جائے تو " بیعانہ "

رمضان میں عید سے پہلے بانٹا جائے تو " فطرانہ " عید کے دن دیا جائے تو عیدی
بچوں کو دیا جائے تو"جیب خرچ " غریب کو دیں تو " صدقہ و خیرات "
امیر کو دیں تو " ہدیہ " دوست کو دیں تو " تحفہ"۔۔

حکومت کو دینا ہو تو "ٹیکس" عدالت میں ادا کیا جائے تو "جرمانہ" نوکری کے عوض ملے تو " تنخواہ" ریٹائر منٹ پہ ملے تو " پنشن "
بینک سے لیں تو " سودی قرضہ " ۔ اخوت جیسے اداروں سے لو تو " بلا سود قرضہ "
ویٹر کو دیں تو " بخشیش " اور اغواکار کو دیں تو "تاوان" غلط کام کے عوض لیں یا دیں تو " رشوت "
بدمعاش کو دیں تو " بھتہ " شوہر بیوی کو دے تو " نان نفقہ" اور اگر موت کے بعد بانٹا جائے تو " وراثت " کہلاتا ہے،.

04/10/2022

کسانوں کی مشکلات کا حل اور حکومت وقت کی ذمہ داری

کوئی بھی مکمل تیار شدہ چیز جب بازار میں فروخت کے لیے پہنچتی ہے تو وہ پرچون قیمت پر فروخت ہوتی ہے، اور تھوک سے پرچون، یا پیداوار سے پرچون تک کا سفر مکمل ہونے میں بہت سے لوگ ، بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پرچون قیمت پر وہ چیز فروخت ہوتے وقت اصل قیمت سے دُگنا ، سہ گنا قیمت پر پہنچ جاتی ہے۔
کسان فصل بونے کے لیے جب پیداواری عوامل کی طرف آتا ہے تو اسے ہر چیز پرچون قیمت پر ملتی ہے، بیج، کھاد، سپرے، ڈیزل، کیرج، مزدور، الغرض ہر چیز کسان کو پرچون قیمت پر ملے گی۔ لیکن جب کسان اپنی اجناس فروخت کرتا ہے تو وہ تھوک ریٹ پر فروخت ہوتی ہے۔ اس طرح کسان کو سیدھے سادے فارمولا کے ساتھ کم از کم 30 فیصد کا نقصان، یا 30 فیصد کم منافع ملتا ہے۔ یہ سب اعداد وشمار اس صورت میں ہیں جب اگر باقی کے عوامل اثر انداز نہ ہوں۔ اب ہم آئیں گے اس مسئلہ کے حل کی طرف،

زرعی داخلی مداخل پر سبسڈی:
1. حکومت کو چاہئے کہ سب سےپہلے زرعی داخلی مداخل پر کسانوں کو سبسڈی دے۔ اور اس سبسڈی کا کوئی ایسا ڈیجیٹل انتظام کرے کہ ہر کسان اپنے گھر بیٹھے موبائل فونز اور انٹرنیٹ کے ذریعے اس سبسڈی کو حاصل کر سکے۔ اس کے لیے انڈرائڈ کی طرز کی موبائل ایپلیکشن بنوائی جا سکتی ہے۔
2. حکومت زراعت سے متعلق تمام محکمہ جات کو آپس میں ون لنک (One Link) کرے، مثال کے طور پر، محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ زراعت (توسیع) ، محکمہ زراعت (مارکیٹنگ)، غلہ منڈیاں اور سبزی و فروٹ منڈیاں وغیرہ۔ان سب کو ون لنک کرے اور ان کی مشترکہ ویب سائٹ، موبائل ایپلیکشنز وغیرہ بنوائے اور ان کو مکمل اور روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ بھی کروائے۔
3. کسانوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ نہر میں پانی کب آرہا ہے اور نہر کب بند ہو رہی ہے۔ کون سی پیسٹی سائیڈ اور کون سی کمپنی کی پیسٹی سائیڈ کرنے سے کس فصل پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔ علاقے کا زراعت افسر کی ذمہ داریا ں کیا ہیں اور کسان کے اصلی حقوق کیا ہیں، کسی بھی محکمہ جاتی شکایات کی صورت میں کسان انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے کیسے اپنے مسائل کو اجاگر کرسکتے ہیں یا اپنے مسائل حل کرواسکتے ہیں، کس کمپنی کی کھاد کیا ریٹ ہے اور کس ڈیلر کے پاس مناسب قیمت میں دستیاب ہے اور کون سا دکاندار بلیک میں فروخت کر رہا ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے، لیکن حکومت اور سٹیٹ کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے۔ اگر آپ یہ کر دیں تو میرا ملک اور میرے ملک کے کسانوں کو کچھ آسانیاں مل جائیں گی۔
4. جدید طریقوں پر مبنی زراعت کے متعلق کسانوں کوٹرنینگ دینے کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی کوبروئے کار لایا جائے۔
5. نہری علاقوں میں ہر موگے کا زراعت افسر الگ ہو اور اس کے پاس اپنے علاقے کے تمام زمینداروں کے موبائل نمبرز اور واٹس اپ نمبرز موجود ہوں اور وہ ان گروپس میں ایکٹیو بھی ہواور کسانوں کے سوالوں کے جوابات بھی دیتا ہو، اس سے ہر قسم کی انفارمیشن بروقت کسانوں تک پہنچے۔
6. کسان کو ہر روز بروقت منڈیوں کے ریٹس ، کھادوں ، دوائیوں کے ریٹس کی اپ ڈیٹس موبائل فونز پر اور واٹس اپ پر مہیا کی جائیں تاکہ بیوپاریوں اور دلالوں سے کسانوں کا نقصان نہ ہو۔


جاری ہے

Send a message to learn more

01/09/2022

We Need!
کالا باغ ڈیم

جزاک اللّہ۔صوبہ سندھ میں مفت علاج مہیا کرنے والے ہاسپیٹل ۔۔*صوبہ سندھ کے دارلحکومت* *کراچی* *گلستانِ جوہر،  میں ایک ایسا...
04/08/2022

جزاک اللّہ۔
صوبہ سندھ میں مفت علاج مہیا کرنے والے ہاسپیٹل ۔۔
*صوبہ سندھ کے دارلحکومت* *کراچی* *گلستانِ جوہر، میں ایک ایسا ادارہ ہے جہاں آپ سے ایک روپیہ لئے بغیر آپکی آنکھ کا ہر ممکن علاج کیا جاتا ہے. مکمل ائرکنڈیشنڈ اور ہائی جینک ماحول، انتہائی جدید مشینوں سے آراستہ، جہاں بلا تفریقِ مذہب، ملت، ذات، تعلق، فرقہ اور قوم مفت علاج کیا جاتا ہے.*

*یہاں آپکی فوقیت آپکا ٹوکن نمبر ہے جو آپ خود بٹن دبا کر حاصل کرتے ہیں. کاؤنٹر پر لگا ڈیجیٹل ڈسپلے آپکے ٹوکن نمبر کی رہنمائی کرتا ہے.*

*اگر آپ علاج کی قیمت ادا کرسکتے ہیں تو فبہا، سامنے بکس رکھا ہے جتنی رقم ڈالنا چاہیں ڈال دیں.*

*جی یہ ادارہ POB EYE HOSPITAL OF BLINDNESS کے نام سے گلستان جوہر، بلاک 12 میں واقع ہے

*صدقہ جاریہ کی نیت سے اپنے حلقہ احباب میں شیئر کریں ممکن ہے آپکے شئر کرنے سے کسی ضرورتمند کی آنکھوں کی بینائ واپس آجائے…* 🇵🇰🌹کراچی کے چند ہسپتال جو مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کو حتی الامکان مفت/ رعایتی علاج فراہم کرتے ہیں۔*03004460660
یہ پوسٹ مفاد عامہ کے لئے لگائی جارہی ہے۔
News flash
01- سوٹ SUIT
گردوں کے تمام امراض کے علاج کے لئے ایک ورلڈ کلاس ہسپتال, مریض کے داخلے سے لے کر تمام ٹیسٹ, آپریشن, ڈائلاسس, دوائیاں, یہاں تک کہ مریض اگر چھوٹا بچہ ہے تو اس کے پیمپرز تک ہسپتال مہیا کرتا ہے۔
http://www.siut.org 03004460660

News flash
02- انڈس ہسپتال
کورنگی میں انڈس ہسپتال 2007 سے خدمات انجام دے رہا ہے جملہ تمام جسمانی کا امراض کے لئے بالکل مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے ۔
https://en.m.wikipedia.org/wiki/Indus_Hospital 03004460660
03- بیت السکون
ہل پارک پر واقع کینسر ہسپتال, پہلے ٹیسٹ سے لے کر آپریشن اور پھر کیمو تھراپی, ریڈی ایشن اور پھر دوائیاں بھی بالکل مفت۔ کوئ انکوائری نہیں آپ کا اتنا بتادینا کافی ہے کہ آپ مستحق ہیں ۔
http://baitulsukoon.org 03004460660
04- کرن ہسپتال
کراچی یونیورسٹی سے آگے حکومت پاکستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے زیر انتظام چلنے والے ملک بھر کے بارہ ہسپتالوں میں سے ایک۔ تشخیص, آپریشن, کیمو تھراپی, ریڈی ایشن اور دوائیاں کل ملا کر تین سے پانچ لاکھ روپے میں کینسر کا مکمل علاج۔
News flash
4- جناح ہسپتال میں ابھی حال ہی میں چند مخیر حضرات کے تعاون سے کینسر کا علاج جدید مشینوں پر کرنے کے لئے کام جاری ہے اور یہ علاج بھی مکمل فری آف کاسٹ بتایا جارہا ہے ۔
News flash
5 *نیشنل ہسپتال برائے نفسیات و منشیات* میں ذہنی امراض اور منشیات کا علاج مستند اور تجربہ کار ماہرین کی زیر نگرانی کی جاتی ہیں۔ ہسپتال میں 24 گھنٹے داخلے کی بھی سہولت ہے۔
بیرونی علاج اور داخلے کی فیس کا تعین مریض کی مالی اسطاعت کے مطابق کی جاتی ہے
برائے رابطہ
News flash
نیشنل ہسپتال برائے امراض نفسیات و منشیات نزد باب خیبر مین میٹروول سائٹ کراچی
03-111-222-773 فون
03004460660
6 LRBT
آنکھون کا مفت آپریشن اور علآج کیا جاتا ہے
https://chat.whatsapp.com/Bb7Pz9s3ENe5Jod2YbTcAS
آپ جن گروپس میں شامل ہیں وہاں یہ معلومات شئر کردیں۔
کیا پتہ کسی ضرورت مند کو علاج معالجہ کی ضرورت ہو اور صرف اس کاپی پیسٹ سے اس کی ضرورت اللہ پوری کروا دے۔
جزاکم اللہ خیرا.

*

04/08/2022
04/08/2022

ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں "چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد "ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی "چلیپا” اور "تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب اس کے شیر کے جیسے سر کی وجہ سے دیا۔ ان دونوں جنات کی وجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور تبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان دونوں کی وجہ سے قوم کے جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے۔ ایسے میں حکم الٰہی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی۔ اسی دوران جب "عزرائیل علیہ السلام” کو ابلیس نے دیکھا تو سجدہ میں گر گیا۔

ابلیس شروع سے ہی ایک نڈراورذہین بچہ تھا اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس نے ملائکہ کے ساتھ جا کر توبہ کا باقاعدہ اعلان کیا اور پھر فرشتوں سے فیض علم حاصل کرنے لگا۔ علم حاصل کرنے اور ریاضت کا یہ عالم تھا کہ پہلے آسمان پہ "عابد”، پھر دوسرے آسمان پر "زاہد”، تیسرے آسمان پر "بلال”، چوتھے آسمان پر "والی”، پانچویں آسمان پر "تقی” اور چھٹے آسمان پر "کبازان” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ فرشتوں کو سکھاتا تھا۔ ساتویں آسمان پہ ابلیس بقع نور میں رہا۔ ہفت افلاک کے سب ملائکہ کا معلم قرار دیا گیا یہاں تک پہنچ کر ابلیس نے اپنی عاجزی اور ریاضت کی انتہا کردی۔

کم و بیش ابلیس نے چودہ ہزار سال عرش کا طواف کیا یہاں اس نے فرشتوں میں استاد/سرادر "عزازیل” کے نام سے شہرت پائی کم و بیش تیس ہزار سال مقربین فرشتوں کا استاد رہا۔ ابلیس کے درس و وعظ کی میعاد کم و بیش بیس ہزار سال ہے۔ فرشتوں کے ساتھ قیام کی مدت کم و بیش اسی ہزار سال ہے۔

ابلیس کو حکم ہوا کہ داروغہ جنت "رضوان” کی معاونت کرو اور اہل جنت فرشتوں کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا اور جنت میں بھی اپنے علم سے داروغہ جنت رضوان کو سیراب کیا اور یوں جنت رضوان کی کنجیاں ابلیس کے پاس رہیں۔ روایات کے مطابق ابلیس 40 ہزار سال تک یہ فرض خزانچی انجام دیتا رہا۔ یہی وہ مقام اعلیٰ ترین جنت رضوان ہی تھا جہاں ابلیس نے پہلی بار بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ اس وقت ابلیس کے پاس ہفت اقلیم، افلاک، جنت و دوزخ سب کا اختیار تھا اور اس نے چپے چپے پہ سجدے کیے تھے۔ مگر یہاں پہ ابلیس عاجزی سے پہلی بار بھٹکا اور خود کو بادشاہ بنانے اور رب بن جانے کے خواب دیکھنا شروع کیے۔ کئی ملائکہ کے سامنے ربوبیت کی بابت بات بھی کی مگر ملائکہ کے انکار کے سبب چپ ہو گیا اور یوں نظام چلتا رہا مگر اس سب سے اللہ تعالیٰ کی ذات بے خبر نہ تھی۔
پھر آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مرحلہ آیا جیسے قرآن مجید میں واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ابلیس آدم علیہ السلام کو جزو جزو مرحلہ وار مختلف اقسام کی مٹی سے تخلیق ہوتا دیکھتا رہا اور چپ رہا مگر جیسے ہی اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا نائب ہے تو اس نے واویلا کیا عبادات اور اطاعت کا واسطہ دیا پھر طنز کیا کہ مجھ جتنی عبادت کس نے کی ہے اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکاری ہوا۔

تب اللہ تعالیٰ نے کہا نکل جا شیطان مردود۔لعنتی قرار پانے کے بعد ابلیس نے اپنی عبادات اور ریاضت کا رب کریم سے عوض مانگا جس پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ایک وقت معلوم تک مہلت فراہم کی۔ جس پر ابلیس نے اولادِ آدم کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا کر اپنا پیروکار بنانے کا دعویٰ کیا جس پر رب کریم نے فرمایا کہ جو متقی اور پرہیزگار ہوں گے تو ان کو گمراہ نہیں کر پائے گا۔

ابلیس کے اس لعنتی کام میں اس کے پانچ ساتھی ہیں۔

1۔ ثبر » اس کے اختیار میں مصیبتوں کا کاروبار ہے جس میں لوگ ہائے واویلا کرتے ہیں گریبان پھاڑتے ہیں منہ پہ طمانچے مارتے ہیں اور جاہلیت کے نعرے لگاتے ہیں۔
2۔ اعور » یہ لوگوں کو بدی کا مرتکب کرتا ہے اور بدی کو لوگوں پہ اچھا اور پسندیدہ کر کے دکھاتا ہے۔
3۔ مسوّط » یہ کزب، جھوٹ اور دروغ پہ مامور ہے جسے لوگ کان لگا کر سنیں۔ یہ انسانوں کی شکل اپنا کر ان سے ملتا ہے اور انھیں فساد برپا کرنے کی جھوٹی خبریں سناتا ہے۔
4۔ داسم » یہ آدمی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر والوں کے عیب دکھاتا ہے اور آدمی کو گھر والوں پہ غضبناک کرتا ہے۔
5۔ زکنیور » یہ بازاروں کا مختار ہے بازاروں میں آ کر یہ بددیانتی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔ بازاروں میں برائیوں اور فحاشی پہ ورغلاتا ہے۔

ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدے سے انکار کا جزبہ حسد تھا کہ جس نے اسے مجبور کیا کہ میری جگہ آدم (خاک) کو کیوں ملی۔ یہ اس کا جزبہ تکبر اور غرور تھا کہ میں اعلیٰ ہوں اور اس ایک سجدے کے انکار کی بات نہیں تھی بات اطاعت سے سرکشی کی تھی، شرک کی تھی۔ ابلیس نے دل میں خود کو "رب” مان لیا تھا۔ اسی شرک عظیم کی بدولت ابلیس تا قیامت رسوا و لعنتی ٹھہرا اور اولادِ آدم کو بھٹکانے کیلئے آزاد قرار پایا۔

حاصل نتیجہ یہ ٹھہرہ کہ رب کریم کو انسان کی عبادات عاجزی علم و دانش سے کچھ غرص نہ ہے۔ رب کریم صرف دیکھتا ہے کہ دل میں اطاعت و فرمانبرداری کتنی ہے۔ اسی بنیاد پہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے درجے قرار پاتے ہیں۔

منابع و ماخذ: صحیح بخاری باب الفتن و اشراط، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد،کتاب شرح سیوطی، تفسیر کبیر امام رازی، مستدرک حاکم، کتاب حکم، نہج البلاغہ سید رضی، شرح نہج البلاغہ ابن حدید، کتاب غرر الحکم ابن ہشام، کتاب توحید شیخ صدوق

Copied
۔

Address

Sunny Pull, Palace Road
Rahim Yar Khan
68200

Telephone

+923027633481

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PMS 2024 Falak Library posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share