31/05/2026
ہم رسمی سلام دعا کے بعد واپس سکردو آ گئے
مستنصر حسین تارڑ رابیل پیرزادہ کی یادوں کے ہمراہ بورڈنگ کےلیے روانہ ہو گئے۔۔۔
تارڑ صاحب کے اس ٹور میں happenings کی بھرمار تھی۔۔تارڑ صاحب کو کئی پرانے ٹریکس کے شناسا و ساتھی ملے تو کہیں موسم و لینڈ سکیپ نے حیرت میں گم کر رکھا تھا۔۔۔لیکن جو کچھ آخری دن فلائٹ سے تین گھنٹے پہلے پیش آیا وہ تارڑ صاحب سمیت سب کی آنکھیں نم کر گیا۔۔۔
ایک نابینا بچی تارڑ صاحب سے ملنے شنگریلا آئی۔۔۔ہم نے سیگمنٹ ریکارڈ کیا۔ اس میں تمام تفصیل ہے۔ یہاں اختصار سے بتاتا جاؤں کہ رابیل پیرزادہ نے بتایا کہ 12 برس کی عمر میں ان کی بینائی ایک چوٹ کی وجہ سے چلی گئی۔۔اس نے تارڑ صاحب کی کتابوں کو آڈیو فارم میں سنا۔۔وہ بہت جذباتی انداز میں بول رہی تھیں۔۔بولتی چلی جا رہی تھیں۔۔پہلی دفعہ تارڑ صاحب کو اس قدر خاموش دیکھا۔۔وہ اس وقت جذباتی ہو گئے جب رابیل نے کہا آپ رنگوں کو بہت اچھا describe کرتے ہیں۔۔میری بینائی چلی گئی لیکن آپ کی وجہ سے رنگ میرے پاس رہے۔ میں گلگت بلتستان آتی ہوں آور آپ کی description کے ذریعے منظر دیکھتی ہوں۔۔انہوں نے بتایا کہ ستر ہزار نابینا بچوں کیلئے انہوں نے تارڑ صاحب کی تمام کتابوں کو آڈیو فارم میں ڈھالا۔ اب یہ ہزاروں بچے آپ کے ذریعے رنگوں سے آشنائی حاصل کر رہے ہیں۔۔
تارڑ صاحب نے کہا۔۔بیٹی مجھے پاکستان کا سب سے اعلٰی سول ایوارڈ ملا جو بوجوہ میں وصول کرنے نہیں گیا۔۔۔لیکن یہ سب ایوارڈز وغیرہ تمہارے مقابلے میں کیا ہیں۔۔تم نے آج مجھے اپنی زندگی کے سب سے بڑے ایوارڈ سے نواز دیا ہے۔۔مجھے جب اپنے ادارے کے لئے جب بلاو گی کہیں بلاو گی اس عمر میں بھی چلا آوں گا۔۔۔
رابیل چلی گئیں تو کافی دیر جذباتی رہے۔۔مجھے کہنے لگے کہ کبھی لکھتے ہوئے یہ نہیں سوچا تھا کہ میں رنگوں کو اتنا اچھا describe کرتا ہوں
فلائٹ سے لیٹ ہو رہے تھے۔۔ایئرپورٹ پہنچے۔۔میں نے ایک دو تصاویر اتاریں انہوں نے تصاویر کےلیے بانہیں پھیلائیں لیکن تارڑ صاحب کا چہرہ اترا ہوا تھا۔سب کچھ بناوٹی سا لگ رہا تھا۔ معلوم نہیں سکردو چھوڑنے کا دکھ تھا یا دماغ میں رابیل کی باتوں نے ہلچل مچا رکھی تھی۔۔
ہم رسمی سلام دعا کے بعد واپس سکردو آ گئے
مستنصر حسین تارڑ رابیل پیرزادہ کی یادوں کے ہمراہ بورڈنگ کےلیے روانہ ہو گئے۔۔۔