04/08/2026
اغوا کار ظہور جمالزئی کی جانب سے مظالم کا سلسلہ جاری، اسماء جتک کی تحفظ فراہمی بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی انکے والد عنایت اللہ بلوچ کو قتل کردیا گیا۔
خضدار سے تعلق رکھنے والی بی بی اسماء جتک بلوچ نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اغوا کار ظہور جمالزئی تاحال انہیں دھمکا رہا ہے، جبکہ مذکورہ گروہ نے ان کے والد اور بھائیوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
اسماء بلوچ نےکہاں کہ واقعے کے باوجود اغوا کاروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور اغوا کار تاحال سرعام آزاد گھوم رہے ہیں۔
اغوا کار ظہور جمالزئی اور ان کے گروہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ انہیں دوبارہ اغوا کر سکتے ہیں، اگر صوبائی حکومت اور مقامی سردار انہیں انصاف فراہم نہیں کرتے اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی تو وہ مجبوراً اپنی جان دے دیں گی، جس کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان و موجودہ رکن صوبائی اسمبلی ثناء اللہ زہری پر عائد ہوگی
یاد رہے کہ خضدار کی رہائشی خاتون کو 5 فروری 2024 کو پولیس لائن خضدار سے مسلح گروہ ’’ڈیتھ اسکواڈ‘‘ نے اغوا کر لیا تھا، جس کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئی تھیں۔
مذکورہ ڈیتھ اسکواڈ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کی سربراہی میں کئی سال سے متحرک ہے، جبکہ اغوا کا مرکزی ملزم ظہور جمالزئی اور ان کے بھائی زہری اور گردونواح میں اس ڈیتھ اسکواڈ کی قیادت کرتے ہیں۔
سال 2024 کے واقعے کے بعد احتجاج کے باعث پولیس نے اسماء جتک کو بازیاب کرا لیا تھا، جبکہ بلوچستان حکومت نے اغوا کاروں کے خلاف کارروائی کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم اغوا کار گرفتار نہیں ہوئے۔