27/08/2026
حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ،
پاکستان کی سیاست کا ایسااستعارہ ہے،جوطویل عرصے سے ملکی سیاسی افق پرمرکزنگاہ بنے ہوئے ہے،ان کی مدبرانہ سیاست اور طویل پارلیمانی تجربےپر ایک جامع تحریرپیش خدمت ہیں،
مولانافضل الرحمن صاحب کو روایتی سیاست اور جدید پارلیمانی تقاضوں کاایک حسین امتزاج مانا جاتا ہیں،انہیں یہ سیاسی بصیرت اپنے والداورعظیم سیاست دان مفکر اسلام مفتی محمودرحمہ اللہ سے ورثے میں ملی ہیں،مفتی محمود کے اصول پسندانہ نقوش پر چلتےہوئے مولانا فضل الرحمن صاحب نے ہمیشہ جمہوریت آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کے تقدس کو مقدم رکھا،
پاکستانی سیاست میں مولانا فضل الرحمن صاحب کو جوڑ توڑکا ماہراورمفاہمت کا استعارہ کہاجاتا ہے،کھڑےسےکھڑے سیاسی بحران میں بھی ان کا اندازتخاطب شائستہ اورموقف دھیما رہتاہے،انہوں نے کئی مواقع پر بظاہر ناممکن نظر انے والے سیاسی اتحادوں کو ممکن بنایا،اور قومی سطح پر حکومت سازی یا اپوزیشن کی اتحاد مثلا پی ڈی ایم کی قیادت کرتے ہوئے اپنی قائدانہ صلاحتیوں کا لوہا منوایا،
جمیعت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا سب سے بڑا اثاثہ ان کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ اور مخلص کارکن ہے،وہ نہ صرف سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں بلکہ دینی طبقے کے حقوق اور ائین پاکستان کی اسلامی دفعات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط دیوار سمجھے جاتے ہیں،سیاست میں حریفوں کے ساتھ بات چیت کے دروازے
کبھی بند نہیں ہونے چاہیے مولانا فضل الرحمن صاحب کا یہ سیاسی فلسفہ ہمیشہ سے ملکی سیاست میں مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے،مولانا فضل الرحمن صاحب کا سیاسی سفر اس بات کا ثبوت ہےکہ مستقل مزاجی استقامت اور فکری پختگی کے ساتھ کس طرح طویل عرصے تک ملکی سیاست کے مرکز میں رہا جاسکتا ہے،
تحریر کنندہ ۔سیکرٹری اطلاعات،رفیع اللہ غالب جمعیت علماء اسلام ٹیچر کالونی یونٹ 2 نواکلی کوئٹہ،