GES 32 EB Arif Wala

  • Home
  • GES 32 EB Arif Wala

GES 32 EB Arif Wala Empowering Young Minds Through Quality Education In a Safe, Inclusive, And Nurturing Environment. Located in 32 EB, Arif Wala – where every child matters!

06/09/2026

22 بھادوں سردی کی آمد کا اعلان
سہانے موسم کا آغاز ...... !!!
16 اگست سے شروع ہونے والا پنجابی مہینہ بھادوں اور اسکی دلچسپ روایات .....
دیسی کیلنڈر کا آغاز 100 قبل مسیح میں اس وقت کے ہندوستان کے بادشاہ راجہ بکرم اجیت کے دور میں ہوا، راجہ بکرم کے نام کی وجہ سے یہ کیلنڈر بکرمی کیلنڈر بھی کہلاتا ہے۔ بکرمی یا دیسی کیلنڈر بھی تین سو پینسٹھ (365) دنوں کا ہوتا ہے اور اس کیلنڈر کے 9 مہینے تیس (30) دنوں کے ہوتے ہیں جبکہ ایک مہینہ ویساکھ اکتیس (31) دن ہوتا ہے اور باقی دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس (32) دن کے ہوتے ہیں۔
بھادوں پنجابی، بکرمی اور نانک شاہی کیلنڈر کا چھٹا مہینہ ہے جو ساون کے بعد آتا ہے اور اٹھویں انگریزی مہینے اگست کی 16 تاریخ سے ستمبر کی 15 تاریخ تک رہتا ہے اور اس مہینے کے 31 دن شمار کیے جاتے ہیں۔
بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں ساؤن اور بھادوں بارشوں کے مہینے ہیں جس میں مون سون کی بارشیں بالاء یعنی جون اور جولائی کی شدید گرمی کے بعد گرمی کا زور توڑ دیتی ہیں اسی لیے بھادوں کو پنجاب میں اچھے موسم والا مہینہ جسکی گرمی برداشت کے قابل ہوتی ہے تصور کیا جاتا ہے۔
بابا گرو نانک جو سکھوں کے سب سے بڑے گرو ہیں اپنی کتاب گرو گرنتھ صاحب میں لکھتے ہیں کہ "بھادوں بارش کا مہینہ انتہائی خوبصورت مہینہ ہے"۔
"روایات میں ہے کہ پنجابی کے 12 مہینوں کے نام گیاراں بھائیوں (ویساکھ، جیٹھ، ہاڑ، ساؤن، اسوج، کتک، مگھر، پوہ، ماگھ، پھگن، جیت اور 1 بہن (بھادوں) کے نام پر رکھے گئے یعنی سال کے سارے مہینوں میں بھادوں گیاراں بھائیوں کی اکلوتی اور انتہائی لاڈلی بہن ہے۔"
مزید روایات میں ہے کہ بھادوں جہاں انتہائی لاڈلی اور میٹھی ہے وہاں منہ زور، نک چڑھی، تیکھی اور چبھنے والی بھی ہے اس لیے اس مہینے کی گرمی اگر تیز ہوجائے تو انسان پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے، اس مہینے میں ہوا اگر چلتی ہو تو انتہائی سہانہ موسم ہوتا ہے اور ہوا اگر بند ہو جائے تو سانس بھی بند ہو جاتی ہے۔
کہتے ہیں بھادوں اگر برسے تو زمین پر رہنے والی مخلوق چرند، پرند، حشرات سبھی اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہیں اور اس دلفریب موسم کے مزے لوٹتے ہیں اور بھادوں اگر خشک ہو جائے تو یہ ہر چیز کو خشک کرکے رکھ دیتی ہے اس لیے اس موسم میں رب کائنات سے رحمت کی دعائیں مانگی چاہیے تاکہ اس موسم کی سختی سے بچا جا سکے۔
22 بھادوں کی رات کو بھدروں کا تارا طلوع ہو جائے گا۔ دیسی موسمی پیشگوئی کے مطابق 23 بھادوں کے دن میں ہم سردیوں میں داخل ہوجاتے ہیں، کیونکہ بھادوں کی 22 تاریخ کے بعد مکھی مچھر کا خاتمہ ہونا شروع ہوجاتا ہے، اور مویشی پال بھائی مال مویش سے مکھی مچھر بھگانے کے لیے دھواں نہیں لگاتے۔ 22 بھادوں کے ٹھیک ایک ہفتہ بعد اسوج (اسوں) کا دیسی مہینہ شروع ہوجاتا ہے اور اسوں میں صبح کے وقت شمال کی طرف سے ہوائیں چلیں گی جو کہ نارمل سے قدرت ٹھنڈی ہوتی ہیں اور درجہ حرارت گرانے میں کافی مدد دیتی ہیں۔ بھادوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ جیٹھ اور ہاڑ کی شدید گرمی کو ختم کرنے کے بعد جب خود ختم ہوتی ہے تو اپنے وجود کو کھونے کے ساتھ یہ زمین پر بہار کو جنم دیتی ہے اور موسم کو زمین والوں کے لیے انتہائی خوشگوار بنا دیتی ہے .... انشاءاللہ ٹھیک 21 دنوں بعد ہم سردیوں کے موسم میں داخل ہو جائیں گے .....
پنجابی، بکرمی اور نانک شاہی کیلنڈر کا آغاز 1469 میں بابا گرو نانک کی پیدائش کے دن سے کیا جاتا ہے ...

سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع اچھڑو تھر ایسا دشوار گزار سفید صحرا ہے جہاں اُس وقت نہ پختہ سڑکیں تھیں، نہ مناسب مواصلاتی نظ...
27/08/2026

سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع اچھڑو تھر ایسا دشوار گزار سفید صحرا ہے جہاں اُس وقت نہ پختہ سڑکیں تھیں، نہ مناسب مواصلاتی نظام اور نہ ہی قریب کوئی بڑا ہسپتال۔ سنگین نوعیت کے مریضوں کو کھیپرو یا سانگھڑ پہنچانے کے لیے 70 سے 100 کلومیٹر کا سفر، تقریباً دو گھنٹے کا انتظار اور پانچ ہزار روپے تک کرایہ درکار ہوتا تھا—جو مویشی پال کر گزارا کرنے والے بیشتر خاندانوں کی استطاعت سے باہر تھا۔ 1997ء میں لیاقت میڈیکل کالج جامشورو پہنچے اور ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد شہر میں اپنا مستقبل بنانے کے بجائے واپس اپنے پسماندہ صحرا لوٹ آئے۔
اچھڑو تھر میں سڑک نہ ہونے کے باعث ڈاکٹر ہاتھی سنگھ کو ایک اونٹ فراہم کیا گیا، جس پر پٹیاں، جراثیم کش دوا، درد کش ادویات، ڈرپس اور سرنجیں لاد دی گئیں۔ یوں صحرا کا روایتی سفری جانور ایک چلتی پھرتی طبی امدادی گاڑی—یعنی “اونٹ ایمبولینس”—بن گیا۔ ڈاکٹر سنگھ اسی اونٹ پر ریت کے بلند ٹیلے عبور کرتے ہوئے دور دراز بستیوں میں پہنچتے اور روزانہ بعض اوقات 30 مریضوں تک کا علاج کرتے تھے۔
وہ پورے اچھڑو تھر کے واحد ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور تقریباً چار ہزار مربع کلومیٹر علاقے کو طبی سہولت دینے والی واحد سرکاری ڈسپنسری کے معالج بھی بنے۔ غریب مریض فوری طور پر فیس ادا نہ کر سکتے تو وہ کبھی تقاضا یا بحث نہیں کرتے تھے؛ کوئی فصل یا مویشی فروخت کرنے کے بعد کچھ دے دیتا اور جس کے پاس کچھ نہ ہوتا، اس کا علاج بھی کردیا جاتا۔
بعد میں انہیں سرکاری ڈسپنسری کے ساتھ ایک جیپ مل گئی، مگر ایندھن دستیاب نہ ہونے کی صورت میں ان کا اونٹ ہی دوبارہ ایمبولینس بن جاتا۔ ڈاکٹر ہاتھی سنگھ نے ثابت کیا کہ خدمت کے لیے جدید گاڑیوں اور بڑے ہسپتالوں سے پہلے ایک درد مند دل اور مریض تک پہنچنے کا عزم ضروری ہوتا ہے۔ جس صحرا میں مریض ڈاکٹر تک نہیں پہنچ سکتے تھے، وہاں یہ ڈاکٹر خود اونٹ پر سوار ہوکر مریضوں کے دروازوں تک پہنچ گیا۔
نوٹ: روڈز اینڈ کنگڈمز⁠ نے سات برس جبکہ ایکسپریس ٹریبیون⁠ نے تقریباً دس برس کی خدمت لکھی ہے۔

26/08/2026
Well Come Back To School
24/08/2026

Well Come Back To School

24/08/2026

Well Come Back To School

20/08/2026

I got over 600 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

سکول 24 اگست 2026 بروز سوموار کھلنے جا رہے ہیں سکول کی صفائی ستھرائی کا کام زور شور سے جاری ہے
20/08/2026

سکول 24 اگست 2026 بروز سوموار کھلنے جا رہے ہیں سکول کی صفائی ستھرائی کا کام زور شور سے جاری ہے

14/08/2026

ذرا ہٹ کے / یاسر پیرزادہ
ہم سب کے اندر کا جانور 47ء میں کیوں جاگا؟

سن 1974ء کی ایک شام اٹلی کے شہر نیپلز کے آرٹ سٹوڈیو میں ایک عجیب تماشا ہوا۔ ایک اٹھائیس سالہ فنکارہ، مرینا ابراموویچ، کمرے کے وسط میں بت بنی کھڑی ہو گئی اور اس نے اپنے سامنے میز پر 72 مختلف اشیا رکھ دیں۔ ان چیزوں میں گلاب کا پھول، پرندے کا پر، شہد، انگور وغیرہ تھے، مگر ساتھ ہی قینچی، بلیڈ، چھری، کیل تھے اور ایک پستول بھی تھا جس کے ساتھ ایک گولی بھی رکھی تھی۔ دیوار پر ایک اعلان چسپاں تھا کہ اگلے چھ گھنٹے میں آپ ان چیزوں میں سے جو چاہیں اٹھائیں اور میرے ساتھ جو چاہیں کریں، تمام ذمہ داری میری ہو گی۔ گویا اس عورت نے تماشائیوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ آج تمہارا کوئی احتساب نہیں ہو گا۔ پہلے گھنٹے میں لوگ شرمائے شرمائے رہے۔ کسی نے گلاب تھما دیا، کسی نے گال چوم لیا، کسی نے پانی پلا دیا۔ مگر پھر جوں جوں وقت گزرا اور لوگوں کو یقین آتا گیا کہ یہ عورت واقعی مزاحمت نہیں کرے گی اور ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا تو انسانوں کی وہ پرت اترنا شروع ہوئی جسے ہم تہذیب کہتے ہیں۔ کسی نے قینچی سے اس کے کپڑے کاٹ ڈالے، کسی نے بلیڈ سے اس کی گردن پر زخم لگایا، کسی نے گلاب کے کانٹے اس کے پیٹ میں چبھو دیے اور بالآخر ایک صاحب نے پستول میں گولی ڈال کر اس کے ہاتھ میں تھمائی اور ُرخ اُس کی اپنی گردن کی طرف کر دیا۔ اس موقع پر ہال میں موجود چند لوگوں کی غیرت جاگی اور انہوں نے مداخلت کی ورنہ فن کی تاریخ اس شام ایک لاش اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتی۔ چھ گھنٹے مکمل ہوئے تو مرینا نے حرکت کی اور تماشائیوں کی طرف چل پڑی۔ مگر وہ لوگ جو چند منٹ پہلے تک اس کے جسم پر بلیڈ چلا رہے تھے، اُس کے آگے بڑھتے ہی ہال سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب تک وہ بے جان شے تھی، سب شیر تھے، جوں ہی وہ دوبارہ انسان بنی، کسی نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہ کی۔ مرینا نے برسوں بعد اس تجربے کا نچوڑ ایک فقرے میں بیان کیا کہ اگر آپ فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دیں تو وہ آپ کو قتل بھی کر سکتے ہیں۔

جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو سوچا کہ آخر ان چھ گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا جس نے انسانوں کو حیوانوں میں بدل دیا۔ نیپلز کے اُس سٹوڈیو میں کوئی جرائم پیشہ لوگ جمع نہیں تھے، یہ فن سے دلچسپی رکھنے والے پڑھے لکھے شائستہ لوگ تھے، وہی لوگ جو گھر جا کر بچوں کو پیار کرتے ہیں، بوڑھی ماں کا حال پوچھتے ہیں اور اتوار کو گرجا گھر میں سر جھکاتے ہیں۔ پھر انہوں نے مرینا کو لہولہان کیوں کر دیا؟ جواب بہت خوفناک ہے۔ اُن چھ گھنٹوں میں صرف ایک چیز تبدیل ہوئی تھی، احتساب کا خوف ختم ہو گیا تھا۔ جس لمحے انسان کو یقین ہو جائے کہ اس سے کوئی نہیں پوچھے گا، اس لمحے اس کے اندر بیٹھا جانور انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ تہذیب دراصل کوئی اندرونی خوبی نہیں، یہ ایک باریک سا خ*ل ہے جو قانون کے ڈنڈے، سماج کی نظر اور خدا کے خوف سے قائم ہے۔ یہ تینوں پہرے دار سو جائیں تو اندر کا قیدی خ*ل سے باہر نکل آتا ہے۔ سائنس دانوں نے یہ تجربہ اپنے انداز میں بھی کیا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکی ماہر نفسیات سٹینلے ملگرام نے عام شہریوں سے کہا کہ وہ ایک تجربے کے دوران دوسرے کمرے میں بیٹھے شخص کو غلط جواب پر بجلی کے جھٹکے دیں۔ حکم دینے والا سفید کوٹ پہنے ایک شخص تھا اور بس یہی کافی تھا۔ لوگوں کی اکثریت جھٹکوں کی شدت بڑھاتی چلی گئی حالانکہ دوسری طرف سے چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ چند سال بعد سٹینفرڈ یونیورسٹی میں طلبہ کو قیدی اور جیلر بنا کر ایک نقلی جیل بسائی گئی تو جیلر بنے ہوئے شریف لڑکے چند ہی دنوں میں ایسے ظالم بن گئے کہ تجربہ وقت سے پہلے بند کرنا پڑا۔ ان تجربات پر بعد میں طریقہ کار کے حوالے سے اعتراضات بھی ہوئے، مگر بنیادی سبق وہی رہا جو مرینا کے سٹوڈیو میں ملا تھا۔ ظلم کرنے کے لیے باقاعدہ ظالم ہونے کی سند ضروری نہیں، صرف موقع درکار ہے۔ اور اگر موقع اگر کسی قوم کو اجتماعی طور پر مل جائے تو کیا ہوتا ہے، یہ جاننے کے لیے ہمیں اٹلی جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس سن 47ء ہے۔

بٹوارے کے ہنگام جو کچھ پنجاب اور بنگال میں ہوا وہ انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق پچھتر ہزار سے ایک لاکھ کے قریب عورتیں اغوا ہوئیں، حالانکہ میرا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی کیونکہ بے شمار خاندانوں نے عزت کے خوف سے رپورٹ ہی درج نہیں کروائی اور کچھ ایسی بھی تھیں جو مل تو گئیں مگر اب وہ دوسروں کی ’بیویاں‘ بن کر بچے پیدا کر چکی تھیں، سو اُن بیچاریوں نے جانے سے انکار دیا۔ مگر ان اعداد و شمار سے زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ یہ سب کرنے والے کون تھے۔ یہ کوئی باہر سے آئے ہوئے حملہ آور نہیں تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جو نسلوں سے ایک دوسرے کے پڑوس میں رہ رہے تھے، جن کے بچے اکٹھے کھیلتے تھے، جو ایک دوسرے کی شادیوں میں شامل ہوتے اور جنازوں کو کندھا دیتے تھے۔ پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ غلام غوث نے اپنے یار کرتار سنگھ کی بیٹی اٹھا لی اور کرتار سنگھ کے بھائیوں نے غلام غوث کا محلہ جلا دیا؟ ہوا وہی جو نیپلز کے سٹوڈیو میں ہوا تھا، بس پیمانہ بدل گیا۔ ریاست تحلیل ہو چکی تھی، پولیس اور فوج خود تقسیم ہو رہی تھی، عدالتیں معطل تھیں، حکومت ناپید تھی اور ہر شخص کو یقین تھا کہ اب کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اوپر سے مذہبی جنون نے یہ سہولت بھی فراہم کر دی کہ ظلم کو فرض کا درجہ مل گیا۔ جس شخص کو یقین ہو جائے کہ دوسرے کی بہو بیٹی اٹھانا نہ صرف جرم نہیں بلکہ اپنے مذہب اور اپنی قوم کی خدمت ہے، اس کے ہاتھ کون روک سکتا ہے۔

مرینا کے تماشائیوں کے پاس تو صرف احتساب سے آزادی تھی، 47ء کے بلوائیوں کے پاس احتساب سے آزادی کے ساتھ ساتھ ثواب کی امید بھی تھی۔ نتیجہ یہ کہ چھ گھنٹے کا تجربہ چھ مہینوں پر پھیل گیا اور بلیڈ کی جگہ کرپانوں، چھریوں اور جلتی ہوئی مشعلوں نے لے لی۔ منٹو کا افسانہ ’کھول دو‘ یاد آ گیا۔ بوڑھا سراج الدین بلوے میں اپنی جوان بیٹی سکینہ سے بچھڑ جاتا ہے اور کیمپ میں رضاکاروں کی منت کرتا ہے کہ میری بچی کو ڈھونڈ دو۔ رضاکار سکینہ کو ڈھونڈ بھی لیتے ہیں مگر باپ تک پہنچانے کے بجائے خود اس پر وہ قیامت ڈھاتے ہیں کہ قلم لکھتے ہوئے کانپتا ہے۔ افسانے کے آخر میں نیم مردہ سکینہ ہسپتال پہنچتی ہے تو ڈاکٹر کھڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کھول دو، اور برسوں کی اذیت کی ماری وہ لڑکی بے ہوشی کے عالم میں اپنے ازار بند کی طرف ہاتھ لے جاتی ہے۔ باپ خوشی سے چلا اٹھتا ہے کہ میری بیٹی زندہ ہے اور ڈاکٹر پسینے میں نہا جاتا ہے۔ دنیا کے کسی ادب میں دو لفظوں کا اتنا خوفناک استعمال شاید ہی ہوا ہو۔

تو پھر کیا انسان بنیادی طور پر بدی کا منبع ہے؟ میں اتنا قنوطی نہیں۔ اسی نیپلز کے سٹوڈیو میں وہ لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے پستول والے کو گولی چلانے سے روکا اور 47ء میں بھی وہ ہندو، سکھ اور مسلمان موجود تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر پڑوسیوں کو گھروں میں پناہ دی اور سرحد پار پہنچایا۔ تقسیم کے یہ دردناک قصّے، منٹو، کرشن چندر اور بیدی کے لہو ٹپکاتے قلم ہی سے نکل سکتے تھے۔ سن 47ء کا گھاؤ اتنا گہرا ہے کہ سُرخا سُرخ خون کی دھار اب تک بہہ رہی ہے۔

(یہ کالم آج 12 اگست 2026 کو روزنامہ جنگ میں شائع ہوا )

14/08/2026

تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے

Address

Chak No. 32 EB Arif Wala, Distt. Pakpattan

57450

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GES 32 EB Arif Wala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your organization to be the top-listed Government Service?

Share