M.HaFiz

M.HaFiz poetry box

24/12/2020

وہ آفتاب لانے کا دے کر ہمیں فریب
ہم سے ہماری رات کے جگنو بھی لے گیا

ایم حافظ

11/11/2020

سائیکالوجسٹ: کیسے ہو؟
میں: ٹھیک ہوں میڈم۔۔

سائیکالوجسٹ: ذہنی طور پہ کیسے ہو؟
میں: ٹھیک نہیں ہوں میڈم۔۔

سائیکالوجسٹ: کیوں؟
میں: معلوم ہوتا تو کیا یہاں بیٹھ کے آپ کے سوالوں کے جواب دے رہا ہوتا؟

سائیکالوجسٹ: کیا محبت کا مسئلہ ہے؟
میں: نہیں، محبتوں کا ہے۔۔

سائیکالوجسٹ: کتنی بار محبت کی ہے؟
میں: معلوم نہیں ، ابھی بیٹھے بیٹھے آپ کی گفتگو سے بھی محبت کرنے لگا ہوں۔۔

سائیکالوجسٹ: پہلی محبت کب ہوئی تھی؟
میں: جب پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔۔

سائیکالوجسٹ: آخری محبت کب ہوئی؟
میں: جب کالج میں تھا۔۔


سائیکالوجسٹ: تو پھر دوبارہ محبت کیوں نہیں کی؟
میں: کیونکہ آخری محبت بھلائی نہیں جا رہی ہے۔۔

سائیکالوجسٹ: وہ آخری کیوں تھی؟
میں: کیونکہ اس کے بعد محبت کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔۔

سائیکالوجسٹ: ابھی تو کہہ رہے تھے آپ کی گفتگو سے محبت کر رہا ہوں۔ پھر؟
میں: وقتی ہے دل بہلانے کے لیے یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے آپ کی محبت یہیں چھوڑ جاؤں گا۔

سائیکالوجسٹ: اس کی محبت کو اتنا سوار کیوں کر رکھا ہے؟ ایسا کیا ہے، اس کی محبت میں جو تم کسی اور میں تلاش نہیں کر پا رہے؟
میں: اس کی غزالی آنکھوں کی نمی اور اس کی مہک کے حصار نے کبھی گھیرے سے باہر نکلنے نہیں دیا

سائیکالوجسٹ: آخری بار کب ملے تھے؟
میں: یہاں آنے سے پہلے ہی ملا تھا۔

سائیکالوجسٹ: کہاں؟
میں: آئینے کے سامنے جب بال سنوار رہا تھا۔

سائیکالوجسٹ: وہ ساتھ تھی؟
میں: وہ الگ کب ہوئی؟

سائیکالوجسٹ: الگ کرو گے تو کسی اور سے محبت ہوگی۔۔
میں: آخری محبت ہے کیسے بھولوں؟

سائیکالوجسٹ: تم نے آخری بنا رکھا ہے۔
میں: وہ سوار ہے بھلائی نہیں جاتی ہے۔

سائیکالوجسٹ: کیا چیز بھولنے نہیں دیتی؟
میں: یہ چائے کا کپ جو سامنے پڑا ہے۔

سائیکالوجسٹ: ہم اس کی جگہ کافی بھی رکھ سکتے ہیں۔
میں: میڈم یہ آپشن محبت میں نہیں ملا کرتے۔

سائیکالوجسٹ: خوش کب ہوتے ہو؟
میں: جب اکیلا ہوں۔

سائیکالوجسٹ: کیوں؟
میں: کیونکہ تنہائی میں ہی ہماری ملاقات ہوتی ہے۔

سائیکالوجسٹ: دن میں کتنی بار ملاقات ہوتی ہے؟
میں: دن میں اتفاق سے ہوجاتی ہے ورنہ رات میں لازم۔

سائیکالوجسٹ: اور رات میں کب تک؟
میں: جب تک نیند نا آئے۔

سائیکولوجسٹ: نیند کب تک آ جاتی ہے؟
میں: جب تک ملاقات میں ناراضگی نا آ جائے۔۔

سائیکولوجسٹ: ناراضگی سے نیند کا کیا تعلق؟
میں: جب وہ ناراض ہوتی ہے پھر میں اداس ہو کر روتا ہوں اور روتا روتا کب سو جاؤں معلوم نہیں پڑتا۔۔

سائیکالوجسٹ: تو پھر اگلے دن ملاقات کیسے ہوتی جب ناراضگی ہو؟
میں: صبح اٹھتے ہی ہم اک دوسرے کو منا لیتے ہیں۔

سائیکالوجسٹ: کیا وہ بھی اتنا ہی چاہتی ہے؟
میں: یقیناً ورنہ آج بھی ساتھ نا ہوتی۔۔

سائیکالوجسٹ: تم پاگل ہو۔۔
میں: اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں۔۔

سائیکالوجسٹ: تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔۔
میں: پاگل ٹھیک ہوتے ہیں؟

سائیکالوجسٹ: بالکل ہوتے ہیں۔۔
میں: کیا آپ لوگ پاگل نہیں ہوئے کبھی؟

سائیکالوجسٹ: مطلب؟؟
میں: کیا آپ لوگ محبت نہیں کرتے؟

سائیکالوجسٹ: کرتے ہیں۔۔
میں: پھر جب جدائی ملے تب پاگل نہیں ہوتے؟

سائیکالوجسٹ: ہوتے ہیں۔۔
میں: پھر آپ لوگ جب خود پاگل ہو تو ہمارا علاج کیسے کر رہے؟

سائیکالوجسٹ: زوردار قہقہ مار کر ہنسنے لگی
میں: اب میں جاؤں؟

سائیکالوجسٹ: ہاں جاؤ

میں اٹھا اور وہ ہنستے ہنستے میز پہ رکھے ٹشو سے آنسو پوچھنے لگی۔

سارے وعدوں کو بھُلا سکتی ہوں لیکن چھوڑومیں تمہیں چھوڑ کے جا سکتی ہوں لیکن چھوڑویوں ہی زحمت نہ کرو تُم کہ میں اپنی خاطرچا...
17/10/2020

سارے وعدوں کو بھُلا سکتی ہوں لیکن چھوڑو
میں تمہیں چھوڑ کے جا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

یوں ہی زحمت نہ کرو تُم کہ میں اپنی خاطر
چائے میں زہر ملا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

تم جو ہر موڑ پہ کہہ دیتے ہو اللہ حافظ
فیصلہ میں بھی سُنا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

وہ پرندہ جو اُڑا ہے میرا پنجرہ لے کر
میں اُسے مار کے لا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

تم نے تو بات کہی دل کو دکھانے والی
اس پہ میں شعر سُنا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

رائیگاں تم جو ہوئے ہو تو شکایت کیسی
میں تمہیں اور گنوا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

شرم آئے گی تمہیں ورنہ تمہاری باتیں
میں تمہیں یاد دلا سکتی ہوں لیکن چھوڑو

بس اک اُسی پہ تو پوری طرح عیاں ہوں میںوہ کہہ رہا ہے مجھے رائگاں، تو ہاں ہوں میںجسے دکھائی دے، میری طرف اشارہ کرےمجھے دکھ...
16/10/2020

بس اک اُسی پہ تو پوری طرح عیاں ہوں میں
وہ کہہ رہا ہے مجھے رائگاں، تو ہاں ہوں میں

جسے دکھائی دے، میری طرف اشارہ کرے
مجھے دکھائی نہیں دے رہا کہاں ہوں میں؟

کسی نے پوچھا، کہ تم کون ہو؟ تو بھول گیا
ابھی کسی نے بتایا تو تھا، فلاں ہوں میں !

میں کس سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط
جہاں سے کوئی گزرتا نہیں، وہاں ہوں میں !

ہر ایک شخص کو اپنی پڑی ہوئی ہے یہاں
مرا خیال ہے اپنوں کے درمیاں ہوں میں!

ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے
سڑک سے نیچے بنایا گیا مکاں ہوں میں!

میں خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ
تو بس نشان لگا دے جہاں جہاں ہوں میں!💓

27/09/2020

اُٹھا رہا ہے جو فتنے مری زمینوں میں
وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں

کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا
جو پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے، سینوں میں

کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی
ریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں

قصور وار سمجھتا نہیں کوئی خود کو
چھڑی ہوئی ہے لڑائی منافقینوں میں

یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں
کہ اقتدار رہے اُن کے جانشینوں میں

یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لیے
کھڑے رہو گے کہاں تک تماش بینوں میں

07/09/2020

اِسی ندامت سے اُس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں...
کہ ہم چھڑی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے ہیں....

یہاں سے جانے کی جلدی کس کو ہے تم بتاؤ ؟؟..
یہ سوٹ کیسوں میں کپڑے کس نے بھرے ہوئے ہیں...

وہ خود پرندوں کا دانا لینے گیا ہوا ہے...
اور اُس کے بیٹے شکار پر گئے ہوئے ہیں...

کرا تو لوں گا میں علاقہ خالی لڑ جھگڑ کر...
مگر جو اس نے دلوں پر قبضے کیے ہوئے ہیں...

میں کیسے باور کراؤں جا کر یہ روشنی کو ...
کہ ان چراغوں پہ میرے پیسے لگے ہوئے ہیں....

تمھارے دل میں کھلی دکانوں سے لگ رہا ہے...
یہ گھر یہاں پر بہت پرانے بنے ہوئے ہیں.... 😌

تہذیب حافی

22/08/2020

جس نکمے سے کچھ نہیں ہوگا
اسکے مرنے سے کچھ نہیں ہوگا

پیار کرنا ہے تو دماغ لگاؤ🤔
دل لگانے سے کچھ نہیں ہوگا 💓

دینا بھی ہے تو وقت دو مجھکو🕰
جان دینے سے کچھ نہیں ہوگا

مجھ کو دل سے نکال تب مانوںں
چھوڑ جانے سے کچھ نہیں ہوگا

18/08/2020
موج  خوشبو  کی  طرح بات  اڑانے  والے۔۔تجھ میں پہلے تو نہ تھے رنگ زمانے والے۔۔کتنے ہیرے میری آنکھوں سے چرائے تُو نے،چند پ...
16/08/2020

موج خوشبو کی طرح بات اڑانے والے۔۔
تجھ میں پہلے تو نہ تھے رنگ زمانے والے۔۔

کتنے ہیرے میری آنکھوں سے چرائے تُو نے،
چند پتھر میری جھولی میں گرانے والے۔۔

خون بہا اگلی بہاروں کا تیرے سر تو نہیں،
خُشک ٹہنی پہ نیا پھول کھلانے والے۔۔

آ تجھے نظر کروں اپنی ہی شہہ رگ کا لہو،
میرے دشمن،، میری توقیر بڑھانے والے۔۔

آستینوں میں چھپائے ہوئے خنجر آئے،
مجھ سے یاروں کی طرح ہاتھ ملانے والے۔۔

ظلمتِ شب سے انہیں کیسی شکایت محسن؟
وہ تو سورج کو تھے آئینہ دکھانے والے۔۔...

جلتا بجھتا، بجھ کر جلتا، جل کر بھجتا رہتا ہوںبڑی سڑک پر چوک کے وسط میں لگے اشارے جیسا ہوں..اپنی ساری خوشیاں بانٹ دیا کرت...
16/08/2020

جلتا بجھتا، بجھ کر جلتا، جل کر بھجتا رہتا ہوں
بڑی سڑک پر چوک کے وسط میں لگے اشارے جیسا ہوں..

اپنی ساری خوشیاں بانٹ دیا کرتا ہوں لوگوں میں
اپنے سارے دکھ تو میں خود ہی سے بانٹا کرتا ہوں..

کل شب اک مانوس صدا پر چونک کے میں نے پوچھا،کون؟
اُس نے کہا تھا مَیں ہوں!،تب سے مَیں اُس مَیں میں کھویا ہوں..

وہ دیہات کی رہنے والی اِک معصوم سی لڑکی تھی
بڑے شہر کی تنگ گلیوں میں اُس کو ڈھونڈتا رہتا ہوں..

اس سے ملکر یوں لگتا تھا اپنا گزارا ہو جائے گا
وہ بھی تھوڑی پگلی سی تھی میں بھی اس کے جیسا ہوں..

ہم دونوں میں طے یہ ہوا تھا بچھڑ گئے تو مر جائیں گے
اس کا تو اب اک بیٹا ہے، حافظ میں بھی زندہ ہوں..

۔

#ایمحافظ

راحت اندوری کے بڑے صاحبزادے ستلج نے ان کا آخری کلام شیٸر کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ راحت اندوری نے موت کی آہٹ محسوس کر...
13/08/2020

راحت اندوری کے بڑے صاحبزادے ستلج نے ان کا آخری کلام شیٸر کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ راحت اندوری نے موت کی آہٹ محسوس کر لی تھی۔

آخری غزل

نٸے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا
تو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتا

تمام پھول وہی لوگ توڑ لیتے ہیں
وہ جن کے کمروں میں گلدان بھی نہیں ہوتا

خموشی اوڑھ کے سوٸی ہیں مسجدیں ساری
کسی کی موت کا اعلان بھی نہیں ہوتا

وبا نے کاش ہمیں بھی بلا لیا ہوتا
تو ہم پر موت کا احسان بھی نہیں ہوتا

افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہےلوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کردیادو گز سہی مگر یہ مِری ملکیت تو ہےاے موت تو نے مجھ کو زمی...
11/08/2020

افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے
لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کردیا
دو گز سہی مگر یہ مِری ملکیت تو ہے
اے موت تو نے مجھ کو زمیندار کردیا

راحت اندوری

Address

Punjab
Punjab
KOTLA

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 12:00 - 19:30
Friday 12:00 - 19:30
Saturday 12:00 - 19:30
Sunday 12:00 - 19:30

Telephone

+971529476162

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.HaFiz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to M.HaFiz:

Share

Category