I Love Poetry

I Love Poetry Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from I Love Poetry, Islamabad, punjab.

27/08/2024

کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضہ ہے
غم دنیا سے گھبرا کر تمہیں دل نے پکارا ہے

تمہاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی
قسم تم کو ذرا سوچو کہ دستور وفا کیا ہے

نہ جانے کس لیے دنیا کی نظریں پھر گئیں ہم سے
تمہیں دیکھا تمہیں چاہا قصور اس کے سوا کیا ہے

نہ ہے فریاد ہونٹوں پر نہ آنکھوں میں کوئی آنسو
زمانے سے ملا جو غم اسے گیتوں میں گایا ہے

بہزاد لکھنوی

26/07/2023

ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا
موجوں کے لئے کوئی کنارا نہیں ہوتا

دل ٹوٹ بھی جائے تو محبت نہیں مٹتی
اس راہ میں لٹ کر بھی خسارا نہیں ہوتا

سرمایۂ شب ہوتے ہیں یوں تو سبھی تارے
ہر تارہ مگر صبح کا تارا نہیں ہوتا

اشکوں سے کہیں مٹتا ہے احساس تلون
پانی میں جو گھل جائے وہ پارا نہیں ہوتا

سونے کی ترازو میں مرا درد نہ تولو
امداد سے غیرت کا گزارا نہیں ہوتا

تم بھی تو مظفر کی کسی بات پہ بولو
شاعر کا ہی لفظوں پہ اجارا نہیں ہوتا

مظفر وارثی

25/07/2023

ترے خیال ترے خواب تیرے نام کے ساتھ
بنی ہے خاک مری کتنے اہتمام کے ساتھ

بہت سے پھول تھے اور سارے اچھے رنگوں کے
صبا نے بھیجے تھے جو کل ترے پیام کے ساتھ

نظر ٹھہرتی نہ تھی اس پہ اور خود پر بھی
میں آئینے میں تھی کل ایک لالہ فام کے ساتھ

ترے خیال سے روشن ہے سر زمین سخن
کہ جیسے زینت شب ہو مہ تمام کے ساتھ

پھر آ گئی ہے مرے در پہ کیا وہی دنیا
میں کر کے آئی تھی رخصت جسے سلام کے ساتھ

سنا ہے پھول جھڑے تھے جہاں ترے لب سے
وہاں بہار اترتی ہے روز شام کے ساتھ

خوشی کے واسطے کب کوئی دن مقرر تھا
مگر یہ دل میں رکی ہے ترے خرام کے ساتھ

نرجس افروز زیدی

24/07/2023

چلی اب گل کے ہاتھوں سے لٹا کر کارواں اپنا
نہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا

یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے سے زندگی کرتے
اگر ہوتا چمن اپنا گل اپنا باغباں اپنا

الم سے یاں تلک روئیں کہ آخر ہو گئیں رسوا
ڈوبایا ہائے آنکھوں نے مژہ کا خانداں اپنا

رقیباں کی نہ کچھ تقصیر ثابت ہے نہ خوباں کی
مجھے ناحق ستاتا ہے یہ عشق بدگماں اپنا

مرا جی جلتا ہے اس بلبل بیکس کی غربت پر
کہ جن نے آسرے پر گل کے چھوڑا آشیاں اپنا

جو تو نے کی سو دشمن بھی نہیں دشمن سے کرتا ہے
غلط تھا جانتے تھے تجھ کو جو ہم مہرباں اپنا

کوئی آزردہ کرتا ہے سجن اپنے کو ہے ظالم
کہ دولت خواہ اپنا مظہر اپنا جان جاں اپنا

مرزا مظہر

17/04/2023

"غالب" نظر کے سامنے حسن و جمال تها!!!
"محسن" وہ بشر خود میں سراپا کمال تها!!!

ہم نے "فراز" ایسا کوئ دیکها نہیں تها!!!
ایسا لگا "وصی" کہ وہ گدڑی میں لعل تها!!!

اب "میر" کیا بیان کریں اسکی نزاکت!!!
ہم "فیض" اسے چهو نہ سکے یہ ملال تها!!!

اسکو "قمر" جو دیکها تو حیران رہ گۓ!!!
اے "داغ" تیری غزل تها وہ بیمثال تها!!!

"اقبال" تیری شاعری ہے جیسے باکمال!!!
وہ بهی "جگر" کے لفظوں کا پرکیف جال تها!!!

بلکل تمہارے گیتوں کے جیسا تها وہ "قتیل!!!
یعنی "رضا" یہ سچ ہے کہ وہ لازوال تها!!!

14/08/2022

اس کو فرصت ہی نہیں بات کی تمہید سنے
ہم وه پاگل ہیں جو تفصیل میں لگ جاتے ہیں

کاظم حسین کاظم

13/08/2022

اس دھوپ کےجنگل میں انا کا ہے عجب رخ
صحرا کے مسافر کو شجر ڈھونڈ رہا ہے

نوید ہاشمی

12/08/2022

عشق لایا تھا مجھے گھیر کے اپنی جانب
اس منافق کا گریبان نہیں چھوڑوں گی

کومل جوئیہ

12/08/2022

گوشوارہ

کیا حال سنائیں دنیا کا ، کیا بات بتائیں لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں، لاکھوں ہی ادائیں لوگوں کی
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں ، دنیا کو سنانے کے قابل
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں ، بس دل میں چھپانے کے قابل
کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں ، اک بار گئے تو آتے نہیں
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں ، پرچھائیں بھی اُن کی پاتے نہیں
کچھ لوگ خیالوں کے اندر جذبوں کی روانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں ، کچھ لوگ کنارہ ہوتے ہیں
کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکے کا سہارا ہوتے ہیں
کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ ، کچھ ریت گھروندا چھوٹا سا
کچھ لوگ مثالِ ابر ِرواں ، کچھ اونچے درختوں کا سایا
کچھ لوگ چراغوں کی صورت راہوں میں اجالا کرتے ہیں
کچھ لوگ اندھیرے کی کالک چہروں پہ اُچھالا کرتے ہیں
کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں ، دوگام چلے اور رستے الگ
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا ، ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ
کیا حال سنائیں اپنا تمہیں ، کیا بات بتائیں جیون کی؟
اک آنکھ ہماری ہنستی ہے ، اک آنکھ میں رُت ہے ساون کی
ہم کس کی کہانی کا حصہ ، ہم کس کی دعا میں شامل ہیں؟
ہے کون جو رستہ تکتا ہے ۔ ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں؟
کس کس کا پکڑ کر دامن ہم اپنی ہی نشانی کو پوچھیں؟
ہم کھوئے گئے کن راہوں میں، اس بات کو صاحب جانے دیں
کچھ درد سنبھالے سینے میں ، کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے
اک عمر گنوائی ہے اپنی ، کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے
دل خرچ کیا ہے لوگوں پر ، جاں کھوئی ہے ، غم پا یا ہے
اپنا تو یہی ہے سود و زیاں ، اپنا تو یہی سرمایا ہے
اپنا تو یہی سرمایا ہے

ظہیر احمد

07/07/2022

کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا
نظر کے سامنے منظر ہے بے کرانی کا

ندی کے دونوں طرف ساری کشتیاں گم تھیں
بہت ہی تیز تھا اب کے نشہ روانی کا

میں کیوں نہ ڈوبتے منظر کے ساتھ ڈوب ہی جاؤں
یہ شام اور سمندر اداس پانی کا

پرندے پہلی اڑانوں کے بعد لوٹ آئے
لپک اٹھا کوئی احساس رائیگانی کا

میں ڈر رہا ہوں ہوا میں کہیں بکھر ہی جائے
یہ پھول پھول سا لمحہ تری نشانی کا

وہ ہنستے کھیلتے اک لفظ کہہ گیا بانی
مگر مرے لیے دفتر کھلا معانی کا

اب اس قدر بھی توجہ پذیر کیا ہوناکوئی بھی شخص اٹھے تیری جستجو کر لے!!
24/06/2022

اب اس قدر بھی توجہ پذیر کیا ہونا
کوئی بھی شخص اٹھے تیری جستجو کر لے!!

‏یہ ان کا ظرف ہے بیٹھے ہیں آستینوں میںیہ میرا ظرف ہے کہ میں یار یار کہتا ہوں۔۔
11/11/2021

‏یہ ان کا ظرف ہے بیٹھے ہیں آستینوں میں
یہ میرا ظرف ہے کہ میں یار یار کہتا ہوں۔۔

Address

Islamabad
Punjab
50400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when I Love Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share