Sadaf Jabeen

Sadaf Jabeen Lecturer at university of Peshawar,
Department of international relations & Pakistan studies.. Analyst of current affairs

طالبان کیسے بنے اس کی شروعات 1994 سے ہوئی سوویت جنگ کے بعد افغانستان میں مرکزی حکومت ختم ہو گئی ہر صوبے میں مقامی کمانڈر...
13/05/2026

طالبان کیسے بنے اس کی شروعات 1994 سے ہوئی سوویت جنگ کے بعد افغانستان میں مرکزی حکومت ختم ہو گئی ہر صوبے میں مقامی کمانڈر قابض تھے قندھار کے علاقے میں لوٹ مار اغوا اور چیک پوسٹوں کا نظام تھا ایک دن سنگیسار کے علاقے میں دو کمانڈروں نے دو لڑکیوں کو اغوا کیا مقامی لوگ ملا محمد عمر کے پاس آئے جو اس وقت اپنے مدرسے میں تیس چالیس طلبہ کو پڑھا رہے تھے ملا عمر نے طلبہ کو جمع کیا اور مسلح ہو کر ان کمانڈروں پر حملہ کیا کمانڈروں کو قتل کر کے لڑکیوں کو بازیاب کرایا

اس واقعے کے بعد قریبی دیہات کے لوگ ملا عمر کے پاس آنے لگے کہ ہمارے علاقے سے بھی ڈاکو ختم کرو ملا عمر نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ صرف ایک گاؤں نہیں پورے علاقے سے ظلم ختم کرنا ہے یہی سے تحریک طالبان کا آغاز ہوا طالبان کا مطلب دین کے طالب علم ہے شروع میں تعداد پچاس سے کم تھی سب مدرسے کے طلبہ اور نوجوان مولوی تھے
افغانستان پر قبضہ اس کی ترتیب یہ تھی اکتوبر 1994 میں ملا عمر کے ساتھیوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا یہ قندھار کے جنوب میں پاک افغان سرحد پر بڑا تجارتی راستہ تھا وہاں اسلحہ کا بڑا ڈپو بھی ہاتھ آیا جس میں ہزاروں کلاشنکوف اور گولیاں تھیں اس اسلحے سے طاقت بڑھی
نومبر 1994 میں قندھار شہر پر حملہ کیا اس وقت قندھار پر گلبدین حکمت یار کے کمانڈر تھے لڑائی دو دن چلی طالبان جیت گئے قندھار فتح ہوتے ہی پورے صوبے کے کمانڈر یا بھاگ گئے یا طالبان سے مل گئے عوام نے استقبال کیا کیونکہ سڑکیں محفوظ ہو گئیں اور بھتہ ختم ہو گیا
سویت جنگ پر میں نے تفصیلی بات کی ہیں اس میں گلبدین حکمت یار مسعود وغیرہ کمانڈر کی تعارف کی ہیں ۔۔
فلحال موضوع یہ ہیں کہ
1995 میں پیش قدمی جاری رہی فروری 1995 میں ہلمند اور پھر مغرب میں فراہ نیمروز پر قبضہ کیا ستمبر 1995 میں ہرات پر حملہ کیا ہرات اسمعیل خان کے پاس تھا تین دن کی لڑائی کے بعد ہرات بھی فتح ہو گیا اب مغربی افغانستان طالبان کے کنٹرول میں آ گیا
مشرق کی طرف کابل کا محاصرہ شروع کیا 1995 اور 1996 کے دوران کابل پر برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کی حکومت تھی شہر پر راکٹ برستے تھے طالبان نے جلال آباد اور لغمان پر قبضہ کیا اور کابل کے قریب پہنچ گئے
ستمبر 1996 کو طالبان نے جلال آباد سے پیش قدمی کی اور بغیر بڑی مزاحمت کے کابل میں داخل ہو گئے احمد شاہ مسعود اور حکومتی فوجی شمال کی طرف پنجشیر وادی چلے گئے کابل فتح ہوتے ہی صدارتی محل پر سفید جھنڈا لہرا دیا گیا
اکتوبر 1996 سے 1998 تک طالبان نے شمال کی طرف دھکیلنا شروع کیا 1997 میں مزار شریف پر حملہ کیا مگر رشید دوستم اور شیعہ ہزارہ ملیشیا نے شکست دی سینکڑوں طالبان مارے گئے اگست 1998 میں دوبارہ حملہ کیا اس بار مزار شریف فتح ہو گیا اس جنگ میں ایرانی سفارتکار بھی مارے گئے جس پر ایران اور طالبان کے تعلقات خراب ہوئے۔بعد میں ایران نے بہت بڑا انتقام لیا یہ بات کسی کو شاید معلوم نہ ہو لیکن یہ بات یہاں اس لئے نہیں کررہا کہ پھر لوگ کہیں گے آپ نے ایران پر الزام لگایا۔۔
ستمبر 1998 تک ملک کے نوے فیصد رقبے پر طالبان کا کنٹرول ہو چکا تھا صرف بدخشاں اور پنجشیر کے پہاڑی علاقے احمد شاہ مسعود کے پاس رہ گئے تھے اس کو شمالی اتحاد کہا جاتا تھا جنگ 2001 تک جاری رہی
قبضے کی رفتار کی تین بڑی وجہیں تھیں پہلی وجہ عوام تنگ تھی اور طالبان کو امن لانے والا سمجھ کر راستہ دے دیتی تھی دوسری وجہ بہت سے کمانڈر لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتے تھے کیونکہ ان کے سپاہی تنخواہ نہ ملنے پر ساتھ چھوڑ جاتے تھے تیسری وجہ پاکستان کی سرحد سے آنے والے ہزاروں مدرسوں کے طلبہ تھے جو سمر کی چھٹیوں میں جہاد کے لیے شامل ہو جاتے تھے.لیکن یہ بات بین اقوامی رپورٹس کی مطابق ہیں اور اسرائیل نواز میڈیا کی ہیں۔
اس طرح چار سال کے اندر ایک مدرسے کی جماعت پورے ملک پر قابض ہو گئی ستمبر 1996 کو کابل فتح کے بعد امارت اسلامیہ افغانستان کا اعلان ہوا اور ملا محمد عمر کو امیر المومنین کہا گیا۔۔جاری ہیں

حوالے آخر میں احمد رشید کتاب طالبان دی سٹوری آف دی افغان وار لارڈز سال 2000 انٹونی ڈیوس مقالہ ہاؤ دی طالبان بیکیم ا ملٹری فورس 1998 عبدالسلام ضعیف کتاب مائی لائف ود دی طالبان
゚viralシ ゚

کیوں یو اے ای اپنی خاموش جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار رہا ہے🚨متحدہ عرب امارات نے اوپیک دنیا سے علیحدگی اختیار کی، جسے سی...
12/05/2026

کیوں یو اے ای اپنی خاموش جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار رہا ہے

🚨متحدہ عرب امارات نے اوپیک دنیا سے علیحدگی اختیار کی، جسے سیاسی حلقوں نے سعودی عرب کی پیٹھ میں “چھرا گھونپنے” کے مترادف قرار دیا۔

🚨لیکن UAE یہ نہ سمجھ سکا کہ جواب میزائلوں کی صورت میں نہیں آئے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز کی صورت میں آئے گا!
جغرافیہ — ایک ایسا ہتھیار جس کا کوئی فوج مقابلہ نہیں کر سکتی۔

🚨جب یو اے ای نے اپنی کرنسی (درہم) کو بچانے کے لیے امریکہ سے “کرنسی سویپ” کی درخواست کی تو خاموشی چھا گئی۔
🚨امریکہ کبھی بھی سعودی عرب(جو پیٹروڈالر کا محافظ ہے)کو ایک لگژری خلیجی ملک کے لیے خطرے میں نہیں ڈالے گا۔ یوں پہلی سفارتی ناکامی ظاہر ہو گئی کہ امریکہ یو اے ای کا کوئی حقیقی اتحادی نہیں تھا۔

🚨فضائی حدود کی بندش — ہوا بازی کا بحران

سعودی عرب نے اچانک اماراتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود “سیکیورٹی وجوہات” کی بنیاد پر بند کر دیں جس کے نتیجے میں دبئی سے لندن کا سفر 7 گھنٹے سے بڑھ کر 14 گھنٹے ہو گیا
اماراتی ایئرلائنز اپنی عالمی مسابقت کھو بیٹھیں دبئی ایک “تنہا جزیرے” میں بدل گیا اور لگژری ہوٹلز ویران محل بن گئے،

🚨خاموش زمینی محاصرہ
(نہ ٹینک، نہ جنگ صرف انتظامی رکاوٹیں)
البطحہ بارڈر کراسنگ “تکنیکی وجوہات” کی بنیاد پر بند کر دی گئی۔
🚨یو اے ای کی 70٪ خوراک زمینی راستے سے آتی ہے ایک ہفتے میں قیمتیں 400٪ بڑھ گئیں سپر مارکیٹوں میں راشن بندی شروع ہو گئی ،کیفے بند ہونے لگے، اور لگژری شہر میں بھوک کے آثار نمایاں ہو گئے

🚨درہم کا انہدام
(سرمایہ کار تیزی سے نکلنے لگے)
یو اے ای اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو ہفتے میں 20 ارب ڈالر کی رفتار سے خرچ کر رہا ہے تاکہ کرنسی کو سہارا دیا جا سکے۔

🚨ان کے سامنے دو راستے ہیں!

درہم کو آزاد چھوڑ دے اور عوام کی بچتیں تباہ ہو جائیں یا کیپٹل کنٹرول نافذ کرے اور بیرونی سرمایہ روک لے، جس سے تمام بین الاقوامی کمپنیاں دبئی چھوڑ کر ریاض چلی جائیں

دونوں صورتوں میں “دبئی معجزہ” ختم ہو جائے گا۔

🚨علاقائی تنہائی

تمام اتحادی ساتھ چھوڑ رہے ہیں ،مصر اور بحرین ریاض کے ساتھ کھڑے ہیں
اسرائیل UAE کو بچانے کی بجائے سعودی عرب سے مکمل تعلقات چاہتا ہے
🚨قطر، جس کا 2017 میں یو اے ای نے بائیکاٹ کیا تھا، اب سعودی عرب کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دیتا ہے اور “متبادل دبئی کانفرنس” کی میزبانی کی تیاری شروع کردی ،یو اے ای سفارتی طور پر تنہا رہ گیاہے۔

🚨اندرونی تقسیم

30٪ اماراتی خاندانوں کے سعودی عرب سے تعلقات ہیں،شہری اپنی قومی وابستگی اور معاشی مفادات کے درمیان پھنس جاتے ہیں، 85 % غیر ملکی آبادی تیزی سے ملک چھوڑ رہی ہے
مصروف ہوائی اڈے ویران ہو رہے ہیں

🚨سرنڈر یا تباہی

45 دن کے محاصرے کے بعد ذخائر تقریباً ختم ہو جائیں گے، درہم گراوٹ کا شکار ہے۔ UAE ثالثی کے ذریعے پیغام بھیج رہا ہے:

“ہم ہر چیز کے لیے تیار ہیں۔”

🚨سعودی عرب کا سخت جواب!

بغیر شرط اوپیک میں واپسی
“اخلاقی نقصان” کا معاوضہ
فی پرواز 2 ملین ڈالر ٹرانزٹ فیس کے ساتھ فضائی راستوں کی بحالی

یو اے ای مجبوری میں یہ شرائط مان لیتا ہے، کیونکہ متبادل وجود کا خاتمہ ہے۔

🚨یہ کہانی سائنس فکشن نہیں بلکہ ایک منطقی تجزیہ ہے۔ آپ جدید ترین جہاز اور بلند ترین عمارتیں خرید سکتے ہیں، لیکن آپ “اسٹریٹیجک گہرائی” نہیں خرید سکتے۔ یو اے ای نے پیسے کی طاقت پر غرور کیا، اور جواب میں جغرافیہ کی سخت حقیقت سامنے آ گئی۔

1969 میں شاہ فیصل نے پیسے دیے، 1976 میں بُھٹو نے بنیاد رکھی، تُرک نے ڈیزائن بنایا، پاکستانیوں نے 10 سال میں تعمیر کی، 19...
05/05/2026

1969 میں شاہ فیصل نے پیسے دیے، 1976 میں بُھٹو نے بنیاد رکھی، تُرک نے ڈیزائن بنایا، پاکستانیوں نے 10 سال میں تعمیر کی، 1986 میں ضیاء نے کھولی۔

نہ گُنبد نہ محراب، بس ایک خیمہ جو کہتا ہے: اسلام جدید ہے۔
4 مینار چار یار کی گواہی دیتے ہیں۔
3 لاکھ لوگ ایک ساتھ سجدہ کرتے ہیں۔
2005 کا زلزلہ بھی اسے ہِلا نہ سکا۔

یہ قرض ہے ہم پر - شاہ فیصل کا، تُرک آرکیٹکٹ کا، اور ان 2 مزدوروں کا جو اسے بناتے شہید ہوئے۔

یہ ہے فیصل مسجد - پاکستان کا تاج 🕌🇵🇰

وہ امارات جس نے حد سے بڑھ کر کھیلابیس سال کی چال کیسے الٹی پڑی — اور پاکستان کے لیے سنہری موقعمتحدہ عرب امارات نے چند دہ...
13/04/2026

وہ امارات جس نے حد سے بڑھ کر کھیلا
بیس سال کی چال کیسے الٹی پڑی — اور پاکستان کے لیے سنہری موقع

متحدہ عرب امارات نے چند دہائیوں میں ریت کے ٹیلوں پر ایک چمکتا ہوا شہر کھڑا کر دیا۔ دبئی آج دنیا کا مالیاتی مرکز ہے، لیکن اس چمک کے پیچھے ایک سوچی سمجھی چال بھی ہے جو اب آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہی ہے۔
پاکستان کے ساتھ امارات کا رویہ کبھی بھی خالص دوستی پر مبنی نہیں رہا۔ یہ ایک حساب کتاب تھا — پاکستان کو مالی طور پر کمزور رکھو، اس کی بندرگاہیں ناکارہ رکھو، اور دبئی کو خطے کا واحد تجارتی مرکز بنائے رکھو۔ یہ کھیل دو عشروں تک چلتا رہا۔ اب وقت نے پلٹا کھایا ہے۔

قرض کا ہتھیار
امارات نے پاکستان کے مرکزی بینک میں اربوں ڈالر جمع رکھے۔ یہ رقم پاکستان کے زرمبادلہ کا اہم حصہ تھی۔ جب بھی اسلام آباد کو قرض کی مہلت چاہیے ہوئی، ابوظہبی کی خوشنودی لازم تھی۔ اس سال جب پاکستان نے شرح سود کم کرانے اور مدت بڑھانے کی درخواست کی تو امارات نے انکار کر دیا اور ساڑھے تین ارب ڈالر واپس مانگ لیے۔
یہ محض مالی معاملہ نہیں تھا۔ یہ ایک پیغام تھا۔

کراچی کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا
2008 سے 2015 تک کراچی آگ اور خون میں ڈوبا رہا۔ ہر سال ہزاروں افراد ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی نذر ہوئے۔ بندرگاہ کے قریب کاروبار ناممکن ہو گیا۔ سرمایہ کار بھاگ گئے۔
پاکستانی انٹیلی جنس کی تحقیقات بار بار یہ نتیجہ نکالتی رہیں کہ اس تشدد کی مالی رگیں دبئی سے جڑی تھیں۔ وجہ سیدھی تھی — کراچی کی بندرگاہ اگر ترقی کرے تو دبئی کو چیلنج کرے۔ اسے کبھی ترقی نہ کرنے دو۔
بلوچستان میں گوادر کے خلاف بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ علیحدگی پسند تنظیموں کو خلیجی نیٹ ورکس سے مالی مدد ملتی رہی تاکہ چین کی مدد سے بننے والی گوادر بندرگاہ کبھی فعال نہ ہو سکے۔
دو بندرگاہیں، دو طریقے، ایک مقصد — دبئی کی بالادستی قائم رکھنا۔

اسرائیل سے دوستی اور اس کی قیمت
2020 میں امارات نے اسرائیل سے تعلقات قائم کر لیے۔ اس وقت یہ چال بہت ہوشیارانہ لگی — اسرائیلی ٹیکنالوجی، امریکی سرپرستی اور مغربی سیاسی اثرورسوخ ایک ساتھ مل گئے۔
لیکن اس کا دوسرا رخ بھی تھا۔ پاکستان، مصر، اندونیشیا، ترکی — پوری اسلامی دنیا کی عوام نے اسے غزہ کے ساتھ دھوکہ سمجھا۔ جب تک معاملہ سفارتی کاغذات تک محدود تھا، اسے قابو میں رکھا جا سکتا تھا۔ لیکن جب فروری 2026 میں ایران نے آپریشن ایپک فیوری شروع کیا اور امارات کا اسرائیل نواز کردار سب کے سامنے آ گیا، تو اسلامی دنیا میں امارات کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

آپریشن ایپک فیوری — سب کچھ ایک ساتھ ٹوٹا
ایران کے اس آپریشن نے امارات کی بیس سالہ حکمت عملی کے تمام ستون ایک ساتھ ہلا دیے۔
دبئی کی اصل طاقت امن اور استحکام کا تصور تھا۔ خلیج میں جنگ نے یہ تصور توڑ دیا۔ جہازرانی مہنگی ہو گئی۔ امیر لوگ سنگاپور اور لندن کی طرف دیکھنے لگے۔ اسرائیل کے ساتھ اتحاد جو کل فائدہ مند لگتا تھا آج اسلامی دنیا میں بوجھ بن گیا۔
سعودی عرب نے فوری طور پر موقع بھانپا۔ جب پاکستان کو امارات کے پیسے واپس کرنے پڑے تو ریاض اور دوحہ نے پانچ ارب ڈالر کی یقین دہانی کرا دی۔ یہ محض مالی مدد نہیں تھی — یہ خلیج میں طاقت کا نیا توازن تھا۔

کراچی کی واپسی
جنرل راحیل شریف کے رینجرز آپریشن نے 2013 میں وہ ڈھانچہ توڑا جس نے کراچی کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔ ٹارگٹ کلنگ ہزاروں سے سو سے بھی کم ہو گئی۔ بھتہ خوری ختم ہوئی۔ کاروبار لوٹا۔ بندرگاہ کی تجارت بحال ہونے لگی.

آج پاکستان تین بندرگاہوں کی بیک وقت ترقی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ کراچی جو دبائی گئی تھی اب بحال ہو رہی ہے۔ گوادر جو چینی سرمایہ کاری سے مضبوط ہے آگے بڑھ رہی ہے۔ پورٹ قاسم صنعتی ترقی میں وسعت پا رہی ہے۔
وہ تینوں بندرگاہیں جن کو امارات نے دبائے رکھا، اب بیک وقت جاگ رہی ہیں۔

پاکستان کو کیا کرنا چاہیے
تاریخ میں موقع دروازہ کھٹکھٹا کر نہیں آتا — بس گزر جاتا ہے۔
گوادر کو قومی سلامتی کی ترجیح دی جائے — جیسے کبھی ایٹمی پروگرام کو دی گئی تھی۔ چینی سرمایہ کاری موجود ہے، سعودی ریفائنری کا وعدہ ہے، وسطی ایشیائی ممالک منتظر ہیں — صرف عزم اور تسلسل چاہیے۔
کراچی کی بحالی کو مستقل بنایا جائے۔ وہ مالیاتی نیٹ ورک جنہوں نے شہر کو دہائیوں تباہ رکھا، انہیں دوبارہ فعال نہ ہونے دیا جائے۔
سعودی عرب اور قطر کے ساتھ تعلقات گہرے کیے جائیں — لیکن ہوشیاری کے ساتھ۔ ایک سرپرست کی جگہ دوسرا سرپرست نہ آئے۔ اصل ہدف ہر قسم کے یکطرفہ انحصار سے آزادی ہے۔
اور سب سے اہم — پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ جب پوری مسلم امہ دیکھ رہی ہے کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، یہ مقام ایک بہت بڑا سفارتی اثاثہ ہے۔ اسے ضائع نہ کیا جائے۔

آخری بات — جغرافیہ ہمیشہ جیتتا ہے
دبئی نے پانچ عشروں میں غیرمعمولی ذہانت سے ترقی کی۔ اس کی عزت کرنی چاہیے۔ لیکن تعمیر کی گئی برتری عارضی ہوتی ہے — جغرافیہ مستقل ہوتا ہے۔

پاکستان کے پاس پچیس کروڑ کی آبادی ہے، دنیا کا چھٹا بڑا فوج، اسلامی دنیا کا واحد ایٹم بم، خلیج اور وسطی ایشیا کے درمیان منفرد جغرافیائی مقام، اور چین کی ناقابل واپسی تزویراتی سرمایہ کاری۔ یہ سب کچھ ہمیشہ سے موجود تھا — بس مالی استحکام اور سیاسی ہوش کا انتظار تھا۔
وہ امارات جس نے بیس سال پاکستان کو اس کی اصل طاقت سے دور رکھا، آج خود اپنے سب سے مشکل امتحان میں ہے۔ یہ پاکستان کی کسی چال کا نتیجہ نہیں — یہ اس کے اپنے حد سے بڑھے ہوئے کھیل کا انجام ہے۔
جغرافیہ، آبادی اور چینی سرمایہ کاری کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ وہ بس انتظار کرتے ہیں۔
اور پاکستان کا وقت آ رہا ہے۔

تیرہ اپریل دو ہزار چھبیس

ایرانی سپیکر نے طیارے کی سیٹوں پر شہید بچوں کی تصاویر  چسپاں کردیںایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف شہید  بچوں کے بستے بھی ...
11/04/2026

ایرانی سپیکر نے طیارے کی سیٹوں پر شہید بچوں کی تصاویر چسپاں کردیں
ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف شہید بچوں کے بستے بھی اپنے ساتھ لائے ہیں
محمد باقر قالیباف نے دوران سفرمیناب سکول کے شہدا کی تصاویر ٹویٹ کردیں
میناب سکول کے شہید بچے میرے ہمسفر ہیں : ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف

‏1950ء کی دہائی میں جب عمان کے سلطان سعید بن تیمور مالی مشکلات کا شکار ہوئے، تو انہوں نے سب سے پہلے گوادر کی فروخت کے لی...
24/03/2026

‏1950ء کی دہائی میں جب عمان کے سلطان سعید بن تیمور مالی مشکلات کا شکار ہوئے، تو انہوں نے سب سے پہلے گوادر کی فروخت کے لیے بھارت سے رابطہ کیا۔ تاہم، اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اس سنہری موقع کو اپنی کمزور دفاعی سوچ اور پاکستان کے ساتھ ممکنہ تنازع کے خوف سے ٹھکرا دیا۔ بھارت کی اس تاریخی غلطی نے مستقبل میں اسے بحیرہ عرب کے اس اہم ترین مقام سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا۔

پاکستان نے اپنے قیام کے فوراً بعد ہی گوادر کی اہمیت کو بھانپ لیا تھا۔ 1954 میں عمان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا جو چار سال تک جاری رہے۔ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم فیروز خان نون نے اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لی اور کٹھن مذاکرات کے بعد بالآخر 8 ستمبر 1958 کو عمان کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا۔

پاکستان نے 3 ملین برطانوی پاؤنڈز (جو آج کے حساب سے تقریباً ساڑھے پانچ ارب روپے بنتے ہیں) کی خطیر رقم ادا کر کے اپنی زمین واپس حاصل کی۔ یہ اس وقت کے پاکستان کے لیے ایک بڑی مالی قربانی تھی، لیکن ملک کے مستقبل کے لیے یہ تاریخ کا بہترین فیصلہ ثابت ہوا۔

عوامی جوش و خروش اور بلوچستان میں انضمام
3 اکتوبر 1958 کو جب گوادر باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا، تو وہاں کے عوام نے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا۔ گوادر کے عوام کے لسانی، ثقافتی اور قبائلی رشتے پہلے ہی بلوچستان سے جڑے ہوئے تھے، اس لیے انہوں نے غیر ملکی تسلط کے خاتمے اور اپنے وطن پاکستان میں شمولیت کا بھرپور خیرمقدم کیا۔

آج گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں بلکہ عالمی تجارت کا محور بن چکا ہے۔سی پیک جیسے منصوبے نے گوادر کو دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ انٹرنیشنل ایئرپورٹ، فری زون اور ایکسپریس ویز پاکستان کی معیشت کا چہرہ بدل رہے ہیں۔گوادر کی بدولت پاکستان کی بحری حدود اور دفاعی پوزیشن ناقابلِ تسخیر ہو چکی ہے۔

مرنے سے پہلے اپنے بچوں اپنی انے والی نسلوں کو یہ لازم بتانا کہ اپ نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب ایک 86 سال  کا اسلام کی جنگ ...
01/03/2026

مرنے سے پہلے اپنے بچوں اپنی انے والی نسلوں کو یہ لازم بتانا کہ اپ نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب ایک 86 سال کا اسلام کی جنگ اکیلا لڑ رہا تھا اور سارے اسلامی ممالک عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے تھے اللہ اس عظیم انسان کی حفاظت فرمائے اور فتح نصیب فرمائے❤️

02/02/2026
بنگلہ دیش کے مشیر کھیل نے بھارت کو پھر مرچی لگادی ہم ورلڈکپ سے باہر ضرور ہوئے لیکن ہم نے اپنا بھائی کو ڈھونڈ لیا اور وہ ...
25/01/2026

بنگلہ دیش کے مشیر کھیل نے بھارت کو پھر مرچی لگادی ہم ورلڈکپ سے باہر ضرور ہوئے لیکن ہم نے اپنا بھائی کو ڈھونڈ لیا اور وہ ہے پاکستان
بنگلہ دیش کے مشیر کھیل ڈاکٹر آصف نزرل کا کاڈھاکہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ
ہماری ٹیم کو ورلڈکپ سے باہر کیا گیا پوری دنیا جانتی ہیں کہ ہماری ٹیم کو سیکورٹی کا بڑا مسئلہ تھا بھارت میں ہمیں کوئی غم نہیں ہے اپنے فیصلے پر کیونکہ ہم حق پر ہے ورلڈکپ سے باہر ضرور ہوئے لیکن اس سے بڑھ کر ہم نے بہت کچھ پالیا ہیں شاید یہی وقت ہمارا انتظار کررہا تھا کہ ہم پہچان لیے کہ ہمارا دوست کون ہے اور وہ پاکستان نکلا مشکل وقت میں پاکستان کا بنگلہ دیش کے حق میں ووٹ دینے سے ثابت ہوگیا کہ پاکستان ہی ہمارا اصل بھائی ہیں دو بھائیوں کے درمیان میں جو غلط فہمیاں پیدا کی گئی تھی وہ اب ختم ہوگئی اور جنہوں پیدا کی تھی وہ بھی پورے ملک کو معلوم ہوگئے ہیں

ابوظہبی، بینکرز اور اسرائیل:امارات کااسرائیل کےساتھ تعلقات استوارکرنا50سالہ سفر کا نتیجہ تھا،جس میں طاقت، سرمایہ اور خوف...
12/01/2026

ابوظہبی، بینکرز اور اسرائیل:

امارات کااسرائیل کےساتھ تعلقات استوارکرنا50سالہ سفر کا نتیجہ تھا،جس میں طاقت، سرمایہ اور خوف تینوں شامل تھے۔۔
1971میں امارات ایک کمزورفیڈریشن تھا۔ شیخ زاید نے سعودی عرب کو بڑا بھائی مانا، مغرب سے تعلقات رکھے اور ساری توجہ ریاست کو محفوظ رکھنے۔۔۔اور معیشت کھڑی کرنے پر رکھی۔۔۔۔۔۔۔خارجہ پالیسی میں جارحیت کا کوئی تصورنہیں تھا۔ یہ سوچ 2004 تک رہی، جب شیخ زاید کا انتقال ہوا اور طاقت نئی نسل کے ہاتھ میں آئی۔۔
محمد بن زاید اور محمد بن راشد نےتیل کی دولت کو عالمی اثر و رسوخ میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔دبئی نے خود کو کاروبار اور سیاحت کا مرکز بنایا۔۔
جبکہ ابوظہبی نے سرمایہ، بینکنگ اور ریاستی طاقت اپنے ہاتھ میں رکھی۔2008 کےمالی بحران میں دبئی قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا۔۔
ابوظہبی نے بیس ارب ڈالر دے کر دبئی کو بچایا، اور اسی لمحے سے اصل طاقت مستقل طور پر ابوظہبی کے پاس چلی گئی۔۔
یہاں سے امارات کی خارجہ پالیسی بدل گئی۔۔۔۔۔عرب بہارنےمحمد بن زایدکو یہ احساس دلایا کہ جمہوریت عوامی تحریکیں اور اخوان المسلمین ان کی بادشاہت کے لیے خطرہ ہیں۔ دشمن واضح ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔جمہوری تحریکیں، اخوان المسلمین اور ایران۔۔
یمن میں ابتدا میں امارات سعودی عرب کےساتھ تھا، مگرجلدہی اختلاف سامنےآ گیا۔سعودی عرب نےاخوان سے کام لیا، امارات نے انہیں نشانہ بنایا۔۔۔۔جنوبی یمن میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کی گئی اوربحیرہ احمر کے راستوں پر اثر بڑھانے کی کوشش ہوئی۔۔۔۔آج دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بری طرح متاثرہوچکا ہے۔۔
لیبیا میں امارات نے خلیفہ حفترکی کھلی حمایت کی، اسلحہ اور جدید دفاعی نظام فراہم کیے۔ سوڈان میں بھی یہی الزامات سامنے آئے۔۔۔۔۔۔امارات نے براہ راست قبضےکی بجائےپراکسیز،بندرگاہوں،زمینوں اورسرمایہ کاری کے ذریعے اثر قائم کرنےکی حکمت عملی اپنائی۔
اس پوری تبدیلی کے پیچھے عالمی مالیاتی نظام کا فیصلہ کن کردار تھا۔۔
2008ء میں ابو ظہبی نے جو 20 ارب ڈالرز دے کر دوبئی کو دیوالیہ ہونے سے بچایا تھا۔۔۔۔۔۔وہ اصل میں عالمی بینکرز کے تعاون سے کیا گیا تھا۔۔۔۔ابوظہبی کو عالمی سرمایہ کاری مرکز بنانےمیں دنیاکےبڑے بینکرز اور مالیاتی ادارے براہ راست شامل ہوئے۔۔
گولڈمین سیکس، مورگن اسٹینلے اور جے پی مورگن جیسےامریکی بینک ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی اور موبادالہ کے ساتھ گہرے شراکت دار بن گئے۔۔۔۔۔سوئس اور برطانوی پرائیویٹ بینکوں نے۔۔۔۔۔۔خلیجی سرمایہ عالمی منڈیوں سے جوڑا، جبکہ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور بڑی کنسلٹنگ فرموں نے مالیاتی قوانین اور سرمایہ کاری کے فریم ورک تیار کرنے میں رہنمائی دی۔۔
اس کے نتیجے میں ابوظہبی نےتیل پر انحصار کم کیا اور ٹیکنالوجی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی۔آج اسکاخودمختار سرمایہ کاری فنڈ دنیا کےطاقتور ترین فنڈز میں شمار ہوتا ہے، اور یہی مالیاتی طاقت سیاسی اور سفارتی فیصلوں میں بھی صاف نظر آتی ہے۔۔
اسی پس منظرمیں اسرائیل کےساتھ تعلقات کافیصلہ سامنے آیا۔۔۔۔امارات اور اسرائیل کے مفادات ایک جگہ ملتے تھے۔ دونوں اخوان المسلمین اور ایران کو خطرہ سمجھتے تھے۔۔
اسرائیل کی ٹیکنالوجی، بینکرز کے سرمائے اور امریکہ کے جدید جنگی جہازوں کی پیشکش نے اس فیصلے کو ممکن بنایا،یوں ابراہیم معاہدہ وجودمیں آیا۔جیسا کہ ہم سمجھتےرہےہیں کہ ابراہیم معاہدےمیں سعودی عرب مسلمان ممالک کی طرف سے سب سے اہم فریق تھا۔۔۔۔یہ بات سچ نہیں تھی۔۔
محمد بن زید کےتعلقات امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بہت اچھےتھے اور اسی نےمحمد بن سلمان کو امریکہ میں متعارف کروایا اور اور سعودی عرب کی حکومت کا کنٹرول دلوانے میں مدد کی تھی۔۔
غزہ کی جنگ نے ابراہیم معاہدے کو عوامی سطح پر مشکل بنا دیا ہے۔ عرب دنیا میں شدید ردعمل ہے اور ریاستی مفاد۔۔۔۔۔اور عوامی جذبات کے درمیان فاصلہ واضح ہوچکا ہے۔۔
آج امارات ایک چھوٹا مگر بااثر ملک ہے۔ سعودی عرب سے کشیدگی ہے، ایران سےدشمنی برقرار ہے، پاکستان کےساتھ تعلقات میں سردمہری آئی ہے۔۔۔اسکے باوجود امارات پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔۔
وہ فوج، معیشت اورسفارت کاری تینوں کو ایک ساتھ استعمال کررہا ہے۔امارات اسوقت گلف میں امریکا اور اسرائیل کا جونئیر مگر نہایت اہم پارٹنر ہےاور عالمی مالیاتی نظام کا حصہ ہے۔۔
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔امکان یہی ہے کہ یہ کہانی آنے والے برسوں میں خطے کی سیاست پر بری طرح اثر انداز ہوتی رہے گی۔۔
اپ کی کیا رائے ہے۔۔؟

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sadaf Jabeen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share