13/05/2026
طالبان کیسے بنے اس کی شروعات 1994 سے ہوئی سوویت جنگ کے بعد افغانستان میں مرکزی حکومت ختم ہو گئی ہر صوبے میں مقامی کمانڈر قابض تھے قندھار کے علاقے میں لوٹ مار اغوا اور چیک پوسٹوں کا نظام تھا ایک دن سنگیسار کے علاقے میں دو کمانڈروں نے دو لڑکیوں کو اغوا کیا مقامی لوگ ملا محمد عمر کے پاس آئے جو اس وقت اپنے مدرسے میں تیس چالیس طلبہ کو پڑھا رہے تھے ملا عمر نے طلبہ کو جمع کیا اور مسلح ہو کر ان کمانڈروں پر حملہ کیا کمانڈروں کو قتل کر کے لڑکیوں کو بازیاب کرایا
اس واقعے کے بعد قریبی دیہات کے لوگ ملا عمر کے پاس آنے لگے کہ ہمارے علاقے سے بھی ڈاکو ختم کرو ملا عمر نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ صرف ایک گاؤں نہیں پورے علاقے سے ظلم ختم کرنا ہے یہی سے تحریک طالبان کا آغاز ہوا طالبان کا مطلب دین کے طالب علم ہے شروع میں تعداد پچاس سے کم تھی سب مدرسے کے طلبہ اور نوجوان مولوی تھے
افغانستان پر قبضہ اس کی ترتیب یہ تھی اکتوبر 1994 میں ملا عمر کے ساتھیوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا یہ قندھار کے جنوب میں پاک افغان سرحد پر بڑا تجارتی راستہ تھا وہاں اسلحہ کا بڑا ڈپو بھی ہاتھ آیا جس میں ہزاروں کلاشنکوف اور گولیاں تھیں اس اسلحے سے طاقت بڑھی
نومبر 1994 میں قندھار شہر پر حملہ کیا اس وقت قندھار پر گلبدین حکمت یار کے کمانڈر تھے لڑائی دو دن چلی طالبان جیت گئے قندھار فتح ہوتے ہی پورے صوبے کے کمانڈر یا بھاگ گئے یا طالبان سے مل گئے عوام نے استقبال کیا کیونکہ سڑکیں محفوظ ہو گئیں اور بھتہ ختم ہو گیا
سویت جنگ پر میں نے تفصیلی بات کی ہیں اس میں گلبدین حکمت یار مسعود وغیرہ کمانڈر کی تعارف کی ہیں ۔۔
فلحال موضوع یہ ہیں کہ
1995 میں پیش قدمی جاری رہی فروری 1995 میں ہلمند اور پھر مغرب میں فراہ نیمروز پر قبضہ کیا ستمبر 1995 میں ہرات پر حملہ کیا ہرات اسمعیل خان کے پاس تھا تین دن کی لڑائی کے بعد ہرات بھی فتح ہو گیا اب مغربی افغانستان طالبان کے کنٹرول میں آ گیا
مشرق کی طرف کابل کا محاصرہ شروع کیا 1995 اور 1996 کے دوران کابل پر برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کی حکومت تھی شہر پر راکٹ برستے تھے طالبان نے جلال آباد اور لغمان پر قبضہ کیا اور کابل کے قریب پہنچ گئے
ستمبر 1996 کو طالبان نے جلال آباد سے پیش قدمی کی اور بغیر بڑی مزاحمت کے کابل میں داخل ہو گئے احمد شاہ مسعود اور حکومتی فوجی شمال کی طرف پنجشیر وادی چلے گئے کابل فتح ہوتے ہی صدارتی محل پر سفید جھنڈا لہرا دیا گیا
اکتوبر 1996 سے 1998 تک طالبان نے شمال کی طرف دھکیلنا شروع کیا 1997 میں مزار شریف پر حملہ کیا مگر رشید دوستم اور شیعہ ہزارہ ملیشیا نے شکست دی سینکڑوں طالبان مارے گئے اگست 1998 میں دوبارہ حملہ کیا اس بار مزار شریف فتح ہو گیا اس جنگ میں ایرانی سفارتکار بھی مارے گئے جس پر ایران اور طالبان کے تعلقات خراب ہوئے۔بعد میں ایران نے بہت بڑا انتقام لیا یہ بات کسی کو شاید معلوم نہ ہو لیکن یہ بات یہاں اس لئے نہیں کررہا کہ پھر لوگ کہیں گے آپ نے ایران پر الزام لگایا۔۔
ستمبر 1998 تک ملک کے نوے فیصد رقبے پر طالبان کا کنٹرول ہو چکا تھا صرف بدخشاں اور پنجشیر کے پہاڑی علاقے احمد شاہ مسعود کے پاس رہ گئے تھے اس کو شمالی اتحاد کہا جاتا تھا جنگ 2001 تک جاری رہی
قبضے کی رفتار کی تین بڑی وجہیں تھیں پہلی وجہ عوام تنگ تھی اور طالبان کو امن لانے والا سمجھ کر راستہ دے دیتی تھی دوسری وجہ بہت سے کمانڈر لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتے تھے کیونکہ ان کے سپاہی تنخواہ نہ ملنے پر ساتھ چھوڑ جاتے تھے تیسری وجہ پاکستان کی سرحد سے آنے والے ہزاروں مدرسوں کے طلبہ تھے جو سمر کی چھٹیوں میں جہاد کے لیے شامل ہو جاتے تھے.لیکن یہ بات بین اقوامی رپورٹس کی مطابق ہیں اور اسرائیل نواز میڈیا کی ہیں۔
اس طرح چار سال کے اندر ایک مدرسے کی جماعت پورے ملک پر قابض ہو گئی ستمبر 1996 کو کابل فتح کے بعد امارت اسلامیہ افغانستان کا اعلان ہوا اور ملا محمد عمر کو امیر المومنین کہا گیا۔۔جاری ہیں
حوالے آخر میں احمد رشید کتاب طالبان دی سٹوری آف دی افغان وار لارڈز سال 2000 انٹونی ڈیوس مقالہ ہاؤ دی طالبان بیکیم ا ملٹری فورس 1998 عبدالسلام ضعیف کتاب مائی لائف ود دی طالبان
゚viralシ ゚