Provincial Assembly of Khyber Pakhtunkhwa

Provincial Assembly of Khyber Pakhtunkhwa The Khyber Pakhtunkhwa Assembly is the unicameral legislative body of the Khyber Pakhtunkhwa province

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط، کارِ استحقاقات اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ کا اجلاس جمعرات ...
03/09/2026

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط، کارِ استحقاقات اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ڈپٹی اسپیکر و چیئرپرسن کمیٹی ثریا بی بی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم، کمیٹی اراکین، متعلقہ اراکین صوبائی اسمبلی اور محکمہ قانون، پولیس، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایڈووکیٹ جنرل آفس، پیسکو اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے تحریکِ استحقاق کے مختلف معاملات اور متعلقہ محکموں کی جانب سے دی گئی حکومتی یقین دہانیوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ رکن صوبائی اسمبلی محترمہ مہر سلطانہ کی جانب سے ضلع کرک میں طویل لوڈشیڈنگ اور پیسکو حکام کے مبینہ نامناسب رویے سے متعلق تحریکِ استحقاق پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے عوامی مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پیسکو حکام کو مسائل کے فوری حل اور منتخب نمائندوں سے مؤثر رابطے کی ہدایت کی۔
چیف انجینئر پیسکو نے یقین دہانی کرائی کہ اراکین صوبائی اسمبلی کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا، جبکہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے جدید میٹرنگ نظام متعارف کرانے کے اقدامات سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، تاہم اس کے نقصانات کا بوجھ بے گناہ صارفین پر نہ ڈالا جائے۔
اجلاس میں پختون یار خان کی کمشنر بنوں سے متعلق اور محمد عبدالسلام آفریدی کی پولیس ڈیپارٹمنٹ سے متعلق تحریکِ استحقاق بھی زیرِ بحث آئیں۔ متعلقہ افسران کی عدم موجودگی کے باعث ایک معاملہ آئندہ اجلاس تک مؤخر کیا گیا، جبکہ پولیس سے متعلق معاملے میں کمیٹی نے عوام اور منتخب نمائندوں کے ساتھ باعزت، ذمہ دارانہ اور شائستہ رویہ یقینی بنانے پر زور دیا۔
ڈپٹی اسپیکر و چیئرپرسن کمیٹی ثریا بی بی نے ہدایت کی کہ سرکاری محکمے اراکین صوبائی اسمبلی کے ساتھ مکمل تعاون اور مؤثر رابطہ برقرار رکھیں اور اسمبلی فلور پر اٹھائے گئے عوامی مسائل و حکومتی یقین دہانیوں پر عملی پیش رفت یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے منتخب نمائندوں سے بڑی توقعات وابستہ رکھتے ہیں، اس لیے سرکاری اداروں اور عوامی نمائندوں کے درمیان باہمی احترام، تعاون اور مؤثر رابطہ عوامی مسائل کے بروقت حل کے لیے ناگزیر ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پ...
02/09/2026

خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ذیلی کمیٹی کے چیئرمین افتخار علی مشوانی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران رکن صوبائی اسمبلی انور خان نے شرکت کی، جبکہ احمد کنڈی اور ساجد اللہ بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ آبپاشی، متعلقہ محکمانہ افسران، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ، محکمہ آڈٹ اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس کے دوران ڈائریکٹر آڈٹ نے محکمہ آبپاشی سے متعلق مختلف نوعیت کے آڈٹ اعتراضات کمیٹی کے سامنے پیش کیے، جن میں انکم ٹیکس، سروس ٹیکس، ملازمین کو سفری و آمدورفت الاؤنسز کی ادائیگی سمیت دیگر مالی معاملات شامل تھے۔ چیئرمین اور کمیٹی ارکان نے ہر آڈٹ اعتراض کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اعتراضات کی وجوہات، محکمانہ کارروائی اور مالی معاملات میں اختیار کیے گئے طریقہ کار سے متعلق وضاحتیں طلب کیں۔
کمیٹی نے بعض آڈٹ اعتراضات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ متعلقہ معاملات میں محکمانہ اور قبل از محکمانہ جانچ پڑتال کا عمل بروقت کیوں مکمل نہیں کیا گیا۔ چیئرمین افتخار علی مشوانی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ تمام مالی معاملات میں قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور ایسے معاملات جن پر محکمانہ یا قبل از محکمانہ جانچ پڑتال ضروری ہو، انہیں نظرانداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت، مالی نظم و ضبط اور مقررہ قواعد پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں پیش کیے گئے آڈٹ اعتراضات کا ایک ایک کرکے تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کردہ وضاحتوں اور ریکارڈ کی روشنی میں بعض اعتراضات کو نمٹا دیا گیا، جبکہ دیگر اعتراضات کو مزید تصدیق اور جانچ پڑتال کے لیے محکمہ آڈٹ کی تصدیق سے مشروط کیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زیرِ التوا اعتراضات کے حوالے سے تمام ضروری ریکارڈ اور دستاویزات بروقت فراہم کیے جائیں تاکہ ان معاملات کو قواعد کے مطابق حتمی طور پر نمٹایا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین افتخار علی مشوانی نے محکمہ آبپاشی کے حکام کو ہدایت کی کہ ذیلی کمیٹی کی جانب سے کیے گئے فیصلوں اور جاری کردہ ہدایات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد اور زیرِ التوا آڈٹ اعتراضات سے متعلق تفصیلی پیش رفت رپورٹ آئندہ اجلاس سے قبل ذیلی کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے، تاکہ سرکاری مالی معاملات میں شفافیت اور جوابدہی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے سابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کرامت اللہ چغرمٹی کی ملاقات۔ملاقات میں باہ...
02/09/2026

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے سابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کرامت اللہ چغرمٹی کی ملاقات۔

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، ملکی و صوبائی سیاسی صورتحال اور پارلیمانی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے وژن کے تحت نوجوان نسل، بالخصوص طالبات کو جمہوری اقدار، قانون سازی کے عمل ...
01/09/2026

اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے وژن کے تحت نوجوان نسل، بالخصوص طالبات کو جمہوری اقدار، قانون سازی کے عمل اور پارلیمانی نظام سے عملی طور پر روشناس کرانے کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی میں مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کے مطالعاتی دوروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی سلسلے میں ایبٹ آباد کے ایک نجی تعلیمی ادارے کی طالبات پر مشتمل وفد نے ایڈیشنل رجسٹرار سید ابراہیم احمد کی سربراہی میں خیبر پختونخوا اسمبلی کا مطالعاتی دورہ کیا۔
اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ٹریننگ اینڈ کیپسٹی بلڈنگ صوبائی اسمبلی شہباز فاروق نے طالبات کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے اغراض و مقاصد، پارلیمانی تربیت، قانون سازی کے عمل، اسمبلی سیکرٹریٹ کے انتظامی و پیشہ ورانہ امور اور نوجوانوں کی پارلیمانی نظام میں شمولیت کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ کا بنیادی مقصد پارلیمانی ادارے کو مؤثر انداز میں معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جمہوری و پارلیمانی شعور کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

مطالعاتی دورے کے دوران طالبات کو ایک کھلا، دوستانہ اور سیکھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا گیا، جہاں انہوں نے تعلیم، خواتین کو درپیش مسائل، قیادت، نوجوانوں کے کردار، خواتین کی سیاسی و پارلیمانی شمولیت اور دیگر سماجی امور سے متعلق اپنے خیالات، سوالات اور تجاویز پیش کیں۔ رکن صوبائی اسمبلی ریحانہ اسماعیل نے طالبات کے سوالات کے جوابات دیے اور ان کی تجاویز کو سراہا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی ریحانہ اسماعیل نے کہا کہ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا وژن واضح ہے کہ نوجوانوں کو صرف پارلیمانی نظام سے آگاہی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں جمہوری عمل، پالیسی سازی اور پارلیمانی سرگرمیوں کو قریب سے سمجھنے اور ان میں عملی کردار ادا کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی صلاحیتوں، مثبت سوچ اور تخلیقی توانائی کو درست سمت میں بروئے کار لا کر نہ صرف جمہوری اقدار کو مضبوط کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل کی قیادت بھی تیار کی جا سکتی ہے۔

ریحانہ اسماعیل نے کہا کہ ایسے مطالعاتی دورے نوجوانوں اور پارلیمانی اداروں کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ و طالبات کو یہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ قانون سازی کس طرح ہوتی ہے، عوامی نمائندے کس طرح اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور پارلیمانی ادارے عوامی مسائل کے حل اور پالیسی سازی میں کس طرح معاون ثابت ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کی نشست محض ایک مطالعاتی دورہ نہیں بلکہ نوجوانوں اور پارلیمانی ادارے کے درمیان ایک مثبت اور مسلسل رابطے کی بنیاد ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ مستقبل میں بھی طلبہ و طالبات کو پارلیمانی امور سے متعلق عملی تربیت، آگاہی اور سیکھنے کے مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

اس موقع پر سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی اور سیکرٹری خیبر پختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ نے وفد سے ملاقات کی اور طالبات کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔ ملاقات کے دوران سپیکر بابر سلیم سواتی نے نوجوانوں، بالخصوص طالبات کے پارلیمانی اور جمہوری عمل میں فعال کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نوجوان نسل کو پارلیمانی نظام، قانون سازی اور جمہوری اقدار سے عملی طور پر روشناس کرانے کے لیے مختلف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
دورے کے اختتام پر وفد کو خیبر پختونخوا اسمبلی ہال، کمیٹی رومز، اسمبلی لائبریری، تاریخی گیلری اور اسمبلی کی دیگر اہم جگہوں کا دورہ کرایا گیا، جہاں انہیں اسمبلی کی تاریخ، پارلیمانی روایات، قانون سازی کے عمل اور خیبر پختونخوا کے جمہوری سفر سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔

وفد میں شامل طالبات نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے مطالعاتی دورے کو انتہائی مفید، معلوماتی اور عملی تجربہ قرار دیتے ہوئے اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے نوجوان دوست وژن کو سراہا۔ طالبات نے اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے انہیں پارلیمانی امور کو قریب سے سمجھنے اور اپنی آراء و سوالات پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے پر اظہارِ تشکر بھی کیا۔

01/09/2026

اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ریگولیٹری فورس بل 2026 کا جائزہ لینے کے لیے سلیکٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد بل کو ایوان میں پیش کیے جانے سے قبل اس کی مختلف شقوں اور پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا تھا

اجلاس میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری عابد مجید، اکرام اللہ خان،ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل عتمانزئی، سیکرٹری خیبرپختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ سمیت صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے چیف وہپ اکبر ایوب خان، وزیر قانون آفتاب عالم، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی طارق سعید، صوبائی وزیر نذیر عباسی، ایم پی ایز سجاد اللہ باقی، احمد کریم کنڈی اور نثار باز سمیت دیگر اراکین بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے خیبر پختونخوا ریگولیٹری فورس بل 2026 کے مختلف پہلوؤں، مجوزہ نظام، اختیارات اور دائرۂ کار کے حوالے سے اراکین کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اراکین اسمبلی نے بل کی مختلف شقوں پر اپنی آراء اور تحفظات کا اظہار کیا۔

اجلاس میں بعض اراکین اسمبلی کی جانب سے بل کی حمایت کی گئی، تاہم اکثریتی اراکین نے بل پر مزید تفصیلی غور و خوض اور بحث کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ اس کے ممکنہ اثرات، اختیارات کے دائرۂ کار اور موجودہ اداروں کے ساتھ ممکنہ اوورلیپ کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔

اس موقع پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے ریگولیٹری فورس بل کی اصولی و مشروط حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مؤثر ریگولیشن اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں، تاہم یہ امر یقینی بنانا ہوگا کہ نئے ادارے کے قیام سے اختیارات کا غیر ضروری ٹکراؤ، ادارہ جاتی اوورلیپ، عوام کے لیے مشکلات یا کرپشن اور رشوت کے نئے مواقع پیدا نہ ہوں۔

اسپیکر نے کہا کہ کسی بھی نئے ادارے کا بنیادی مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بل کی منظوری سے قبل اس کے دائرۂ اختیار، اختیارات اور موجودہ محکموں کے ساتھ تعلق کو واضح کرنا ضروری ہے۔

اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ان اراکین اسمبلی جنہیں بل کی مختلف شقوں پر تحفظات ہیں، کو ہدایت کی کہ وہ اپنے تحفظات تحریری طور پر جمع کروائیں تاکہ ان کا شق وار اور تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سلیکٹ کمیٹی کا مقصد بل کو محض منظور یا مسترد کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا مؤثر، واضح اور عوام دوست قانونی فریم ورک تشکیل دینا ہے جو صوبے میں بہتر ریگولیشن کے ساتھ ساتھ عوام کے حقوق اور سہولتوں کا بھی تحفظ کرے۔

اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ریگولیٹری فورس بل 2026 کا جائزہ لینے کے لیے سلیکٹ...
01/09/2026

اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ریگولیٹری فورس بل 2026 کا جائزہ لینے کے لیے سلیکٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد بل کو ایوان میں پیش کیے جانے سے قبل اس کی مختلف شقوں اور پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا تھا

اجلاس میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری عابد مجید، اکرام اللہ خان،ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل عتمانزئی، سیکرٹری خیبرپختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ سمیت صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے چیف وہپ اکبر ایوب خان، وزیر قانون آفتاب عالم، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی طارق سعید، صوبائی وزیر نذیر عباسی، ایم پی ایز سجاد اللہ باقی، احمد کریم کنڈی اور نثار باز سمیت دیگر اراکین بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے خیبر پختونخوا ریگولیٹری فورس بل 2026 کے مختلف پہلوؤں، مجوزہ نظام، اختیارات اور دائرۂ کار کے حوالے سے اراکین کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اراکین اسمبلی نے بل کی مختلف شقوں پر اپنی آراء اور تحفظات کا اظہار کیا۔

اجلاس میں بعض اراکین اسمبلی کی جانب سے بل کی حمایت کی گئی، تاہم اکثریتی اراکین نے بل پر مزید تفصیلی غور و خوض اور بحث کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ اس کے ممکنہ اثرات، اختیارات کے دائرۂ کار اور موجودہ اداروں کے ساتھ ممکنہ اوورلیپ کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔

اس موقع پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے ریگولیٹری فورس بل کی اصولی و مشروط حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مؤثر ریگولیشن اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں، تاہم یہ امر یقینی بنانا ہوگا کہ نئے ادارے کے قیام سے اختیارات کا غیر ضروری ٹکراؤ، ادارہ جاتی اوورلیپ، عوام کے لیے مشکلات یا کرپشن اور رشوت کے نئے مواقع پیدا نہ ہوں۔

اسپیکر نے کہا کہ کسی بھی نئے ادارے کا بنیادی مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بل کی منظوری سے قبل اس کے دائرۂ اختیار، اختیارات اور موجودہ محکموں کے ساتھ تعلق کو واضح کرنا ضروری ہے۔

اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ان اراکین اسمبلی جنہیں بل کی مختلف شقوں پر تحفظات ہیں، کو ہدایت کی کہ وہ اپنے تحفظات تحریری طور پر جمع کروائیں تاکہ ان کا شق وار اور تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سلیکٹ کمیٹی کا مقصد بل کو محض منظور یا مسترد کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا مؤثر، واضح اور عوام دوست قانونی فریم ورک تشکیل دینا ہے جو صوبے میں بہتر ریگولیشن کے ساتھ ساتھ عوام کے حقوق اور سہولتوں کا بھی تحفظ کرے۔

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت نجی سکولوں کی نمائندہ تنظیم کے وفد، محکمہ لیبر، ابتدائی و ثانوی...
31/08/2026

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت نجی سکولوں کی نمائندہ تنظیم کے وفد، محکمہ لیبر، ابتدائی و ثانوی تعلیم اور پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSSRA) خیبرپختونخوا کے افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان اور وزیرِ قانون آفتاب عالم، چئیر قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم افتخار علی مشوانی، ایم پی اے اکرام اللہ غازی بھی موجود تھے۔

اجلاس میں نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ خصوصی طور پر محکمہ لیبر کی جانب سے نجی سکولوں کے عملے کے لیے مقرر کردہ کم از کم اجرت (Minimum Wages) کی شرح اور اس پر عملدرآمد کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی۔

نجی سکولوں کی نمائندہ تنظیم کے وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ کم فیس لینے والے چھوٹے نجی سکولوں کے لیے موجودہ کم از کم اجرت کے مقررہ نرخوں پر عملدرآمد مالی مشکلات کا باعث بن رہا ہے اور ان اداروں کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس موقع پر اجلاس کے شرکاء نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے میں نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی سکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ اور دیگر عملے کے حقوق کا بھی مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد اجلاس اس نتیجے پر پہنچا کہ اس معاملے کی بنیادی نوعیت مختلف قوانین کے باہمی تقابل اور ممکنہ اوورلیپ سے متعلق ہے، بالخصوص PSSRA کے متعلقہ قوانین اور محکمہ لیبر کے قوانین کے درمیان موجود ابہام اور تضادات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ متعلقہ قوانین کا جامع جائزہ لے کر ان میں موجود تضادات اور اوورلیپ کی نشاندہی کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق قانون سازی یا قانونی ترامیم کے ذریعے اس مسئلے کا مستقل اور قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے گا۔

اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسا متوازن اور دیرپا حل وضع کیا جائے گا جس میں نجی تعلیمی اداروں کے استحکام کے ساتھ اساتذہ اور دیگر ملازمین کے قانونی و معاشی حقوق کا تحفظ بھی یقینی ہو اور صوبے میں تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل اور مزید بہتر انداز میں جاری رہ سکیں۔

پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے اب نوجوان نسل کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، نوجوان ہی ملک کے مستقبل کے معمار اور حقی...
28/08/2026

پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے اب نوجوان نسل کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، نوجوان ہی ملک کے مستقبل کے معمار اور حقیقی تبدیلی کے علمبردار ہیں۔ برطانوی دور کا فرسودہ نظام آج بھی ہمارے قومی معاملات کو متاثر کر رہا ہے، اس نظام میں اصلاح اور بہتری کے لیے سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال میں پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ہر دور کے سیاسی کارکنوں نے ملک کی اصلاح اور بہتری کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہے اور آج اس جدوجہد کے ثمرات ہمارے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں سیاسی اور پارلیمانی شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ باشعور نوجوان ہی ملک کو درست سمت میں آگے لے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت نے فرسودہ اور الجھے ہوئے نظام کے حوالے سے نوجوانوں میں سیاسی شعور اور آگاہی کو اجاگر کیا، جس کے نتیجے میں آج پاکستان کے نوجوان اور عوام ملک کے مستقبل اور درست سمت کے حوالے سے زیادہ واضح سوچ رکھتے ہیں۔

اسپیکر نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کو محض تماشائی بننے کے بجائے عملی سیاست، پارلیمانی عمل اور قومی امور میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوان اپنی صلاحیتوں، تعلیم اور توانائی کو مثبت انداز میں بروئے کار لا کر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر نوجوانوں کے وفد نے خیبرپختونخوا اسمبلی کا دورہ کیا، جہاں انہیں پارلیمانی نظام، قانون سازی اور اسمبلی کی کارروائی کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی۔ پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں پر مشتمل اس وفد کا دورہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے نوجوانوں میں پارلیمانی شعور اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے شروع کیے گئے سلسلے کی کڑی ہے۔

اس موقع پر ایم پی اے و چیف وہپ خیبرپختونخوا اسمبلی اکبر ایوب خان، ایم پی اے اشبر جان جادون اور سیکریٹری خیبرپختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ بھی موجود تھے۔

اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی۔...
27/08/2026

اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی۔ رکن خیبرپختونخوا اسمبلی و چیف ویپ خیبرپختونخوا اسمبلی اکبر ایوب خان بھی اس موقع پر ہم نشست تھے۔ ملاقات میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان، حالیہ افسوسناک واقعات اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران ہری پور میں کمسن بچی کے ساتھ پیش آنے والے دلخراش سانحے سمیت صوبے میں ایسے دیگر واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اسپیکر اور وزیراعلیٰ نے اس امر پر اتفاق کیا کہ شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موجودہ قوانین کا مؤثر جائزہ لیا جائے اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کے ذریعے قانونی تحفظ کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔

اس موقع پر اس امر پر بھی گفتگو کی گئی کہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد، انتظامی اقدامات اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ صوبائی اسمبلی کی جانب سے ضروری قانون سازی اور صوبائی حکومت کی جانب سے مؤثر انتظامی اقدامات و قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے باہمی تعاون کو مزید بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی عوام کے جان و مال کے تحفظ، خصوصاً خواتین اور بچوں کو محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے مؤثر قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنا اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملاقات میں صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال، باہمی مشاورت اور دیگر اہم امور پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ذیلی کمیٹی...
27/08/2026

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ذیلی کمیٹی کی چیئرپرسن اور رکن صوبائی اسمبلی شہلا بانو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت، محکمہ خزانہ اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی ایم آر آئی مشین کی 2021 میں کی گئی اپ گریڈیشن اور بعد ازاں اس کی تبدیلی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم آر آئی مشین کی اپ گریڈیشن کے عمل میں مبینہ طور پر خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے مروجہ قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری نہیں کی گئی۔ کمیٹی کے مطابق کروڑوں روپے مالیت کے اس معاملے میں نہ تو باقاعدہ کوٹیشن طلب کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا اور نہ ہی خریداری کے مقررہ طریقہ کار پر مکمل عملدرآمد کیا گیا۔ چیئرپرسن شہلا بانو نے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے مالی معاملے کا محض ای میل کے ذریعے طے ہونا کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے، لہٰذا معاملے کے تمام پہلوؤں اور پس منظر کا جامع جائزہ لیا جائے۔
ذیلی کمیٹی نے ایم آر آئی مشین کی تبدیلی سے قبل اس کی بنیادی مالی قدر، تکنیکی حالت اور دیگر متعلقہ مالی و انتظامی ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ واضح رہے کہ 15 جنوری 2026 کو ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد میں منعقدہ ذیلی کمیٹی کے سابقہ اجلاس میں محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی تھی کہ مشین کی تبدیلی کے معاملے میں متعلقہ انتظامیہ اور ذمہ دار افسران سے تفصیلات اور ان کا مؤقف حاصل کیا جائے، تاکہ مشین کی تبدیلی کی وجوہات اور اس حوالے سے ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
محکمہ صحت کے حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ متعلقہ افسران اور دیگر ذمہ داران کی جانب سے تاحال مطلوبہ جوابات موصول نہیں ہوئے۔ اس پر چیئرپرسن شہلا بانو نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ذمہ داران کو فوری طور پر یاددہانی مراسلے جاری کیے جائیں اور ان سے جلد از جلد اپنے جوابات جمع کرانے کو کہا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے تمام متعلقہ ریکارڈ اور ذمہ داران کے مؤقف کا حصول ضروری ہے۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرپرسن نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ موصول ہونے والے تمام جوابات اور متعلقہ دستاویزات کو یکجا کرکے جامع صورت میں آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ ذیلی کمیٹی دستیاب ریکارڈ، مالی و تکنیکی حقائق اور متعلقہ افسران کے مؤقف کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات اور رپورٹ مرتب کرکے قائمہ کمیٹی برائے صحت کے سامنے پیش کرے گی، تاکہ معاملے میں ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔

Address

Provincial Assembly Of Khyber Pakhtunkhwa
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Provincial Assembly of Khyber Pakhtunkhwa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Provincial Assembly of Khyber Pakhtunkhwa:

Shortcuts

Share