20/12/2025
خیبر پختونخوا کی سیاست میں یہ شکوہ ایک مستقل بیانیہ بن چکا ہے کہ وفاق صوبے کے ساتھ مالی ناانصافی کرتا ہے۔ حالیہ بیانات میں بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے فنڈز کی کمی کا شکوہ دہرایا۔ تاہم جب اس مؤقف کو گزشتہ چودہ برسوں کے مالی اعداد و شمار کے ساتھ پرکھا جائے تو صورتحال ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں خیبر پختونخوا کو وفاق سے 8400 ارب روپے سے زائد کی رقوم منتقل ہوئیں۔ یہ خطیر رقم محض اخراجات نہیں بلکہ ایسے وسائل تھے جن سے صوبے کی معیشت، انفراسٹرکچر اور سماجی شعبوں میں بنیادی تبدیلی لائی جا سکتی تھی۔
اگر انہی وسائل کو مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جاتا تو:
صوبے میں درجنوں نئی یونیورسٹیاں اور سینکڑوں اسکول و کالجز قائم ہو سکتے تھے
ہر ڈویژن میں جدید تدریسی ہسپتال اور ضلعی سطح پر معیاری صحت مراکز بنائے جا سکتے تھے
صنعتی زونز کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کیا جا سکتا تھا
پولیس، ریسکیو اور سول ڈیفنس جیسے اداروں کو مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا تھا
صوبے کو توانائی، سیاحت اور معدنیات کے شعبوں میں خودکفیل بنایا جا سکتا تھا
یہ کوئی خیالی بات نہیں، بلکہ وہ ترقیاتی ماڈلز ہیں جو پاکستان کے دیگر صوبوں اور دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک میں اسی سطح کے بجٹس سے عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
اس تناظر میں عوامی نیشنل پارٹی کے پانچ سالہ دورِ حکومت (2008–2013) کا حوالہ دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب صوبہ شدید دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا، مگر محدود وسائل کے باوجود اے این پی حکومت نے تعلیم، صحت، سڑکوں اور بالخصوص پولیس کی تنظیمِ نو جیسے مشکل فیصلے کیے۔ پولیس کو وسائل، اسلحہ اور تربیت دی گئی، جس کا فائدہ بعد کے برسوں میں امن و امان کی بہتری کی صورت میں سامنے آیا۔
اس کے برعکس، گزشتہ 13 برسوں میں وسائل کی فراوانی کے باوجود کارکردگی کا فقدان ایک سنجیدہ سوال بن چکا ہے۔ متعدد ترقیاتی منصوبوں پر لاگت میں غیر معمولی اضافہ، منصوبوں کی تاخیر، اور نتائج کا زمین پر نظر نہ آنا بدانتظامی اور ممکنہ کرپشن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر واقعی سب کچھ شفاف اور درست انداز میں ہوا ہوتا تو آج صوبہ بنیادی سہولیات کے لیے ترسا ہوا نظر نہ آتا۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ جب ترقیاتی فنڈز عوامی فلاح کے بجائے اشتہاری مہمات، غیر واضح منصوبوں اور سیاسی مفادات کی نذر ہو جائیں تو پھر وسائل کے باوجود ترقی ممکن نہیں رہتی۔ مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں، بلکہ احتساب کے فقدان کا بھی ہے۔
جمہوری نظام میں حکومتیں شکوے کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کو نتائج دینے کے لیے منتخب کی جاتی ہیں۔ جس جماعت کو طویل اقتدار، مکمل اختیار اور ہزاروں ارب روپے میسر آئے ہوں، اس پر لازم ہے کہ وہ عوام کے سامنے شفاف حساب پیش کرے۔