30/05/2026
آج بمورخہ 29۔05۔2026 کو سیکرٹری لائیوسٹاک ،فشریز و کو آپریٹیو ڈیپارٹمنٹ جناب ظریف المعانی نے بٹخیلہ ہیڈ ورکس کے مقام پر ہزاروں کی تعداد میں مہاشیر مچھلی کے بچے چھوڑ دئے۔اس موقع پر سیکرٹری لائیوسٹاک و فشریز کے ہمراہ ڈائریکٹر فشریز ملاکنڈ جناب محمد الیاس خان ,اسسٹنٹ ڈائریکٹر جناب عبدل اول صاحب و دیگر فشریز ملاکنڈ سٹاف کے علاوہ اہل علاقہ کے معزز اراکین، ماہی گیر اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مہاشیر پاکستان کی قومی مچھلی ھے اور اسکا تحفظ ہم سب کی قومی ذمہ داری ھے۔اس موقع پر جناب ڈائریکٹر فشریز ملاکنڈ محمد الیاس خان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ فشریز ڈیپارٹمنٹ ضلع ملاکنڈ میں مہاشیر مچھلی کی افزائش نسل اور غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی اور مختلف قسم کے کیمیکلز دریاؤں میں ڈالنے سے مہاشیر مچھلی کی نسل آہستہ آہستہ معدوم ھو رہی ھے اسی لئے حکومت خیبر پختونخوا نےملاکنڈ تھانہ کے مقام پر مہاشیر مچھلی کی مصنوعی نسل کشی کیلئے ایک ہیچری بنائی ھے جو ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مہاشیر مچھلی کے بچے دریائے سوات اور صوبے کے دوسرے علاقوں، قدرتی پانیوں، جھیلوں وغیرہ میں چھوڑ دیتے ھے۔تاکہ پاکستان کی قومی مچھلی کی افزائش نسل میں اضافہ ھو۔اور اس نایاب مچھلی کی نسل معدوم ھونے سے بچ جائے۔
مہاشیر ایک گیم فش ھے اور یہ جنوبی ایشیا میں پاکستان، افغانستان، نیپال،،بھوٹان، سری لنکا اور انڈیا میں پائی جاتی ھے۔اور پاکستان میں یہ مچھلی دریائے سوات، دریائے پنجکوڑہ، دریائے برندو،دریائے سندھ، کلپانی مردان اور اٹک میں پائی جاتی ھے،
مہاشیر مچھلی کا وزن 55 کلو گرام تک بڑھ سکتا ھے اور اسکی لمبائی چھ سے آٹھ فٹ تک ھو سکتی ھے۔اس پر سرخی مائل دھبے اور چھلکے ھوتے ھے جسکی وجہ سے اسکو گولڈن مہاشیر کہا جاتا ھے۔اور لوگ اسکو ٹائگر آف فشز بھی کہتے ھے۔
اس موقع پر علاقے کے معززین نے فشریز ملاکنڈ کی کارکردگی کو سراہا اور اس اقدام کو ماحول دوست قرار دیا۔