21/08/2026
ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایاکہ تقریباً سوا، ساڑھے آٹھ کے درمیان ہم دومختلف کاروں میں اڈیالہ جیل پہنچ گئے ، فون آپ اپنی گاڑی میں باہر چھوڑ جاتے ہیں، کچھ دیر انتظار کیا تو تقریباً ساڑھے بارہ، بارہ چالیس کے لگ بھگ وہ ان کے اہلکار آئے، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ آ جائیں، تو میں نے کہا جی ٹھیک ہے، میں نے پوچھا، میں صرف؟ انہوں نے کہا جی، میں نے کہا ٹھیک ہے، تو ایک گاڑی میں میں بیٹھ گیا اور اس گاڑی میں چند منٹ کے انتظار کے بعد ہم چل پڑے، ظاہر ہے رات کا اندھیرا تھا تو اس لیے فوراً آپ کو نہیں پتہ چلتا، اس کے شیشے بھی تھوڑے اندھیرے ہوتے ہیں لیکن بہرحال، تقریباً میں سمجھتا ہوں کوئی آدھے پونے گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم شفا ہسپتال پہنچ گئے، اور وہاں سیکیورٹی کے انتظامات ہوئے ہوئے تھے اور ہم اندر چلے گئے، انہوں نے کہا جی اب ویٹ کریں، تو وہ ویٹنگ ایریا سا تھا اس میں میں بیٹھا رہا اور یہ تقریباً ڈھائی یا تین گھنٹے ہم انتظار کرتے رہے۔ اس دوران میں پوچھتا رہا، انہوں نے کہا جی تھوڑی دیر تک پہنچ رہے ہیں، تھوڑی دیر تک پہنچ رہے ہیں، ان کو خود بھی میرے خیال سے مکمل اندازہ نہیں تھا کہ کیادراصل پروگرام ہے، اور لیکن جب میں سمجھتا ہوں سوا چار ساڑھے چار کے لگ بھگ انہوں نے کہا، مجھے لگتا ہے ڈاکٹر صاحب وہ نہیں پہنچ پائیں گے اور شاید وہ واپس ہو گئے ہیں تو آپ بھی پھر واپس چلیے، تو پھر اسی گاڑی میں بیٹھ کے میں واپس اڈیالہ پہنچا، جب میں پہنچا تو ابھی کمرے میں گھسا تو میں دیکھ رہا تھاکہ ڈاکٹر عظمیٰ کہاں ہیں، تو دیکھا کہ پیچھے ایک اور گاڑی سے تشریف لائیں، تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں تھے؟ میں نے کہا جی میں تو شفا میں تھا، میں نے کہا آپ کہاں تھیں؟ تو انہوں نے کہا جی میں تو پمز میں تھی، تو یہ ہے جی مختصراً احوال۔