18/05/2026
چارسدہ کی سرزمین سے تعلق رکھنے والی ایک بہادر، باصلاحیت اور نظریاتی خاتون، جنہوں نے نہ صرف وکالت کے میدان میں اپنی پہچان بنائی بلکہ سیاست اور سماجی خدمت میں بھی ایک مضبوط کردار ادا کیا۔ کم عمری اور دورِ طالب علمی سے ہی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے مسلسل سرگرم رہیں۔ ان کا خاندان بھی خدائی خدمت گار تحریک اور عوامی نیشنل پارٹی کے نظریے سے وابستہ رہا، یہی وجہ ہے کہ خدمت، شعور اور مزاحمت ان کی شخصیت کا حصہ بن گئی۔
انہوں نے مختلف ادوار میں پارٹی کے کئی اہم عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائیں۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن میں سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کی وائس پریذیڈنٹ رہیں، پھر عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کی وائس پریذیڈنٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ صوبائی صدر ایمل خان کے دور میں یوتھ افیئرز سیکرٹری رہیں اور آج بھی میاں افتخار حسین کی سربراہی میں صوبائی یوتھ افیئرز سیکرٹری کے طور پر متحرک کردار ادا کر رہی ہیں۔
پختون معاشرے میں ایک عورت کا سیاست میں آگے بڑھنا ہمیشہ آسان نہیں رہا، لیکن انہوں نے لوگوں کی تنقید، رویوں اور مشکلات کو حوصلے سے برداشت کیا۔ اس جدوجہد میں ان کے والدین نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا، جبکہ بعد میں ان کے شوہر نے بھی ان کی ہمت اور حوصلہ بڑھایا۔ یہی سپورٹ ان کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ بنی۔
سیاست کے ساتھ ساتھ وکالت کے شعبے میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ پشاور ہائی کورٹ میں بطور وکیل عوام کے مسائل کے حل، مظلوموں کی مدد اور انصاف کی فراہمی کے لیے سرگرم رہتی ہیں۔ قانونی میدان میں بھی ان کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔
سماجی خدمت کے جذبے کے تحت 2015 میں “چاپیرچل” کے نام سے ایک فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے غریب، نادار اور مستحق لوگوں کی مدد کی جاتی ہے۔ یہ صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک خوبصورت سفر ہے، جو آج بھی جاری ہے۔
ایسی شخصیات معاشرے کے لیے امید کی کرن ہوتی ہیں، جو سیاست کو خدمت سمجھتی ہیں، وکالت کو انصاف کا ذریعہ بناتی ہیں اور انسانیت کی مدد کو اپنی ذمہ داری۔ ان کی جدوجہد بہت سی نوجوان لڑکیوں کے لیے حوصلے، شعور اور خود اعتمادی کی علامت ہے۔