07/09/2026
دو ملک پانی کے معاملے پر جنگ کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔
ایک پانی بند کرنے کی دھمکی دیتا تھا، اور دوسرا کہتا تھا کہ اگر پانی بند کیا گیا تو جنگ ہوگی۔
آج قدرت کا منظر دیکھیے!
دونوں ملکوں پر اتنا پانی چڑھ گیا کہ ایک اسے روک نہ پایا اور دوسرا اسے سنبھال نہ پایا۔
جغرافیائی اعتبار سے حقیقت یہ ہے کہ چین سے آنے والا پانی بھارت سے گزرتا ہوا پاکستان تک پہنچتا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اس پانی کے ساتھ کیا کرنا ہے؟
کیا ہم مزید ڈیم بنائیں گے؟
کیا بیراج تعمیر کر کے اس پانی کو محفوظ کریں گے؟
کیا نہروں کا جال بچھا کر اپنے صحراؤں اور بنجر زمینوں کو آباد کریں گے؟
کیا سیلابی پانی کو ذخیرہ کر کے اپنی زراعت، بجلی اور آنے والی نسلوں کے لیے استعمال کریں گے؟
یا پھر ہم ہمیشہ کی طرح پانی کو سمندر میں بہنے دیں گے اور بعد میں پانی کی قلت کا رونا روتے رہیں گے؟
دنیا کے کئی ممالک پانی کے ایک ایک قطرے کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات جیسے ممالک پانی کے ذخیرے، تحفظ اور ڈی سیلینیشن پر بڑے پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔
بدقسمتی سے ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں۔
ہمیں ڈیموں سے زیادہ جزیروں کی فکر ہے،
قوم کے وسائل سے زیادہ ایون فیلڈ اور سرے محل کی فکر ہے،
اپنے صحرا آباد کرنے سے زیادہ آدھا دبئی اور یورپ خریدنے میں دلچسپی ہے۔
حالانکہ پاکستان کی زراعت، خوراک، بجلی اور معیشت کا بہت بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام اور پانی کے مؤثر انتظام سے وابستہ ہے۔
ورنہ پھر یہی ہوگا:
پانی آئے گا تو ہم اسے روک نہیں پائیں گے،
اور جب پانی نہیں ہوگا تو ہم اسے ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔
باقی پانی جانے... اور یہاں کی عوام جانے!
#پاکستان #سیلاب #زراعت