20/08/2026
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا سینٹ اجلاس میں خطاب
🔴موجودہ نظام نے جمہوریت کو مردہ کر کے اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے
🔴جو وزیر حکومت میں بیٹھ کر نظام کو ناکام قرار دیتا ہے وہ میدان میں آکر بتائے نظام کیوں ناکام ہے،
🔴صرف لوگوں پر گولیاں چلانے اور ووٹ لینے کے بجائے قوموں کی ترقی کے لیے عملی کام کیا جائے
🔴جنہیں نشانِ عبرت بنانا چاہیے انہیں نشانِ امتیاز دیا جا رہا ہے،
🔴آئینی عہدے پروٹوکول کے لیے نہیں بلکہ ذمہ داری اور حکومت میں شراکت داری کے لیے ہوتے ہیں،
🔴اگر آئینی عہدے صرف پروٹوکول تک محدود رہے تو عوام ان کی ضرورت پر سوال اٹھائیں گے،
🔴 مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی موجودہ صورتحال سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتیں، یہ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے
🔴جو لوگ آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر ٹوکری میں پھینکتے ہیں، ان پر ہی توجہ کیوں دی جا رہی ہے؟
🔴عوام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مر رہی ہے اور ایوارڈ دینے کا پیمانہ سمجھ سے بالاتر ہے،
🔴آپ نے انٹیریئر منسٹر کو کس بات کا تمغہ دیا؟ یہ کیا نشانِ حیدر ہے؟
🔴بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے حالات سب کے سامنے ہیں، پھر تمغے کس کارکردگی پر؟
🔴میں اس وزیر کی قدر کروں گا جو کہے مجھے تمغہ نہیں چاہیے، میں خدمت کے لیے آیا ہوں،
🔴ایوارڈ دینے اور نشانِ امتیاز دینے کا پیمانہ قوم کو بتایا جائے، اعظم نذیر تارڑ سے سوال
🔴قانون ضرور بناؤ لیکن پورے پاکستان کو تجربہ گاہ بنا کر امتحان میں مت ڈالو،
🔴حکومت کی معاشی پالیسیوں نے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا، لیکن ایوارڈز کا سلسلہ جاری ہے
🔴نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑنے کے بجائے سینیٹ میں اس معاملے پر کھلی بحث کرائی جائے،
🔴نئے صوبے بنانے ہیں یا نہیں، کس طریقے سے بنانے ہیں، اس پر پارلیمان میں فیصلہ کن بحث ہونی چاہیے
🔴جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کرنے والے اب کہاں ہیں؟ صرف خیبر پختونخوا میں صوبوں کی بات کیوں؟
🔴پنجاب سے نئے صوبے کی آواز اٹھتی ہے تو جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں رکاوٹ کیوں ہے؟
🔴قوموں کو تباہ نہ کرو، قوموں کو بناؤ پختون، بلوچ، سندھی، پنجابی اور سرائیکی سب کو حقوق دو
🔴طاقت حاصل کرنے کے بجائے قوموں کو مضبوط بنانے کی سیاست کی جائے،
🔴حکومت میں بیٹھ کر نظام کی ناکامی کا شوشہ چھوڑنے والوں کی ذمہ داری بھی واضح ہونی چاہیے،
🔴آئینی عہدوں کو صرف پروٹوکول کا ذریعہ بنانے سے عوام کا جمہوریت پر اعتماد ختم ہوگا،
🔴قوموں کو غلام بنا کر نہیں بلکہ انہیں حقوق دے کر ساتھ لے کر پاکستان کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے،
🔴اگر موجودہ نظام اسی طرح چلتا رہا تو ہمیں بھی اس طریقۂ کار کا بائیکاٹ کرنا پڑے گا
| |