Jamiat Youth Force J&K

Jamiat Youth Force J&K Jamiat Youth Force (JYF) is the youth wing of Jamiat Ulema-e-Islam (JUI) AJK, working to empower youth through Islamic values, leadership, and social service.

12/09/2025
12/09/2025
03/09/2025
- - - - - - - مسجد کے ملاں اور کلیسا کے پاپ- - - - - - - - امید ہے تمام احباب با خیر و عافیت ہوں گے جیسا کہ کچھ دنوں سے ...
26/07/2024

- - - - - - - مسجد کے ملاں اور کلیسا کے پاپ- - - - - - - -

امید ہے تمام احباب با خیر و عافیت ہوں گے جیسا کہ کچھ دنوں سے توقیر گیلانی کے حوالے سے ایک تحریک چل رہی ہے اور تحریک کا مطالبہ اتنا ہے کہ تو قیر گیلانی پر قانون کے تحت کاروائ عمل میں لائ جائے کیوں کہ انہوں نے حضرت ہندہ رضی اللہ عنھا اور انکی اولاد رضوان اللہ تعالی اجمعین جنمیں حضور اکرم علیہ السلام کی اہلیہ مومنین کی ماں بھی شامل ہیں ان کو جلسہ عام میں گالی دی لہذا اس کے متعلق ملک میں قانون موجود ہے اس قانون کے تحت کاروائ کی جائے اور انہیں سزا دی جائے جو کہ ایک شرعی مطالبہ ہے ،اور اگر وہ عدالتی کاروائ یعنی سزا کاٹنے کے بعد توبہ تائب ہو جاتے ہیں تو یقینن اللہ کی ذات توبہ کو قبول کرنے والی ہے پھر کسی کو کوئ حق نہیں کہ انکے اس جرم کا ذکر کرے یا انہیں اس جرم کا طعنہ دیا
جائے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بندے کی توبہ عدالت کی طرف سے تعزیراتی کاروائ کے ساتھ کیوں مشروط ہے کیا مولوی نے یہ شرط رکھی ہے ؟
جواب :نہیں مولوی کی اتنی اوقات نہیں کہ اللہ کے بندوں پر اپنی خدساختہ شرائط لاگو کرے اللہ اور اسکے رسول کا یہی حکم ہے کیوں کہ یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے لہذا اللہ نے فرماء دیا حقوق العباد کے معاملے میں معافی کا اختیار اسی بندے کے پاس ہے جسکے ساتھ زیادتی کی گئ اب چونکہ اصحاب مصطفی تو دنیا میں موجود نہیں لہذا اسلام نے کہا ان کے ساتھ کی گئ زیادتی کو معاف کرنے کا اختیار روئے ارضی پر کسی کہ پاس نہیں صرف ایک ہی صورت ہے جس سے اس زیادتی کا ازالہ ممکن ہے اور فقھاء نے بھی مسئلہ اسی طرح بیان کیا ہے کہ گستاخ صحابہ پر تعزیراتی کاروائ کی جائے گی اسکے بغیر اسے معاف کرنے کا اختیار نہ تو عوام کے پاس ہے نہ علماء کے پاس ہے حتی کے اسلام ایسے مجرم کو معاف کرنے کا اختیار ریاست کو بھی نہیں دیتا ۔

اب آتے ہیں اس سے اگلے سٹیپ پر :
معافی کا اختیار : فرانس میں جب پاپائیت نے عروج پکڑا تو سیکولرازم کو سر اٹھانے کا موقع مل گیا مسجد کے ملاں اور کلیسا کے پاپ میں فرق یہ ہے کہ علمائے اسلام قرآن و حدیث کی روشنی میں عوام کی راہنمائ کرتے ہیں اور کلیسا کے پاپ اپنی عقل کی بنیاد پر لوگوں کے راہنما تھے ۔انکا ماننا یہ تھا کہ ہم جو کہیں وہی دین عیسوی ہے چنانچہ وہ سزا و جزا کے متعلق بھی خد کو بااختیار سمجھتے تھے جسے چاہتے سزا دیتے جسے چاہتے معاف کر دیتے بشرط یہ کہ مجرم کلیسا میں آتا اور کہتا کہ میں اپنے کئے پر گیلٹی (شرمندہ) ہوں صرف اس بات کے اظہار پر پاپ اپنی خواہش اور عقل کو معیار بناتے ہوئے اسکی مغفرت کا اعلان کردیتے یا مجرم قرار دیتے اس طرح ریاستی معاملات میں بھی ان کا یہ اختیار عوام کے لیے وبال جان بن چکا تھا اور نت نئے جرم کے راستے کھلتے چلے جا رہے تھے ، انسانیت ظلم کی چکی میں پس رہی تھی اور ملاں کا دعوی یہ ہے کہ دین محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم )ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور کسی معاملے میں انسان اپنی رائے نہیں دے سکتا ،ہر حال میں اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت واجب ہے اور سزا و جزاء کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے ۔

پاپائت کے نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے اس فرسودہ نظریہ سے بغاوت کی اور سیکولرازم کی تحریکوں نے سر اٹھایا کیوں کہ وہ ظلم و جبر کا دور تھا جسکا آغاز پاپائیت نے کیا تھا

میرا سوال :فرض کریں ایک کہانیکے تین کردار ہیں
۱-A
۲-B
۳-C
اب انکی کہانی کچھ ایسی ہے کہ A کو Cنے گالی دی گالی بھی ایسی جسکو یہاں لکھنے میں حیاء آتی ہے۔اسکے بعد A کے چاہنے والوں نے C کے خلاف قانونی کاروائ کی اور قانون نے Cپر اسکے جرم کی پاداش میں اپنا گھیرا تنگ کر دیا ۔
اب آتے ہیں اس کہانی کے تیسرے کردار پر جب C پر گھیرا تنگ کر دیا گیا تو اسنے مسٹرD سے کہا میں معذرت خواہ ہوں اپنی غلطی پر لہذا آپ کچھ کریں ، جناب D صاحب نے اعلان عام کردیا کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے یہ نادم ہے اسے معافی دے دیتے ہیں ۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ ہوتا کون ہے معافی دینے والا ؟
یہی سوال A نے بھی کیا کہ بھائ گالی مجھے دی گئ تو ہوتاکون ہے معاف کرنے والا ؟

یہ تھا پاپائیت کا کردار جو D اداء کرہا تھا خدارا اپنے درمیان موجود ان کرداروں کو پہچانیں اور اپنے ملک ملت کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں

اگر ایسا نہ کیا تو کل کوئ اور گستاخ اٹھے گا اور انکے پاس جاکر اپنی نجات کا پروانہ حاصل کر لے گا جسکے نتیجہ میں ریاست بھر میں اس جرم کا دروازہ ہر خاص و عام کے لئے کھل جائے گا ۔

25/06/2024
03/07/2022

‎ تقسیم کشمیر کی بات کرنے والے دراصل وہ ملک دشمن عناصر ہیں جو کشمیر کی ساخت مٹانا چاہتے ہیں۔ کشمیری کسی تقسیم کے قائل نہیں ہمارا موقف روز اول سے بلکل صاف شفاف ہے. ہمارے نزدیک مسئلہ کشمیر کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے کہ تمام کشمیری گلگت بلتسان سے آزاد کشمیر تک اور مقبوضہ کشمیر سے وادی لداخ تک اور جموں کے عوام جب تک مل کر نہیں بیٹھیں گے ،کشمیر آزاد نہیں ہوگا ۔
ہم 1949 میں پیش کی جانے والی قراردادوں کے مطابق کشمیر کا حل چاہتے ہیں ۔جہان لفظ آل جموں کشمیر استعمال ہوا ہے ۔جس کا مطلب پوری ریاست کی وحدت ہے ۔

وحدت کشمیرکانفرس راولاکوٹ۔
21/06/2022

وحدت کشمیرکانفرس راولاکوٹ۔

23/06/2021

گڑالہ ملوانی میں تعمیر و ترقی کے جال!!!

Address

Jamia Darul Uloom Al Islamia AJK
Palandri
12010

Telephone

+923005811960

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamiat Youth Force J&K posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jamiat Youth Force J&K:

Share