12/02/2021
29-01-2021
کسان اکٹھ کے زیر اہتمام چک جگا بلوچ میں کسان اجلاس کا انعقاد کیا گیا.
اجلاس میں علاقے کے کسانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی.
اجلاس میں کسانوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسانوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط اور جامع تنظیم کی ضرورت ہے جس کے لیے کسانوں کو گاؤں گاؤں تنظیم سازی کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے.
اس موقع پر کسان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ غلہ منڈی کسانوں کے لیے ایک استحصالی ادارہ بن چکی ہے اور وہاں چور بازاری کا بازار گرم ہو چکا ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ اس چور بازاری کو فل فور ختم کر کے اس کی جگہ حکومتی سرپرستی میں خریداری مراکز قائم کئے جائیں. تاکہ کسانوں کو فصلوں کے مناسب ریٹ مل سکیں.
محکمہ زراعت کسانوں کو گاؤں گاؤں جا کر ٹریننگ اور فصلوں سے متعلق رہنمائی کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو زرعی ادویات اور معیاری بیجوں کی فراہمی کے لیے حکومت مناسب اقدامات اٹھائے اور پرائیویٹ محکموں سے کسانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کئے جائیں.
َان کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے کسانوں کو قدرتی آفتوں میں ہونے والے نقصانات پر انشورنس دی جائے تاکہ ان کو معاشی طور پر کمزور ہونے سے بچایا جا سکے.
انہوں نے کہا کہ حکومت گندم کی طرح تمام اجناس کی قیمتیں خود طے کرے اور کسانوں سے تمام فصلیں خریدنے کے لیے انتظامات کو یقینی بنائے.