Pakpattan . پاکپتن

Pakpattan .      پاکپتن This is such a platform to invite all, living within or out of the country, to help them finding al

18/12/2025

*18دسمبر2025*

**
*انتباہ :* _*رواں ہفتے کے دوران پنجاب ، بالائی سندھ اور خیبر پختونخوا کےمیدانی علاقوں میں دھند کا امکان۔*_
-
*>اسلام آباد:*
اسلام آباد اور گردونواح میں موسم سرداور مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ۔
-
*>پنجاب:*
صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور مطلع جزوی ابرآلود رہے گا ۔ مری، گلیات اور گردو نواح میں موسم سرد اور مطلع ابرآلود رہنے کی توقع ۔ سیالکوٹ،نارووال، لاہور،شیخوپورہ،گوجرانوالہ،گجرات، جہلم، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، بہاولنگر، اوکاڑہ ، ساہیوال،ملتان، ڈیرہ غازی خان، قصور ،خانیوال،خانپور، کوٹ ادو، بھکر،لیہ،بہاولپور،رحیم یار خان،راجن پور اور گردونواح میں دھند/سموگ (چند مقامات پردرمیانی سے شدید دھند) چھائے رہنے کا امکان ۔
-
*>سندھ:*
صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک جبکہ صبح / رات کے اوقات میں سرد رہے گا ۔ سکھر،روہڑی، شکارپور، کشمور، موہنجوداڑو اور گردونواح میں صبح / رات کے اوقات میں دھند پڑنے کا امکان ۔ ۔
-
*>بلوچستان:*
: صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم سرداور مطلع جزوی ابرآلود رہنےکی توقع۔
-
*>خیبر پختونخوا:*
صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک جبکہ صبح / رات کے اوقات میں سرد رہے گا ۔ سکھر،روہڑی، شکارپور، کشمور، موہنجوداڑو اور گردونواح میں صبح / رات کے اوقات میں دھند پڑنے کا امکان ۔
-
*>گلگت بلتستان:*
گلگت بلتستان میں موسم شدید سرد اورمطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان۔
-
*>کشمیر:
کشمیر میں موسم شدید سرد اورمطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان۔
*فاسٹ ٹریڈ سروسز

صاف پانی زندگی ھےڈاکٹر نہیں پانی بدلیںکھارے اور نمکین پانی کو میٹھا اور جراثیم سے پاک بنائیں City Traders 03006940715 Co...
09/12/2025

صاف پانی زندگی ھے
ڈاکٹر نہیں پانی بدلیں
کھارے اور نمکین پانی کو میٹھا اور جراثیم سے پاک بنائیں
City Traders 03006940715
College road Pakpattan
0300 6940715

04/12/2025
✒️ روزانہ پانی پینے کا چیلنج: پانی زندگی کی علامت اور ضرورت ہے اور پانی کا درست استعمال آپ کو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہ...
03/12/2025

✒️ روزانہ پانی پینے کا چیلنج: پانی زندگی کی علامت اور ضرورت ہے اور پانی کا درست استعمال آپ کو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ بہت سے لوگ پانی نہ پینے، کم پینے یا درست انداز میں نہ پینے کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔ آپ روزانہ پانی پینے کے چیلنج کو اختیار کر کے اس حوالے سے بہتری لانے کی کوشش کریں۔ آپ عزم کریں کہ آپ نے روزانہ پینا ہے۔ آپ روزانہ اپنے وزن کےہر دس کلو پر ایک گلاس پانی پیا کریں۔ یعنی اگر وزن پچاس کلو ہے تو پانچ گلاس، اگر وزن ستر کلو ہے تو سات گلاس وغیرہ۔ آپ پیاس لگنے کا انتظار کیے بغیر پانی پیا کریں۔ پانی کو ایک دم پینے کی بجائے وقفوں میں سانس لے کر پیا کریں۔ نیم گرم پانی پی سکیں تو بہتر ہے۔ کھانا کھانے سے کچھ وقت پہلے بھی پانی پیا کریں۔ پانی چیلنج کا آغاز صبح ہی کر دیا کریں اور ایک دو گھنٹوں کے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔ رات کو دیر سے پانی نہ پئیں تو بہتر ہے کیونکہ اس سے آپ کو جاگ کر واش روم جانے کی زحمت ہو سکتی ہے۔ شام تک پانی کا ہدف مکمل کر لیا کریں۔ پانی پینے کے بعد پیشاب آئے تو روکیں مت۔ پیشاب کی روانی اچھی صحت کی علامت ہوتی ہے۔ آپ ہر گلاس پیتے وقت گنتی کیا کریں۔ اس چیلنج میں اپنے تمام اہل خانہ کو شامل کریں اور پانی کے گلاس گنتی کرنے کو گھر کی ایک سرگرمی بھی بنا لیں۔ آپ مسلسل تیس دن یہ سرگرمی کریں اور پھر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کا تجزیہ کریں۔ ان شاء اللہ آپ بہت بہتر محسوس کریں گے۔ مگر تیس دن بعد یہ سرگرمی ختم نہیں کرنی بلکہ اسے ساری عمر کی شدید عادت بنانا ہے۔ صرف پانی پینے کو درست اور منظم کر کے آپ اپنی صحت کو بہت بہتر کر سکتے ہیں، بہت سی بیماریوں سے دور رہ سکتے ہیں، ڈاکٹروں اور بیماریوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں، ان شاء اللہ۔ اس پیغام کو روزانہ بلند آواز سے پڑھیں۔ شیئر اور فارورڈ کے چکر میں پڑنے کی بجائے خود عمل کریں۔ جب آپ خود عمل کرنے لگ جائیں تو یہ میسج روزانہ صرف ایک فرد کو بھیج دیا کریں۔ چلیں شروع کر دیں۔

02/12/2025
04/10/2025

‏وہ دن یاد رکھو جس دن کسی بھی شخص نے نیکی کا جو کام کیا ہوگااسے اپنے سامنے موجود پائے گا،اور بُرائی کا جو کام کیاہوگا اس کو بھی (اپنے سامنےدیکھ کر) یہ تمنا کرے گاکہ کاش اس کےاور اس کی بدی کے درمیان بہت دُور کا فاصلہ ہوتا! اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب)سےبچاتاہے،

﴿سورۃ آل عمران، ۳۰﴾

30/09/2025

مئی2025

بھارت نے 26فروری2019 کی صبح ساڑھے تین بجے بالاکوٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کی‘ انڈین پائلٹس کا ہدف مدرسہ تھا لیکن وہ خوف کی وجہ سے وہاں پہنچ نہیں سکے اور جنگل میں بم گرا کر واپس بھاگ گئے‘ ظہیر احمد بابر اس وقت ائیروائس چیف تھے جب کہ مجاہد انور خان ائیر چیف تھے‘ ظہیر احمد بابر اسی رات فوری جواب دینا چاہتے تھے۔

ان کا خیال تھا ہم آج خاموش رہے تو بھارت بار بار یہ کرے گا لیکن آرمی چیف جنرل باجوہ نے روک دیا‘ ان کا کہنا تھا صبح وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ کے بعد فیصلہ کریں گے‘ اگلی صبح میٹنگ ہوئی اور جواب دینے کا فیصلہ ہوا‘ 27 فروری کو پاکستانی ائیرفورس نے انڈیا کے سات اہداف لاک کر لیے۔

ایک ہدف میں ان کے آرمی چیف بپن راوت بھی موجود تھے‘ پاکستانی پائلٹس نے ان کے بنکر سے ذرا سے فاصلے پر بم گرا کر انھیں اطلاع دی ہم آپ سے دور نہیں ہیں اور پھر ہمارے جہاز واپس آ گئے‘ بھارتی طیاروں نے پیچھا کیا‘ پاکستان نے ان کی کمیونی کیشن جام کر کے انھیں نشانہ بنا لیا۔

بھارت کا ایک طیارہ بھارتی حدود میں گر گیا جب کہ دوسرا طیارہ پاکستانی آزاد کشمیر میں آ گرا‘ یہ طیارہ مگ 21تھا اور اس میں ونگ کمانڈر ابھی نندن سوار تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا‘ ائیرفورس میں ونگ کمانڈر سینئر افسر اور ٹرینر ہوتا ہے‘ یہ طیارے اڑانے والا آخری رینک ہوتا ہے اور یہ جوان پائلٹس کا گرو اور ہیرو ہوتا ہے۔

اگر اس کا طیارہ گر جائے یا یہ ای جیکٹ پر مجبور ہو جائے تو یہ بہت بے عزتی ہوتی ہے اور فورس کا مورال مکمل طور پر بیٹھ جاتا ہے‘ ونگ کمانڈر ابھی نندن کے ای جیکشن نے بھارتی ائیرفورس کو پوری دنیا میں بے عزت کر دیا‘ پاک فوج نے آفیسر کی حیثیت سے اسے بہت عزت دی‘ میڈیکل ٹیسٹ کے بعد جب اس کا انٹرویو شروع ہوا تو اس سے فوج کے ایک جونیئر افسر نے پوچھا ’’سر آپ نے ای جیکٹ کیوں کیا؟‘‘

میں کہانی آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ بتاتا چلوں جہاز سے ای جیکٹ ہونا کسی بھی پائلٹ کے لیے موت سے بدتر ہوتا ہے‘یہ اس کے بعد دنیا میں کسی جگہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا اور اگر یہ کام ونگ کمانڈر نے کیا ہو تو پھر یہ پوری فورس کے لیے مرنے کا مقام ہوتا ہے۔

یہ شخص جوان پائلٹس کا استاد اور ہیرو ہوتا ہے اور اگر ہیرو ہی موت سے ڈر جائے تو پھر فورس کا کیا مورال بچے گا لہٰذا ونگ کمانڈر ابھی نندن سے یہ سوال بنتا تھا‘ ابھی نندن نے یہ سوال سنا اور سر جھکا کر بولا ’’آئی ہیو اے فیملی‘‘۔

یہ جواب دراصل پاکستانی آفیسرز اور بھارتی آفیسرز کے درمیان فرق ہے‘ بھارتی جوان اور افسر صرف تنخواہ اور اسٹیٹس کے لیے فورس جوائن کرتا ہے جب کہ پاکستانی شہادت کے لیے اس پروفیشن میں آتے ہیں چناں چہ یہ مرنے سے گھبراتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹتے ہیں۔

مئی 2025 میں بھی یہی ہواتھا‘ آپ وقت کو ذرا سا پیچھے گھمائیں اور اپریل سے پیچھے چلے جائیں آپ کو پاکستان ڈائون سے ڈائون ہوتا نظر آئے گا‘ ہم معاشی لحاظ سے ڈیفالٹ کے قریب تھے‘ امریکا اور ہمارے درمیان بے تحاشا فاصلے تھے‘ آئی ایم ایف ہم سے ناک کے ذریعے لکیریں نکلوا رہا تھا‘ چین ہمارا دوست ہے لیکن اس میں بھی سردمہری آ چکی تھی‘ قطر‘ سعودیز اور یو اے ای ہمارے وزیراعظم سے ملنا نہیں چاہتے تھے۔

ان کا خیال تھا ہم ان سے مزید پیسے مانگ لیں گے‘ یہ ہمیں ’’مسکین‘‘ بھی کہتے تھے‘ یو اے ای نے پاکستانیوں کے ویزے بند کر دیے تھے‘ آپ حد ملاحظہ کیجیے ایران نے پاکستان پر میزائل داغ دیے تھے اور افغان طالبان نے بھی چمن پر سویلین آبادی حملہ کر دیا تھا جس میں چھ شہری شہید ہو گئے تھے۔

ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے لوگ ملک میں دندناتے پھرتے رہتے تھے حتیٰ کہ 11 مارچ 2025کو مجید بریگیڈ نے جعفر ایکسپریس اغواء کر لی اورچھٹی جانے والے 26 فوجی جوانوں کو گولی مار کر پہاڑوں میں روپوش ہو گئے‘ پاکستان کے اندر بھی سڑکیں گرم تھیں‘ ریاست ٹویٹر بندکرنے پر مجبور تھی اور سوشل میڈیا پر اربوں روپے سے فائر وال لگا دی تھی۔

یہ صورت حال بھارت کے لیے آئیڈیل تھی چناں چہ اس نے اپریل میں پہلگام کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملے کا فیصلہ کر لیا‘ ہم نے بھارت کو تحقیقات کی کھلی پیش کش کی‘ ہم نے عالمی ماہرین کے ذریعے تفتیش کی آفر تک کی لیکن بھارت نہیں مانا اور آپ ہماری کمزوری کی حد دیکھیں‘ پوری دنیا میں کسی ملک نے ہماری حمایت نہیں کی‘ کسی نے بھارت کو نہیں کہا آپ حملے سے پہلے تحقیقات کرا لیں یا ہم درمیان میں آ کر تحقیقات کرا دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

دنیا سائیڈ پر کھڑی ہو کر تماشا دیکھتی رہی‘ آپ ذرا اپریل میں جا کر حالات کا دوبارہ جائزہ لیں‘ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری مسکرا رہے تھے‘ عمران خان جیل میں بغلیں بجا رہے تھے‘ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی نے حملوں کی تیاری شروع کر دی تھی اور عوام فوج پر طنز کر رہے تھے۔

ہمیںجنگ سے قبل ہمارے دوستوں نے بھی ڈرانا شروع کر دیا تھا‘ تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل نے بھی بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملے کا فیصلہ کر لیا تھا‘ یہ اس سے قبل کہوٹہ پلانٹ تباہ کرنے کی دو کوششیں کر چکا تھا لیکن یہ کسی مکمل جنگ میں بھارت کا حصہ دار نہیں بنا تھا۔

اس مرتبہ اس نے بھارت کو اپنے جدید ترین ڈرونز ہاروپ بھی دیے اور انھیں چلانے کے لیے ڈیڑھ سو ماہرین بھی بھارت بھجوائے‘ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے یہ ڈرونز اور ماہرین قطر کے ذریعے بھارت آئے تھے اور ہم نے جب قطر سے شکوہ کیا تھا تو اس کی طرف سے صرف مسکراہٹ کا تحفہ ملا تھا۔

پوری دنیا میں ان حالات میں صرف دو ملکوں نے پاکستان کا ساتھ دیا‘ ترکی اور آذربائیجان اور یہ مدد بھی صرف سفارتی تھی‘ پاکستان کا ترکی کے ساتھ ڈرون سازی کا ایک معاہدہ تھا جس پر ماضی سے کام چل رہا تھا‘ ہمیں اس کے علاوہ ترکی سے بھی کوئی عملی مدد نہیں ملی۔

ہمارے پاس چین کے جے 10طیارے تھے‘ یہ ہم نے خریدے تھے اور اس سودے میں چین نے ہمیں ٹھیک ٹھاک رگڑا لگایا تھا‘ بھارت نے اپنی پراکسیز ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ذریعے ہماری فوج کو کے پی اور بلوچستان میں بھی پھنسا رکھا تھا‘اس کا خیال تھا ہم کے پی اور بلوچستان سے نہیں نکل سکیں گے۔

بھارت نے ان حالات میں چھ اور سات مئی کی درمیانی رات بہاولپور‘ مریدکے‘ مظفر آباد‘ کوٹلی اور سیالکوٹ پر حملہ کر دیا‘ پاکستان ائیرفورس نے بھرپور جواب دیا اور بھارت کے چھ طیارے گرا دیے جن میں دنیا کے جدید اور مضبوط ترین چار رافیل طیارے بھی شامل تھے۔

پاکستان کا یہ ری ایکشن حیران کن تھا جس نے امریکا‘ یورپ‘ عربوں اور چین کو بھی حیران کر دیا‘ دنیا اگر اس وقت بھی نیوٹرل ہوتی تو یہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی لیکن جیت کے بعد بھی ہمیں رگڑا لگایا گیا۔

امریکا اور عرب دوستوں نے ہمیں سمجھانا شروع کر دیا آپ خاموش ہو جائیں ورنہ بھارت آپ کو بہت پھینٹا لگائے گا‘ 9مئی کو سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ پاکستان آئے اور ہمیں مشورہ دیا آپ جنگ کو مزید آگے نہ بڑھائیں انڈیا نے بہت تیاری کر رکھی ہے‘ یہ آپ کو زمین کے ساتھ لگا دے گا۔

لیکن فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا جواب تھا آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر لیکن ہم نے فیصلہ کر لیا ہے‘ ہم حملے کا جواب ضرور دیں گے‘ جواب کلیئر تھا لہٰذا سعودی نائب وزیرخارجہ سعودی عرب واپس چلے گئے‘ رخصتی کے وقت ان کی باڈی لینگوئج بتا رہی تھی ’’ٹھیک ہے آپ اگر مرنا چاہتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘‘

9مئی کو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوزکو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ’’یہ بھاڑ میں جائیں‘ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہیں‘‘ یہ صورت حال بھارت کو بتا رہی تھی‘ آپ آگے بڑھیں اور بے شک پاکستان کا قیمہ بنا دیں۔

لیکن اللہ تعالیٰ کو کیوں کہ پاکستان کی عزت منظور تھی‘ اللہ نے ائیرچیف ظہیر احمد بابر اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے مقدر میں فتح لکھی تھی چناں چہ پاکستان نے 10 کی صبح پانچ بجے بھارت پر حملہ شروع کیا اور ان کے ائیرڈیفنس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔

دنیا میں پہلی مرتبہ روس کے ایس 400 ائیرڈیفنس کا جنازہ نکلا‘ اسرائیل کے ہاروپ ڈرونز بھی دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے‘ یہ صورت حال حیران کن تھی اور بھارت سے لے کر امریکا تک سب ڈر گئے‘ ان کا خیال تھا پاکستان جس طرح بھارت پر حملہ کر رہا ہے اگر اسے نہ روکا تو یہ انڈیا کی پوری ائیرفورس تباہ کر دے گا۔

چناں چہ صبح آٹھ بجے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو فون کیا‘ یہ دو دن سے مسلسل جاگ رہے تھے‘ ان کی آنکھ لگ گئی تھی‘ ان کے اسٹاف نے انھیں اٹھایا اور مارکو روبیو سے بات کرائی‘ امریکی وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار سے کہا ’’ایکس لینسی‘‘۔
(باقی اگلے کالم میں ملاحظہ کیجیے)
جاوید چوہدری

22/09/2025

‏اردو کے گم شدہ الفاظ!

وقت کے ساتھ ساتھ ہماری زبان کے کئی الفاظ روزمرہ کی بول چال سے غائب ہوتے گئے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو کبھی ہر گھر میں گونجتے تھے، آج نئی نسل ان کے نام سے بھی ناواقف ہے۔ آئیے ذرا ان سے پردہ ہٹائیں:

رکابی

پلیٹ کو کہا جاتا تھا۔

سینی

گول بڑی پلیٹ یا پلیٹر۔

سلفچی / چلمچی

پیتل کا خوبصورت برتن جس میں کھانے سے پہلے مہمانوں کے ہاتھ دھلوائے جاتے تھے۔

الگنی

وہ رسی جو دیوار پر باندھی جاتی تھی اور اس پر کپڑے سکھائے جاتے تھے۔

طاق

دیوار میں بنی چھوٹی سی جگہ، جس میں شام کے وقت چراغ روشن کیا جاتا تھا۔

گھڑونچی

لکڑی کا اسٹینڈ جس میں مٹکے رکھے جاتے تاکہ گر نہ سکیں۔

نعمت خانہ

لکڑی کی خوبصورت جالی دار الماری جس میں کھانے کی چیزیں ٹھنڈی رہتی تھیں۔ یہ فریج کی جگہ استعمال ہوتا تھا۔

تلہ دانی

کپڑے کا ایک چھوٹا سا بٹوہ جس میں سوئیاں، دھاگے اور ریلیں رکھی جاتیں۔

بھگونہ

کھلے منہ کی پتیلی جس میں عموماً چاول پکائے جاتے تھے۔

بادیہ

تانبے کا بڑا کٹورہ جس میں بچا ہوا گوندھا ہوا آٹا رکھا جاتا تھا۔

کٹورہ

تانبے کا بنا خوبصورت برتن جس پر ڈھکن بھی ہوتا۔ آج اس کی جگہ ہاٹ پاٹ نے لے لی ہے۔

چھینکا

لوہے کے چپٹے تاروں سے بنا جھولا، جو چھت سے لٹکایا جاتا اور اس میں دودھ یا سالن کی دیگچیاں رکھی جاتیں۔

سمسی

لوہے کا قینچی نما کڑا جو پتیلی یا بھگونے کو چولہے سے اتارنے کے کام آتا۔

نوٹ:

یہ الفاظ صرف زبان کا حصہ نہیں تھے بلکہ ایک طرزِ زندگی کی نشانی تھے۔ ان میں صدیوں کی سادگی، سہولت اور ثقافت چھپی ہوئی تھی۔ آج یہ الفاظ سن کر پرانی حویلیوں کی نیم تاریک طاقوں میں جلتے چراغ یاد آتے ہیں، وہ نعمت خانہ جس میں کھانے کی خوشبو مہکتی تھی، وہ چھینکا جس میں دیگچیاں جھولتی تھیں۔ شاید اب وقت ہے کہ ہم اپنی نسل کو یہ ورثہ لفظوں سمیت لوٹا دیں، کیونکہ زبان مرے تو تہذیب بھی مر جاتی ہے۔

13/08/2025

I gained 9,543 followers, created 3 posts and received 280 reactions in the past 90 days! Thank you all for your continued support. I could not have done it without you. 🙏🤗🎉

13/08/2025

I got over 100 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

13/08/2025

‏*بھادوں کی حیرت انگیز معلومات*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

16 اگست سے شروع ہونے والا پنجابی مہینہ بھادوں اور اُسکی دلچسپ روایات
بھادوں پنجابی اور نانک شاہی کیلنڈر کا چھٹا مہینا ہے جو ساؤن کے بعد آتا ہے اور آٹھویں انگریزی مہینے اگست کی 16 تاریخ سے ستمبر کی 15 تاریخ تک رہتا ہے اور اس مہینے کے 31 دن شمار کیے جاتے ہیں۔

بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں ساؤن اور بھادوں بارشوں کے مہینے ہیں جس میں مُون سُون کی بارشیں ہاڑ یعنی جون اور جولائی کی شدید گرمی کے بعد گرمی کا زور توڑ دیتی ہیں اسی لیے بھادوں کو پنجاب میں اچھے موسم والا مہینہ جسکی گرمی برداشت کے قابل ہوتی ہے تصور کیا جاتا ہے۔
بابا گُرو نانک جو سکھوں کے سب سے بڑے گُرو ہیں اپنی کتاب گُرو گرنتھ صاحب میں لکھتے ہیں کہ "بھادوں بارش کا مہینہ انتہائی خوبصورت مہینہ ہے اور ساؤن اور بھادوں رحمت والے مہینے ہیں جس میں بادل نیچے اُترتا ہے اور تیز بارش برساتا ہے جس سے پانی اور زمین شہد سے بھر جاتے ہیں اورخالق زمین پر گھومتا ہے”۔
روایات میں ہے کہ پنجابی کے 12 مہینوں کے نام گیاراں بھائیوں (ویساکھ، جیٹھ، ہاڑ، ساون، اسو، کتک، مگھر، پوہ، ماگھ، پھگن، جیت اور 1 بہن (بھادوں) کے نام پر رکھے گئے یعنی سال کے سارے مہینوں میں بھادوں گیاراں بھائیوں کی اکلوتی اور انتہائی لاڈلی بہن ہے۔

مزید روایات میں ہے کہ بھادوں جہاں انتہائی لاڈی اور میٹھی ہے وہاں منہ زور، نکی چڑی، تیکھی اور چُبھنے والی بھی ہے اسی لیے اس مہینے کی گرمی اگر تیز ہوجائے تو انسان پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے، اس مہینے میں ہوا اگر چلتی ہو تو انتہائی سہانہ موسم ہوتا ہے اور ہوا اگر بند ہو جائے تو سانس بھی بند ہو جاتی ہے۔
‏بھادوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ جیٹھ اور ہاڑ کی شدید گرمی کو ختم کرنے کے بعد جب خُود ختم ہوتی ہے تو اپنے وجود کو کھونے کے ساتھ یہ زمین پر بہار کو جنم دیتی ہے اور موسم کو زمین والوں کے لیے انتہائی خوشگوار بنا دیتی ہے۔

پنجابی اور نانک شاہی کلینڈر کا آغاز 1469 میں بابا گُرو نانک کی پیدائش کے دن سے کیا جاتا ہے اور اس آرٹیکل میں اس مہینے اور کیلینڈر کا ذکر آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے کیا جارہا ہے۔

انتخاب(اِبنِ حَسن)

Address

Railway Road
Pakpattan
57400

Telephone

+923006940715

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakpattan . پاکپتن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share