Case Law & Judgements

Case Law & Judgements Sharing latest case law and court judgements to keep us all updated with daily law eternal regards...

friends are humbly requested to to be precise in posting legal info, law and court judgements please.

04/08/2022

حق شفع کیا ہے؟ کون، کب اور کیسے اس کو استعمال کرسکتا ہے؟ آج کے دور میں اسکی قانونی حیثیت کیا ہے؟

ہم دیہاتوں میں رہنے والے زمیندار لوگ بخوبی واقف ہیں اس نام سے. حق شفع جس کو انگریزی Right of Pre Emption کہتے ہیں.اس سے مراد ہے کہ فروخت ہونے والی زمین پر خریدار سے زیادہ کسی دوسرے شخص کا حق ہونا اور وہ دوسرا شخص کون ہوگا جس کا حق خریدار سے زیادہ ہوگا تو Pre Emption Act 1991 کے مطابق مشترکہ کھاتے دار کا پہلے نمبر پر حق ہے جس کو شافع شریک کہتے ہیں۔پھر جس کی دیوار یا زمین فروخت ہونے والے زمین سے متصل ہو اس کا حق ہے جس کو شافع جار کہتے ہیں اور تیسرے نمبر پر اس کا حق ہے جس کا گزرنے کا رستہ ہو یا پانی کا رستہ ہو فروخت ہونے والی زمین کی طرف جس کو شافع خلیط کہتے ہیں. یہ حق اوپر بیان کیے گئے اشخاص استعمال کرسکتے ہیں جیسے ہی انکو معلوم ہو کے زمین یا پلاٹ فروخت ہوچکا ہے وہ شخص دو گواہوں کے سامنے زمین خریدنے کا ارادہ ظاہر کرے گا. پھر لیگل نوٹس خریدار کو بھیج کر بتائے گا اس زمین پر میرا حق ہے جس قیمت میں زمین خریدی ہے اس قیمت پر زمین اس کو بیچنے کا بولے گا اور اگر وہ زمین نہ دے تو عدالت میں دعویٰ بنائے حق شفع دائر کرے گا لیکن اگر وہ ایک سال کے اندر دعویٰ نہیں کرتا تو اس کا حق شفع ختم ہو جائے گا۔

اس قانون کا مقصد کیا تھا؟

اس قانون کو بنانے کا مقصد تھا کے ہمارے ملک کی اکثریت دیہات میں رہتی ہے دیہاتی علاقوں میں ایک خاندان خاص برادری کے لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں اس لیے اس قانون کا مقصد تھا ایسی جگہوں میں کسی اجنبی شخص کو آنے سے روکنا۔

اس قانون کی موجودہ حیثیت؟

اعلی عدلیہ کی متعدد فیصلوں کی وجہ سے جیسا کے PLD 2017 359 کے مطابق اب یہ قانون شہری علاقوں، کمرشل اور سکنی جگہوں پر نافذالعمل نہیں ہے. اب صرف اس قانون کا دائرہ کار زرعی زمینوں کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے.

کن زمینوں پر یہ قانون نافذالعمل نہیں؟

وراثتی زمین، ہبہ کے ذریعے زمین ملے، وقف زمین پر یا شوہر اپنی بیوی کو حق مہر میں دے وغیرہ پر حق شفع کا دعوی نہیں ہو سکتا۔

04/07/2022

PLD 2019 SC 297

[زمین کی رجسٹری اور انتقال کا مکمل اور آسان طریقہ کار]
رجسٹری کیسے کروائی جائے؟ رجسٹری اور انتقال میں کیا فرق ہے؟

1.رجسٹریشن ایکٹ 1908کے دفعہ 17 کے تحت یہ ضروری ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کو رجسٹرڈ کروایا جائے جس کو رجسٹری بولتے ہیں ۔
2۔غیر منقولہ جائیداد مثلاً پلاٹ، مکان، دوکان یا زرعی رقبہ خریدنے سے پہلے اس جائیداد کا فرد نکلوا کر تسلی کر لیں کہ آیا یہ جائیداد متنازعہ تو نہیں یا جائیداد کی بابت کوئی کیس تو نہیں چل رہا۔
3۔ جائیداد کی تسلی کے بعد دوسرا مرحلہ جائیداد رجسٹری کی بابت ٹیکس بینک میں ادا کرنے ہوتے ہیں جس کے لئے آپ کو اس جائیداد کی بازاری قیمت یعنی DCکی طرف سے مقرر کردہ ریٹ معلوم کرنا ہوتا ہے جو کہ تحصیل آفس سے معلوم کیے جاسکتے ہیں ۔
4۔ڈی سی ریٹ کے مطابق %6 ٹیکس (فائلر%5) بینک میں جمع کروائے گا۔اور اشٹام پیپر منگوائے گا۔
5۔اس کے بعد معاہدہ بیع نامہ تحریر کروا کر تحصیل آفس میں اصل شناختی کارڈز اور دو عدد اسی علاقہ کے گواہان کے ساتھ روبرو تحصیل دار پیش ہو کر دستخط اور انگوٹھا نشان ثبت کرنے ہوتے ہیں۔جس کے بعد رجسٹری کا عمل مکمل ہوجاتا ہے ۔
6۔اگلا مرحلہ پٹواری کے پاس جاکر رجسٹری کی فوٹوکاپی جمع کروا کر انتقال اپنے نام ٹرانسفر کروانا ہوتا ہے۔

رجسٹری کیسے کروائی جائے؟ رجسٹری اور انتقال میں کیا فرق ہے؟
رجسٹری لفظ رجسٹرڈ سے نکلا ہے مطلب کوئی چیز رجسٹرڈ کروانا. مثال کے طور پر ہم موٹر سائیکل لیتے ہیں یا کار تو متعلقہ ایکسائز کے محکمے سے گاڑی کی رجسٹریشن کرواتے ہیں جہاں گاڑی کی نمبر پلیٹ انجن نمبر، رنگ، ماڈل، کمپنی کا نام اگر پرانی گاڑی ہے تو پرانے مالک کا نام غرض کےہر چیز تفصیل سے درج ہوتی ہے

اور ایکسائز کی خاص قیمت ادا کرنے کے بعد گاڑی ہمارے نام ہو جاتی ہے. بلکل اسی طرح زمین اور مکان کی رجسٹری کروانے کا معاملہ ہے. زمین کی رجسٹری میں بھی ہر چیز لکھی جاتی ہے جو زمین یا مکان سے متعلق ہو. رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی دفعہ 17 کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی کے لئے رجسٹریشن لازمی ہے۔

َزمین، مکان کی رجسٹری کا طریقہ؟

پہلا مرحلہ میں سب سے پہلے جس شخص سے آپ مکان یا زمین خرید رہے ہیں وہ فرد بیع نکلوائے گا اس زمین کی کیونکہ زمین کی رجسٹری کے لیے فرد بیع کا ہونا لازمی ہے.

فرد بیع سے پتہ چلے گا کے زمین بیچنے والا شخص ہی اصل زمین کا مالک ہے اور زمین پر کسی قسم کا سٹے یا مقدمہ نہیں ہے. یاد رہے کہ ایک وقت میں ایک ہی فرد بیع نکل سکتی ہے. فرد بیع نکلوانے کے بعد اگر بیچنے والی زمین کی رجسٹری نہ کروائی جائے تو وہ فرد بیع 14 دن بعد منسوخ ہو جاتی ہے. اس کے بعد زمین کی مالیت کے حساب سے E Stamp paper نکلوائیں. فائلر 5 فیصد ٹیکس زمین کی مالیت کے حساب سے ادا کر کے E stamp paper نکلوائے گا اور نان فائلر 6 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرے گا۔
زرعی زمین پر 4 فیصد ٹیکس ادا کیا جائے گا. ای سٹیمپ پیپر پر بیچنے والے اور خریدنے والے کا نام تحریر ہوگا. اس اسٹام پیپر پر زمین کا ڈی سی ریٹ لکھا ہوگا کہ کتنے روپے کی زمین فروخت کی جارہی ہے وہ قیمت لکھی ہوگی. اس کے علاوہ اسی E stamp paper پر مکمل تحریر ہوگی کہ کون شخص کس کو زمین بیچ رہا ہے
اور کتنے روپے میں بیچ رہا ہے اور اسی طرح گواہان کے نام پتہ ہوگا۔ سب سے اہم اس E stamp paper یا اسٹام پیپر پر نقشہ بنایا جاتا ہے فروخت ہونے والے پلاٹ یا مکان کا جس کے چاروں طرف نشاندہی کی جاتی ہے کہ کیا چیز ہے مطلب آس پاس کے مکان یا زمین کس کی ملکیت ہے.۔ اس سب کا مقصد زمین کو محفوظ بنانا ہے کہ کل کو کوئی اور شخص اس زمین پر قبضہ نہ کرلے اور رجسٹری سے پتہ چل جائے کون کس زمین کا مالک ہے.
دوسرا مرحلہ میں اسٹام پیپر زمین کی مالیت کے حساب سے نکلوانے اور تحریر کروانے کے بعد مندرجہ ذیل ڈاکومنٹس لگا کر متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں۔ فرد بیع، بیچنے خریدنے والوں کے شناختی کارڈ کی کاپی، ایف بی آر، ٹی ایم اے ٹیکس اور دیگر ٹیکس کی پیمنٹ رسید۔ یہ فائل تیار کرنے کے بعد متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں
وہاں رجسٹرار کے سامنے بیچنے والا آپکے حق میں بیان دے گا اور گواہان کی فوٹو بننے اور سائن ہونے کے بعد آپکی رجسٹری ہو جائے گی اور پھر رجسٹری آپکے ایڈریس پر چند دنوں کے اندر بھیج دی جائے گی.

انتقال اور رجسٹری میں کیا فرق ہے؟

رجسٹری اور انتقال زمین میں کوئی فرق نہیں. رجسٹری بھی ملکیت کا ثبوت ہے جبکہ انتقال زمین بھی ملکیت کا ثبوت ہے. رجسٹری کے بعد اگلا مرحلہ انتقال کا ہوتا ہے. رجسٹری حاصل کرنے کے بعد مالک زمین متعلقہ پٹواری کے پاس جائے گا

جو رجسٹری کی مصدقہ کاپی دیکھنے کے بعد آپکے نام زمین انتقال کر دے گا. سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قانون وضع کر دیا ہے کہ شہری علاقوں میں زمین کی منتقلی رجسٹری کے ذریعے ہی ہوگی نہ کے انتقال کے ذریعے.
PLD 2019 Sc 297.

29/06/2022

Facebook ID was Hacked ....FIR lodged Under Section 36/37 Electronic Transactions Ordinance, 2002 Read With Section 420 of Pakistan Penal Code ...Accused Bail Refused.
Citation Name: 2016 PCrLJ Page 1916
(November Journal)
S. 497---Electronic Transactions Ordinance (LI of 2002),
Ss. 36 & 37---Penal Code (XLV of 1860), Ss. 420 & 109
Hacking social media account belonging to someone else and abusing personal information---Bail, refusal of---Accused was nominated in the FIR and had been ascribed with a specific role of hacking facebook ID of the complainant and misusing the same for uploading her personal pictures on internet without her permission---During the course of investigation, accused had been found guilty of the offence alleged against him---Offence alleged against the accused was heinous in nature as it ruined the entire life of the victim as being disgraced in the eyes of general public and her family---Sufficient evidence was available on record which was not only threatening but obnoxious and filthy in nature and prima facie connected the accused with the commission of the alleged offence--- High Court observed that such offences damaged the fibre of the society and were liable to be curbed very strongly by the law enforcing agencies---Accused was refused bail accordingly.

29/06/2022

اجرا میں مدیون کو حاضری یا مقدمہ فوجداری میں ملزم کو گرفتاری دینے پر مجبور کرنے کیلئے اسکا قومی شناختی کارڈ بلاک نہ کیا جا سکتا ھے
Section 18 of the National Database Registration Authority Ordinance 2000 does not allow blocking / digital impounding of the CNIC of a person to compel him to appear before the court.

Courts frequently direct digital impounding of the CNIC because it is an effective means to secure presence of a person. Sometimes it even impels a fugitive from law to surrender. Notwithstanding the benefits, this cannot be permitted because it does not have the sanction of law. Such orders are contrary to Article 175(2) of the Constitution and the concept of rule of law. The Federal Government may, therefore, propose the Parliament to amend the Ordinance.
Writ Petition No.21987/2022 Hafiz Awais Zafar Vs. Judge Family Court etc.
Date of hearing
10 .0 5 2022

28/06/2022

2022 SCMR 1131

Great grandchildren are not within the meaning of “children” for the purposes of s. 4 of the Muslim Family Laws Ordinance, 1961 (“Ordinance”)?

S.4 has been declared to be contrary to the Injunctions of Islam by the Federal Shariat Court (“FSC”) by its judgment reported as Allah Rakha and others v Federation of Pakistan and others PLD 2000 FSC 1. However, this judgment is under appeal before the Shariat Appellate Bench of this Court (C.Sh.A 1/2000 and connected cases (Tanveer Jehan v Federation of Pakistan and others, etc.)). Article 203G of the Constitution provides, inter alia, that no court including this Court itself shall, save as provided in Article 203F (which provides for appeals to the Shariat Appellate Bench), “entertain any proceeding or exercise any power or jurisdiction in respect of any matter within the power or jurisdiction of the [Federal Shariat] Court”. The proviso to clause (2) of Article 203D provides, inter alia, that if an appeal has been preferred to the Shariat Appellate Bench then the decision of the FSC shall be deemed stayed pending disposal of the appeal. The position that emerges therefore is that for purposes of deciding this matter s. 4 of the Ordinance is to be regarded as being in the field but the provision must be interpreted and applied on its own footing, purely as a matter of statutory interpretation.

Now, it is a fundamental principle of the law of Muslim inheritance that the legal heirs of a person are only determined at the moment of death and not before. This rule is clearly reflected in s. 4 by use of the words “opening of succession”. The point is then reinforced by the immediately succeeding words, “the children of [the predeceased] son or daughter, if any, living at the time the succession opens” (emphasis supplied). The words emphasized impose a clear limitation: s. 4 applied only to those grandchildren as are alive at the time of death of the propositus. Had these words been absent then, perhaps, a case could be made out for the interpretation put forward by learned counsel for the leave petitioners. However, the words do exist and therefore must be given due effect. To accept the case sought to be made out would, in effect, erase them from the statute. That would be contrary to well established rules of interpretation. It is of course well known that under the rules of Muslim inheritance the legal heirs of a predeceased son or daughter do not inherit from the parent of the predeceased. Section 4 carves out a carefully constructed exception from this rule. It is not without significance that the section does not refer to the legal heirs of the predeceased son or daughter: the words used are “the children of such son or daughter” and not ‘legal heirs’. Quite obviously for the predeceased son or daughter to have children they would have to have had a spouse, who could also be alive when the parent passes away. Yet, any spouse is excluded from the applicability of s. 4. It is also to be kept in mind that some of the rules of Muslim inheritance can apply across generations, which is encapsulated in the phrases “how high so ever” and “how low so ever” used in the standard treatises. Any possibility of s. 4 having such an effect (which, in essence, is the case pleaded by the leave petitioners) is carefully excluded by use of the words emphasized above, i.e., “living at the time the succession opens”. Read as a whole, the purpose and intent behind s. 4 is clear. The exception created by it is limited and circumscribed. It applies only to those grandchildren as are living at the time of the death of the propositus. An extended meaning cannot be given to the section in terms as urged by learned counsel for the leave petitioners. They, being the great grandchildren, did not have any share in the property left behind by the propositus on the basis of s. 4.

27/06/2022

گورنمنٹ سروس میں اگر کسی کا تقرر ایڈہاک بنیاد پر ہوتا ہے تو بھی اُسے سول سرونٹ سمجھا جائے گا۔
2017 SCMR 482
ایڈہاک تقرری پر کوئی حق یا مفاد حاصل نہیں ہوتا۔ جیسے کہ مسلسل تعیناتی اور SENIORITY وغیرہ ایڈہاک تقرری پر حاصل نہیں ہوتی۔ ایسی کسی بھی تقرری کو کسی بھی وقت بغیر کسی وجہ کے ختم کیا جا سکتا ہے۔
PLJ 2005 SC 821
متعلقہ قانون جج کی انگلیوں کی پوروں پر ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے سامنے موجود معاملہ کو دیکھ سکے کہ اِس کے متعلق قانون کیا کہتا ہے۔ وکیل کا کام نہیں ہے کہ وہ جج کو بتائے کہ قانون کا اطلاق کیسے ہو گا۔ یہ جج کا اپنا فرض ہے۔
PLD 2018 SC 28
فوجداری نظامِ انصاف کہتا ہے کہ اگر کسی شخص پر کسی جرم کا الزام ہے تو اُسے جلد سے جلد کٹہرے میں لایا جائے تاکہ اگر ہو بے گناہ ہے تو ڈسچارج یا بری کیا جائے اور اگر گناہ گار ہے تو سزا پائے۔ اگر کوئی فوجداری مقدمہ کسی وجہ کے بغیر طوالت کا شکار ہو جائے تو مقولہ "انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے برابر ہے" سچ ثابت ہو جاتا ہے۔ تاخیر سے صرف استغاثہ نہیں بلکہ دفاع بھی متاثر ہوتا ہے۔
PLD 2018 SC 296
جو موقف نچلی عدالت کے سامنے نہ لیا گیا ہو اُسے پہلی دفعہ بڑی عدالت کے سامنے نہ لیا جا سکتا ہے۔
PLJ 2005 SC 60
کیس کو میرٹس پر فیصلہ کرنا چاہیے اور تمام فریقین کی سماعت کی جانی ضروری ہے تاہم یہ جانا پہچانا اصول انصاف ہے کہ دادرسی اُن کی کی جا سکتی ہے جو اپنے حقوق کو لے کر چوکس ہوں نہ کہ اُن کی جو کہ اپنے حقوق سے انجان بن کر سو گئے ہوں۔
PLJ 2005 SC 110

26/06/2022

▪️2021 SCMR 63▪️

Post arrest bail. --302, 324, 34 PPC.

It is an admitted fact that the allegation against the petitioners is that they resorted to indiscriminate firing without causing any injury to anyone; however, the deceased sustained only a single shot whereas none of the prosecution witnesses sustained even a scratch. It is no body’s case that the prosecution witnesses escaped from the firing of the petitioners due to some hurdle or safety measure. The occurrence has taken place in open and if there would have been any intent at the part of the petitioners, there was nothing which could restrain them from committing the occurrence on broader spectrum. During the course of investigation though recovery of four empties of pistol .30 bore and three empties of Kalashnikov were recovered from the spot but as no weapon was affected from the petitioners during the course of investigation, therefore, mere recovery of empties would be a question to be resolved by the trial court after recording of prosecution evidence.

Bail granted to accused.

25/06/2022

عاق نامہ کیا ہے؟ کیا عاق کی گئ اولاد کو جائیداد سے حصہ نہیں ملے گا؟ اسکی قانون کی نظر میں کیا اہمیت ہے؟

عاق نامہ سے مراد کسی سے تعلق واسطہ ختم کرنا ہے۔ آپ نے اکثر اخبارات میں دیکھا ہو گا کہ باپ نے اپنے بیٹے کو بوجہ نافرمانی اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے عاق کردیا۔ یاد رکھیں قانون کی نظر میں عاق نامے کی کوئی اہمیت نہیں. عاق نامہ ہو یا کوئی بھی ایسا اعلان، معاہدہ جس کے تحت کسی شرعی وارث کو اسکے حق سے محروم کیا جائے تو اسکی قانون کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں. اعلیٰ عدلیہ اپنے متعدد فیصلوں میں یہ قرار دے چکی ہے کہ عاق نامہ کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی اس کی وجہ سے کسی وارث کو اس کے حق سے محروم رکھا جاسکتا ہے. والد کی وفات کے بعد عاق کیے گئے بیٹے یا بیٹی کو اتنا ہی حصہ ملے گا جتنا باقی وارثان کو. لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے 2013 PLD 464 میں قرار دیا ہے کہ عاق نامہ سے مراد لیا جائے گا کے والد اپنے عاق کیے گئے بیٹے کے قول و فعل کا ذمہ دار نہیں ایک اور جگہ اعلی عدلیہ نے فیصلہ دیا اسلامی قانون میں شرعی وارثان کو ان کے حق سے محروم رکھنے کی کوئی گنجائش نہ ہے عاق نامہ اس حد تک قابل عمل ہے کہ اس سے مراد والدین اپنی نافرمان اولاد کے قول و فعل اور لین دین کے معاملات سے لا تعلق ہیں اور باقی شرعی وارثان کو ہر صورت منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے حصہ ملے گا لیکن چند ایک صورت ہیں جس میں شرعی وارث کو حصہ نہیں ملتا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 317 کے تحت اگر وہ شرعی وارث اس کو قتل کردے جس کی زمین سے حصہ ملنا تھا اس صورت میں اس شرعی وارث کو اس کی جائیداد سے حصہ نہیں ملے گا بالفرض بیٹا باپ کو قتل کردے اس صورتحال میں اس قاتل بیٹے کو مقتول باپ کی جائیداد سے حصہ نہیں ملے گا۔ اگر کوئی بیٹا یا بیٹی بہت ہی نافرمان ہے والدین کی کبھی فرمانبرداری نہیں کی الٹا والدین کے لئے مشکل و رسوائی کا باعث بنی ایسی صورتحال میں والدین اس نافرمان بیٹا یا بیٹی کو وراثت میں حصہ نہیں دینا چاہتے تو قانون نے ان کو حق دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے فرمانبردار بیٹا بیٹی کو انکے حصے سے زیادہ یا پوری جائیداد ہبہ/تحفہ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی زندگی میں کسی غیر وارث کو بھی اپنی تمام جائیداد تک ہبہ کرسکتے ہیں۔

22/06/2022

سمن تعمیل کنندہ کی کوئی رپورٹ، فائل میں موجود نہ تھی، آرڈر چسپاندگی نہ کیا گیا تھا، محض اخبار اشہار کافی نہ ہے، یکطرفہ ڈگری منسوخ کی گئی ۔
(2020 YLR 172).
مدعا علیہ، حاضر عدالت آکر جواب دعویٰ دینے کے بعد، غیر حاضر ہو جاۓ، تو یکطرفہ ڈگری منسوخ نہ ہو گی۔
(2018 MLD 587).
اگر تاریخ براۓ سماعت مقدمہ، نہ ہو تو دعویٰ، عدم حاضری خارج نہ کیا جا سکتا ہے۔ دعویٰ بحال کیا گیا۔
(2014 YLR 1388).
کسی متفرق درخواست کی بحث کیلئے، مقرر کردہ تاریخ پر دعویٰ، عدم پیروی خارج نہ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ مقررہ تاریخ Main case میں کاروائی کے لیے مقرر نہ ہے۔
(2015 CLC 316).
اگر میمو حاضری دینے کے بعد، وکیل صاحب، مقررہ تاریخ پیش عدالت نہ ہو، تو عدالت پارٹی کو دوبارہ نوٹس کرے گی۔
(2013 YLR 2517).

22/06/2022

2022 PCrLJ 1050
Civil and criminal proceedings go side by side due to their ultimate outcome and difference in standard of proof. It is equally appreciated that even after civil proceedings, there is no bar for initiation of criminal proceedings and vice versa; evidence recorded in one proceeding cannot be read in other proceedings except in some cases where any question in criminal proceedings wholly and entirely depends upon the determination by civil court.

22/06/2022

نوٹری پبلک اور اوتھ کمشنر میں کیا فرق ہے؟

نوٹری پبلک اور اوتھ کمشنر بنیادی طور پر سرکار کی طرف سے متعین کردہ افراد ہوتے ہیں جو روزمرہ معاملات میں عدالتوں میں پیش کیے جانے والے کاغذات کی تصدیق کرتے ہیں جس سے عدالتی وقت بچتا ہے۔ نوٹری پبلک اور اوتھ کمشنر دو علیحدہ علیحدہ عہدے ہیں اور دونوں کے الگ الگ قانون ہیں جو کہ تقسیم ہند سے پہلے کے موجود ہیں۔ چونکہ پاکستان کا نظام قانون برطانوی قانون سے اخذ کیا گیا ہے اس لیے بہت سے قوانین ابھی بھی ویسے ہی ہیں جو برطانوی راج کے دور میں نافذ کیے گیے تھے۔ نوٹری پبلک ایکٹ کے تحت کوئی بھی وکیل نوٹری پبلک بننے کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیتا ہے اور اس کے انٹرویو کے بعد تین سال کے لیے اسے نوٹری پبلک بنا دیا جاتا ہے۔ اور تین سال کے بعد اسے اس لائسنس کی تجدید کروانا ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس اوتھ کمشنر ایکٹ کے تحت صوبے کی ہائی کورٹ خواہش مند وکلا کو اوتھ کمشنر کا لائسنس جاری کرتی ہے اور ان کا کام کسی بھی حلف نامے کو سٹامپ پیپر پر درج کر کے گواہ کے طور پر اپنا نام لکھنا ہوتا ہے کہ ان کے روبرو اس شخص نے گواہی دی ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے عدالتی قوانین کے تحت کوئی بھی حلف نامہ یا ڈاکیومنٹ نوٹری پبلک یا اوتھ کمشنر کی تصدیق کے بغیر عدالت میں جمع نہیں کروایا جا سکتا۔ اوتھ کمشنر صرف حلف نامے کی عبارت کی تصدیق کرتا ہے جبکہ نوٹری پبلک کے پاس حلف ناموں کے علاوہ دیگر کاغذات کو بھی تصدیق کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

اس طرح کے حلف کی قانونی حیثیت کیا ہوتی ہے؟

یہ ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے۔ جیسے آپ ویسے ہی کوئی بات کر دیں اور وہی بات آپ ایک سٹامپ پیپر پر لکھ کر ایک اوتھ کمشنر کے روبرو حلف دے کر سامنے لائیں تو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تصدیق شدہ حلف کل کلاں غلط ثابت ہوتا ہے تو آپ کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے کہ عدالت سے غلط بیانی کی گئی۔ آپ نے ایک دفعہ تصدیق شدہ حلف نامہ جمع کروا دیا تو پھر آپ کے پاس اس سے مکرنے کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔
اوتھ کمشنر اور نوٹری پبلک کا کام دستاویزات کو ’صرف عدالت میں پیش کرنے کے قابل‘ بنانا ہوتا ہے۔ اس میں لکھے گئے مواد کا ذمہ دار صرف اور صرف ایسے مواد کو پیش کرنے والا ہی ہوتا ہے۔ ’اس میں ایک بات اور بھی واضح ہونی چاہیے کہ تصدیق شدہ حلف نامے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کی بات سچ ثابت ہو گئی ہے۔ بلکہ یہ جانچ کرنی عدالت کا کام ہوتا ہے۔ بس یہ ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے آپ اپنی بات عدالت کے سامنے رکھ سکتے ہیں جب بھی آپ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔‘
سٹامپ پر لکھا گیا حلف نامہ ایک شہادت کے طور پر عدالت میں جمع کروایا جاتا ہے۔ اور چونکہ وہ ایک سرکاری شخص کے سامنے باقاعدہ حلف دے کر پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے لہٰذا عدالت میں پیش ہونے کی حد تک یہ ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے۔ لیکن اس کے مندرجات کے درست یا غلط ہونے کا تعین عدالت میں ہی ہوتا ہے۔

21/06/2022

بڑے جرم میں، فردِ جرم لگنے کی صورت میں، چھوٹے جرم میں سزا دی جاسکتی ہے. اور چھوٹے جرم میں، فردِ جرم لگنے کی صورت میں، بڑے جرم میں سزا نہ دی جا سکتی ہے.
(2014 YLR 1473).
فردِ جرم میں ترمیم کے بعد، شہادت گواہان دوبارہ لکھی جائے گی.
(2020 YLR 317).
ملزم کو کسی ایسے جرم میں سزا نہ دی جاسکتی ہے، جس میں اس کے خلاف فردِ جرم نہ لگایا گیا ہو.
(PLD 2019 FSC 1).
فردِ جرم عائد کرتے وقت، عدالت، پولیس کی لگائی دفعات کی پابندنہ ہے.
(2015 PCrLJ 502).
ملزم کو نوٹس دئیے بغیر فردِ جرم میں ترمیم نہ ہو سکتی ہے.
(2005 PCrLJ 489).

Address

Paharpur Kacha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Case Law & Judgements posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share