15/07/2026
افغان مہاجرین کے ساتھ درندگی، پولیس کی ہتھک آمیز کارروائیوں نے پختون غیرت کو شرمسار کردیا، ریاستی احکامات سر آنکھوں پر لیکن اس آڑ میں انسانی حقوق کی پامالی، مذھبی و معاشرتی اقدار روندنے اور لوٹ مار کی کسی کو بھی اجازت نہیں دینگے، صوبائی امن جرگہ کے چیئرمین سید کمال شاہ باچا نے شواہد کے ساتھ اعلی عدلیہ سمیت ہر فورم پر جانے کا اعلان کردیا، 45 سال قبل عزت و تکریم سے لائی گئی قوم کس کے اشارے پر خوار ہورہی ہے؟ صوبائی امن جرگہ نے واپسی پالیسی میں نرمی کا مطالبہ کردیا،
نوشہرہ ( نمائندہ) صوبائی امن جرگہ کے چیئرمین سید کمال شاہ باچا نے افغان مہاجرین کے خلاف پولیس کی ذلت آمیز کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی پامالی اور پختون روایات کی تدفین قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 45 سال قبل عزت و تکریم سے پاکستان لائی گئی اس غیرت مند قوم کو اب مفادات پورے ہونے کے بعد تماشا بنادیا گیا، جو ریاست کی سلامتی اور بقا کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
خکاری ڈیرہ کیمپ، نوشہرہ کلاں خیشگی کے قریب، جہاں وطن واپس جانے والے افغان مہاجرین کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، وہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید کمال شاہ باچا نے کہا کہ پولیس بازاروں، چوکوں اور چوراہوں میں مہاجرین کے پیچھے بھاگ دوڑ کر انہیں ذلیل و رسوا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق متعدد کیسز میں مہاجرین سے موبائل فونز اور نقد رقم لوٹی گئی، جس سے ان کا سر شرم سے جھکا ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 45 سال پہلے اسٹیبلشمنٹ نے مل کر ان افغانوں کو پاکستان لایا تھا۔ اس وقت جہاد کے نام پر آنے والوں کو عزت دی جاتی تھی، مگر آج ان کی تین نسلوں کی قربانیوں کو نظر انداز کر کے انہیں عبرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ فساد ہے، جس کی ہم نے اس وقت نشاندہی کی تھی مگر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے کہا عالمی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کی ملی بھگت سے اس قوم کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ صوبائی امن جرگہ کے چیئرمین نے متعلقہ حکام سے فوری مذاکرات کے ساتھ ساتھ پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا فیصلہ سر آنکھوں پر، مگر 40-45 سال سے یہاں رہنے والوں پر اچانک زمین تنگ کرنا کسی مذہب اور معاشرے میں جائز نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کو مہاجرین سے عزت و احترام سے پیش آنے کے سخت احکامات جاری کیے جائیں۔ ان لوگوں کو جو پراپرٹی، بقایاجات یا دیگر امور نمٹانے کے لیے کچھ ماہ کی مہلت چاہتے ہیں، وہ دی جائے۔ پالیسی میں نرمی اور اتار چڑھاؤ ممکن ہے تاکہ انسانی، مذہبی اور معاشرتی اقدار کا خیال رکھا جا سکے۔ اگر رویہ نہ بدلا تو سپریم کورٹ اور عوام سے رجوع کیا جائے گا۔اعداد و شمار کی روشنی میں حقیقت
پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین برسوں سے رہ رہے ہیں۔ 2023 سے اب تک 25 لاکھ سے زائد افغانوں کی واپسی ہو چکی ہے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مطابق پولیس ریڈز، بغیر وارنٹ گرفتاریاں اور زبردستی واپسیاں جاری ہیں، جو غیر انسانی سلوک کی مثالیں پیش کر رہی ہیں،
سید کمال شاہ باچا نے کہا کہ یہ لوگ تین نسلوں تک پاکستان پر قربان ہوئے، مگر آج انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کا اصل وطن کون سا علاقہ ہے۔ موجودہ پالیسیاں آج ایک، کل دوسری اور پرسوں تیسری شکل اختیار کر رہی ہیں، جو ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی پر سوالات کھڑا کر رہی ہیں۔
صوبائی امن جرگہ کا یہ موقف نہ صرف پختون غیرت بلکہ پاکستانی ریاست کی اخلاقی ذمہ داری کا بھی آئینہ دار ہے۔ افغان مہاجرین کے ساتھ درندگی بھرا سلوک، جو پختون روایات اور اسلامی اقدار کے خلاف ہے، فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ورنہ یہ قوم کی بقا اور سلامتی کے لیے ایک نئی بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔