15/09/2025
یورپ میں فیملی کا کوئی تصور نہیں ہے
یوں کہہ لیں کے بہن بھائی ماں باپ دادا دادی کی کوئی تمیز نہیں ہے
جنسی ضرورت کے لئے شادی کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی بلکہ “ جا**روں “ کی طرح وہاں رشتے گڈ مڈ ہیں ...
( یہاں جانوروں لفظ تھا ۔ )
وہاں عورت کی کوئی عزت نہیں ہے کوئی شوہر نہیں ہے جو کہے بیگم تم گھر رہو میں ہر چیز تمہیں گھر لا کے دونگا.
وہاں کوئی بیٹا نہیں ہے جو کہے ماں تم گھر سے نہ نکلو مجھے حکم دو.
وہاں کوئی بیٹی نہیں ہے جو کہے ماں تم تھک گئی ہو آرام کرو میں کام کر دونگی
وہاں عورت گھر کے کام خود کرتی ہے...
اور روزی کمانے کے لئے دفتروں میں دھکے بھی خود کھاتی ہے.
کل تک آزادی کے نعرے لگانے والی آج سکون کی ایک سانس کو ترس رہی ہے.
کوئی مرد انہیں نہیں اپناتا
نہ ان کی ذمہ داری اٹھاتا ہے.
وہ صرف استعمال کی جاتی ہیں بس...
مسلمان عورتو !
تم کسی ملکہ سے کم نہیں ہو باپ کے سایہ میں لاڈوں سے پلی ہو.
بھائی تمہارا محافظ ہے
شوہر تمہارا زندگی بھر کا ساتھی ہے.
تم کیا سمجھتی ہو گھر میں بیٹھ کر ہانڈی روٹی کر کے تم ملازمہ ہو؟
نہیں نہیں یہ بھول ہے تمہاری یہ ہانڈی روٹی کا سامان جو تمہارا شوہر لے کر آتا ہے یہ گرمیوں کی دھوپ اور گرم لوُ وجود پگھلنے والے سورج سے لڑ کر لاتا ہے.
تمہیں تو مغربی عورتوں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے.
لیکن تم کو آزادی نسواں کے سنہرے خواب دکھا کر تمہارے وقار کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے .
اس سازش کو نہیں سمجھو گی تو تم بھی متاعِ کوچہ و بازار بن جاؤ گی.
پلیز یورپی کلچر کی محبت کو دل سے نکال دیجیے ورنہ صرف پچھتاوا ہاتھ آئے گا اور کچھ نہیں.اگر کسی کو کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت. اللّٰہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے آمین دعاؤں میں یاد رکھیں گا.
شبیر درانی جرنلسٹ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو معلوم ہے یہ تمام بکواس کیوں کی جاتی ہے ؟ کیوں لِکھی جاتی ہے ؟ ایک عورت کی تصویر پر یہ مقدمہ قائم ہے ۔ اگر یہی تصویر میں ایک مرد ہوتا اور وُہ دو بچے اُٹھا کر کام پر گیا ہوتا تو یہ مرد پتہ ہے کیا کہہ رہے ہوتے ؟
دیکھیں جی دیکھیں کتنا عظیم انسان ہے ، اولاد کی ذمہ داریاں بھی اٹھا رہا ہے ۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں انسان ہیں ، اِن میں کاموں کو بانٹا نہیں جا سکتا ، رول نہیں طے کیے جا سکتے ۔ مذاہب اور پدرسری اکثر مِل کر ایک طبقے بالخصوص عورتوں کو ایک خاص رول میں پابند کرتے ملتے ہیں ۔
آپ پیٹرن پر غور کیجیے گا ؛ مذہبی معاشروں ، پسے ہُوئے طبقات ، ممالک وغیرہ میں ایسی باتیں بہت پسند کی جاتی ہیں کیونکہ یہ نظریات ہمارے ہاں بچپن سے اِنکلکیٹ کیے جاتے ہیں ۔ ابھی دیکھیے گا کوومنٹس میں بھی آتا / آتے ہی ہوں گے ۔
اچھا مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ عین ممکن ہے اپنے کام سے واپس آ رہی ہو کیونکہ اب فوڈ ڈیلیوری بذریعہ ٹرین کرنے سے تو رہی ۔