Insaf Sarkar Fans

Insaf Sarkar Fans Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Insaf Sarkar Fans, Nowshera.

10/11/2025
10/11/2025

Love ❤️

10/11/2025

ائین پاکستان (1973) میں اب تک 26 ترامیم ہوچکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) سب سے زیادہ ترامیم کے ساتھ پہلی پوزیشن پر ہے۔

ائین کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے 7 ترامیم کئے (1 تا 7)، جنرل ضیاء الحق نے 3 ترامیم کئے (8 تا 10) جن میں مشہور زمانہ ٓاٹھویں ترمیم قابل ذکر ہے، نواز شریف یعنی مسلم لیگ ن نے 10 ترامیم کئے (12, 13, 14, 16, 21, 22, 23, 24, 25 اور 26)، چونکہ 15ویں ترمیم منظور نہیں ہوئی، اس لیے وہ شمار نہیں ہوتی۔

جنرل مشرف نے 17ویں ترمیم کی، پیپلز پارٹی نے 3 ترامیم کئے (18، 19، 20)۔

ہر ترمیم اپنے دور کے سیاسی، عدالتی اور آئینی پس منظر میں ایک منفرد اہمیت رکھتی ہے۔ ان آئینی ترامیم (1 تا 26) کا مختصر تعارف:

1. پہلی ترمیم 1974 (ذوالفقار علی بھٹو)

اس ترمیم کے ذریعے مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعد آئین سے "پاکستان کے مشرقی بازو" کے تمام حوالہ جات حذف کیے گئے۔ قومی اسمبلی کی نشستوں کی نئی تقسیم بھی کی گئی۔

2. دوسری ترمیم 1974 (ذوالفقار علی بھٹو)

یہ ترمیم احمدیوں (قادیانیوں) کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق ہے۔ یہ پاکستان کی مذہبی و نظریاتی بنیادوں کو واضح کرنے والی اہم ترین ترمیم تھی۔

3. تیسری ترمیم 1975 (ذوالفقار علی بھٹو)

اس ترمیم کے ذریعے حراست کے اختیارات بڑھائے گئے، اور آئین کی شق 10 میں سیکیورٹی قوانین کے تحت قید کے عرصے میں توسیع کی گئی۔

4. چوتھی ترمیم 1975 (ذوالفقار علی بھٹو)

اس ترمیم کے زریعے عدلیہ کے اختیارات میں کمی کی گئی اور بنیادی حقوق کے اطلاق میں کچھ حدود متعین کی گئیں، خصوصاً قومی مفاد کے معاملات میں۔

5. پانچویں ترمیم 1976 (ذوالفقار علی بھٹو)

اس ترمیم میں عدلیہ کے ججوں کی مدتِ ملازمت اور تعیناتی کے اصول بدلے گئے۔ حکومت کو عدلیہ پر کچھ اضافی اثر و رسوخ حاصل ہوا۔

6. چھٹی ترمیم 1976 (ذوالفقار علی بھٹو)

اس کے تحت چیف جسٹس اور ججوں کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی گئی۔

7. ساتویں ترمیم 1977 (ذوالفقار علی بھٹو)

اس ترمیم کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا۔

8. آٹھویں ترمیم 1985 (جنرل ضیاء الحق)

یہ ترمیم پاکستان کی سب سے متنازع مگر مؤثر ترمیم تھی۔ اس کے ذریعے صدر کو آئین کی دفعہ 58(2)(b) کے تحت قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیا گیا، جس سے نیم صدارتی نظام وجود میں آیا۔

9. نویں ترمیم 1986 (جنرل ضیاء الحق)

یہ ترمیم اسلامی قوانین کے نفاذ سے متعلق تھی، لیکن پارلیمان نے اسے منظور نہیں کیا۔

10. دسویں ترمیم 1987 (جنرل ضیاء الحق)

اس کے ذریعے قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے درمیانی وقفے کو آئینی طور پر محدود کیا گیا۔

11. گیارہویں ترمیم 1989

پیش کی گئی مگر منظور نہ ہوسکی۔

12. بارہویں ترمیم 1991 (نواز شریف)

یہ نواز شریف نے اپنے پہلی حکومت میں کی۔ اس کے ذریعے خصوصی عدالتیں (Special Courts) قائم کرنے کی اجازت دی گئی تاکہ سنگین جرائم کے مقدمات جلد نمٹائے جائیں۔

13. تیرہویں ترمیم 1997 (نواز شریف)

نواز شریف نے اپنے دوسری حکومت میں کی۔ صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیارات (جو آٹھویں ترمیم میں شامل ہوئے تھے) ختم کر دیے گئے۔ اس سے وزیراعظم کا عہدہ انتہائی طاقتور ہوگیا۔

14. چودھویں ترمیم 1997 (نواز شریف)

یہ بھی نواز شریف نے کی۔ اس ترمیم کے ذریعے پارٹی وفاداری کی خلاف ورزی (Floor Crossing) کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔ پارلیمانی استحکام کے لیے اہم اقدام سمجھا گیا۔

15. پندرھویں ترمیم 1998 نامنظور (نواز شریف)

نواز شریف نے اس کے ذریعے قرآن و سنت کو ملک کا اعلیٰ ترین قانون قرار دینے کی تجویز دی گئی۔ یہ ترمیم منظور نہ ہوسکی۔

16. سولہویں ترمیم 1999 (نواز شریف)

اس کے ذریعے سرکاری ملازمین کے تبادلے اور تربیت کے ضوابط میں تبدیلی کی گئی۔

17. سترہویں ترمیم 2003 (جنرل پرویز مشرف)

اس میں جنرل پرویز مشرف نے آٹھویں ترمیم کے زیادہ تر نکات بحال کیے، اور صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دوبارہ دیا۔ البتہ وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کی شرط شامل کی گئی۔

18. اٹھارویں ترمیم 2010 (پیپلز پارٹی)

یوسف رضا گیلانی کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان کی سب سے بڑی اور جامع آئینی ترمیم تھی۔ اہم نکات:

صدر کے اختیارات محدود کیے گئے اور 58(2)(b) کا خاتمہ، صوبوں کو خودمختاری اور اسمبلی کی مدت 5 سال کی گئی۔ اس کے زریعے تعلیم، صحت، زراعت وغیرہ صوبوں کے حوالے ہوئے۔

19. انیسویں ترمیم 2011 (پیپلز پارٹی)

یوسف رضا گیلانی کے دور میں پیپلز پارٹی نے اس کے ذریعے عدلیہ کی تعیناتی کے نظام میں تبدیلی کی گئی، جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کا کردار واضح کیا گیا۔

20. بیسویں ترمیم 2012 (پیپلز پارٹی)

یوسف رضا گیلانی کے دور میں پیپلز پارٹی نے یہ ترمیم عبوری حکومت (Caretaker Setup) اور الیکشن کمیشن کے قیام کے طریقہ کار سے متعلق تھی۔

21. اکیسویں ترمیم 2015 (نواز شریف)

نواز شریف نے تیسری حکومت میں کی۔ سانحہ پشاور (16 دسمبر 2014) کے بعد منظور ہوئی۔ اس کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں تاکہ دہشت گردی کے مقدمات جلد نمٹائے جائیں۔

22. بائیسویں ترمیم 2016 (نواز شریف)

اس کے ذریعے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ارکان کی تقرری کے اصول تبدیل کیے گئے۔

23. تئیسویں ترمیم 2017 (نواز شریف)

اس ترمیم کا تعلق فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع سے تھا۔ چیف جسٹس پاکستان کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں تبدیلی۔ (یہ وہ ترمیم ہے جو اکثر تیسویں کے ساتھ خلط ملط کی جاتی ہے۔)

24. چوبیسویں ترمیم 2017 (نواز شریف)

شاہد خاقان کے دور میں مسلم لیگ ن انتخابی اصلاحات سے متعلق تھی۔ ابتدائی طور پر حلف نامہ (ختمِ نبوت) میں تبدیلی کی گئی تھی، جسے بعد میں درست کیا گیا۔

25. پچیسویں ترمیم 2018 (نواز شریف)

شاہد خاقان کے دور میں مسلم لیگ ن نے اس کے ذریعے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا۔ یہ ایک تاریخی آئینی پیش رفت تھی۔

26. چھبیسویں ترمیم 2024 (شہباز شریف)

سپریم کورٹ (Practice & Procedure) ایکٹ، جس کا مقصد سپریم کورٹ کے داخلی معاملات میں شفافیت لانا اور چیف جسٹس سے متعلق امور وغیرہ۔

1973ء کے آئین میں کی گئی یہ تمام ترامیم پاکستان کے سیاسی ارتقا، جمہوری تجربات، اور طاقت کی تقسیم کی تاریخ کو ظاہر کرتی ہیں۔ کچھ ترامیم نے مرکزیت کو کمزور کیا، کچھ نے جمہوریت کو مضبوط کیا، جبکہ بعض نے حکمرانوں کو غیر معمولی اختیارات عطا کیے۔ لیکن ان سب میں سب سے مفید اور جامع ترمیم پیپلزپارٹی کے اٹھارویں ترمیم ہے۔

آئین میں آخری ترمیم 26 ویں ترمیم تھی۔ اب اگر انے والا ترمیم دونوں ایوانوں سے منظور ہوتی ہے تو اسے ستایسویں ترمیم (27th Amendment) کا درجہ حاصل ہوگا۔
Copied

‏دلچسپ صورتحال، 27 ویں آئینی ترمیم میں حکومت کو سینیٹ میں 3 ووٹ درکار ہے، جو جے یو آئی یا اے این پی کو ساتھ ملانا ہوگا، ...
06/11/2025

‏دلچسپ صورتحال، 27 ویں آئینی ترمیم میں حکومت کو سینیٹ میں 3 ووٹ درکار ہے، جو جے یو آئی یا اے این پی کو ساتھ ملانا ہوگا، اب دیکھنا ہے کہ یہ دونوں صاحبان صرف بیانات تک حکومت کے مخالف ہیں یا اس بار پھر جمہوریت کے جنازے کو کندھا دیں گے۔۔!!

پاکستان کو ڈیم کی نہیں، بلکہ اورنج ٹرین، میٹرو اور لیپ ٹاپ کی ضرورت ہے
29/08/2025

پاکستان کو ڈیم کی نہیں،
بلکہ اورنج ٹرین، میٹرو اور لیپ ٹاپ کی ضرورت ہے

22/07/2025
مولانا قاسم صاحب جب عمران خان کے مقابلے میں الیکشن ہار گئے تو اہل علاقہ نے اسے عوام کی بدنصیبی، بدقسمتی بلکہ ایمان کی کم...
22/07/2025

مولانا قاسم صاحب جب عمران خان کے مقابلے میں الیکشن ہار گئے تو اہل علاقہ نے اسے عوام کی بدنصیبی، بدقسمتی بلکہ ایمان کی کمزوری قرار دی تھی، آج ان کی جماعت نے مردان ہی کے ایک سرمایہ دار دلاور خان مولانا قاسم کے مقابلے میں سینیٹر بنا دیا۔
نہ علم کی بے توقیری ہوئی، نہ میرٹ پامال ہوا۔

21/07/2025

https://savingxmoney.com/signup/manansubhan

یہ ایک خودکار آمدنی کا سرمایہ کاری پلیٹ فارم ہے۔
آپ یہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور نفع خود بخود روزانہ کی بنیاد پر آپ کے اکاؤنٹ میں شامل ہوتا رہتا ہے۔
پہلا منافع اسی وقت حاصل ہوتا ہے اور آپ فوراً اسے نکال بھی سکتے ہیں۔
اس کے بعد ہر 24 گھنٹے بعد روزانہ کا منافع خود بخود آپ کے بیلنس میں شامل ہوتا رہے گا۔

05/07/2025

📢 خوشخبری!
📢 خوشخبری!

https://pk.aimile.net/m_register?invite_code=28465
اسلام وعلیکم دوستوں!
اب بالکل مفت میں اکاؤنٹ بنائیں اور فری ارننگ کا فائدہ اٹھائیں!
یہ ایک سنہری موقع ہے — ابھی رجسٹر ہوں اور فری لوٹ سے فائدہ اٹھائیں۔
🔥 جلدی کریں! یہ آفر محدود وقت کے لیے ہے۔

اسلام وعلیکم دوستوں!
اب بالکل مفت میں اکاؤنٹ بنائیں اور فری ارننگ کا فائدہ اٹھائیں!
یہ ایک سنہری موقع ہے — ابھی رجسٹر ہوں اور فری لوٹ سے فائدہ اٹھائیں۔
🔥 جلدی کریں! یہ آفر محدود وقت کے لیے ہے۔

‏نجیبہ فیاض کا ڈرامہ 1 جولائی سے آ رہا ہےسب دوستوں نے بائیکاٹ کرنا ہےاور یہ پیغام ہر گھر تک پہنچانا ہے، یہ ڈرامہ پاکستان...
03/07/2025

‏نجیبہ فیاض کا ڈرامہ 1 جولائی سے آ رہا ہے

سب دوستوں نے بائیکاٹ کرنا ہے
اور یہ پیغام ہر گھر تک پہنچانا ہے، یہ ڈرامہ پاکستان تاریخ کا سب سے بڑا فلاپ ڈرامہ ہونا چاہیے۔

سب لوگ Green entertainment یوٹیوب چینل پر جاکر اس ڈرامے کو Dislike کریں اور رپورٹ کریں

اسکی ریٹنگ زیرو ہونی چاہیے

Address

Nowshera
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Insaf Sarkar Fans posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Insaf Sarkar Fans:

Share