26/05/2026
پوسٹ گریجویٹ کالج نوشہرہ مبینہ ھراسمنٹ تنازعے میں بڑی پیش رفت،
غیر اخلاقی الزامات اور کالج جلانے کی دھمکیوں پر وحید حیات عرف وکیل خان گرفتار، ایف آئی آر درج
گمنام شکایت اور سوشل میڈیا الزامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع
نوشہرہ (خصوصی رپورٹ)
پوسٹ گریجویٹ کالج نوشہرہ سے متعلق گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری مبینہ ھراسمنٹ تنازعے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے جہاں نوشہرہ کینٹ پولیس نے غیر اخلاقی الزامات، عوامی اشتعال انگیزی اور تعلیمی ادارے کو جلانے جیسی مبینہ سنگین دھمکیوں اور گمنام شکایت کی بنیاد پر سینکڑوں بچیوں کی اجتماعی ھراسمنٹ اور والدین کی بے چینی کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے وحید حیات عرف وکیل خان کو گرفتار کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کالج پرنسپل کی درخواست پر باقاعدہ مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے، جبکہ معاملے کے دیگر پہلوؤں پر مختلف تحقیقاتی ادارے الگ الگ تحقیقات کررہے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق وحید حیات عرف وکیل خان پر الزام ہے کہ انہوں نے پوسٹ گریجویٹ کالج نوشہرہ کی طالبات اور پروفیسرز سے متعلق سنگین نوعیت کے غیر اخلاقی الزامات عائد کیے جبکہ شوبرا چوک میں عوامی اجتماعات کے دوران مبینہ طور پر کالج کو جلانے سمیت مختلف نوعیت کی دھمکیاں بھی دیں۔ ان بیانات کے بعد نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ والدین، طلبہ اور شہریوں میں بھی شدید بے چینی اور تشویش کی فضا پیدا ہوگئی تھی۔
اس معاملے کے بعد مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ صوبائی امن جرگہ نے اسی تناظر میں آل پارٹیز گرینڈ جرگہ منعقد کیا تھا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، سماجی شخصیات اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔ جرگہ کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرکے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج نوشہرہ کی جانب سے واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر باقاعدہ درخواست جمع کروائی گئی تھی، جس کے بعد نوشہرہ کینٹ پولیس حرکت میں آئی اور ابتدائی قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں شامل بیانات، شواہد اور دیگر مواد کا تفصیلی جائزہ لیا جارہا ہے جبکہ مزید قانونی پہلوؤں کا بھی تعین کیا جارہا ہے۔
ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پوسٹ گریجویٹ کالج سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مختلف دعوؤں، مبینہ الزامات اور دیگر پہلوؤں پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ مبینہ ڈیٹا لیک کے معاملے کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آیا طالبات سے متعلق معلومات غیر قانونی طور پر حاصل یا پھیلائی گئیں اور آیا اس کے پیچھے کوئی منظم سرگرمی یا دیگر محرکات موجود تھے۔
تعلیمی اور سماجی حلقوں نے اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں اور ان سے متعلق غیر مصدقہ معلومات، اشتعال انگیز بیانات اور سنگین الزامات نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ طلبہ، والدین اور اساتذہ میں بھی خوف و بے چینی پیدا کرتے ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے سوشل میڈیا ٹرائل، افواہوں اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اجتناب ضروری ہے تاکہ بے گناہ افراد کی ساکھ متاثر نہ ہو اور قانون اپنا راستہ اختیار کرسکے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی فرد کی جانب سے عوامی سطح پر اشتعال انگیزی، دھمکیوں یا بے بنیاد الزامات کے ذریعے خوف و ہراس پیدا کیا گیا ہو تو ایسے معاملات قانون کے مطابق کارروائی کے دائرے میں آسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کے اگلے مراحل میں مزید پیش رفت سامنے آنے کا امکان موجود ہے جبکہ شہر بھر میں سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی نظریں اب تحقیقاتی نتائج پر مرکوز ہیں۔ صوبائی امن جرگہ کے چیئرمین سید کمال شاہ باچا نے اس معاملے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حقائق کی شفافیت اور عوامی اعتماد کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔