28/02/2021
سورج کو دفنانے آئے
ڈهلتی شام کے لمبے سائے
دکھ نے سکھ کا سانس لیا ہے
کاش کوئی پهر یاد نہ آئے
ایک ہے رستہ ہم دونوں کا
دیکھیں کون کہاں تک جائے
آج گھٹا سے خوشبو برسی
جیسے تو زلفیں لہرائے
کاش کوئی سمجھائے اس کو
لیکن کون اسے سمجھائے
روز کوئی ملنے آتا ہے
کیا کہتے ہونگے ہمسائے
تجھ سے یوں بچھڑا ہوں جیسے
پتھر سے شیشہ ٹکرائے
آج کا انساں سب سے ارزاں
کون اسے معبود بنائے
بنجر دھرتی پوچھ رہی ہے
چاند پہ کس نے شہر بسائے
وہ خوشبو کی موج ہے محسن
کون اس کی تصویر بنائے؟
محسن نقوی