04/06/2026
*مشترکہ اعلامیہ علماء مری*
*ہم تمام مسالک و مکاتب فکر کے علماء کرام وذمہ داران مشترکہ طور انتظامیہ کے گوش گذار کرتے ہیں کہ
مسجد شرعاً ایک بار قائم ہو جائے تو قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے۔ اس کا انہدام، تبدیلی یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال شرعاً ناجائز و حرام ہے۔ *اس سلسلے میں * جامعہ دارالعلوم کراچی کے مدلل فتویٰ* کی رہنمائی بھی ہمیں حاصل ہے جس کی رو سے بھی عثمانیہ مسجد جھیکاگلی کا انہدام قطعی طور پر ناجائز ہے۔
*اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 1973 کا آئین* مساجد کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے ، چنانچہ :
*آئین کی شق 20:* ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس کی تبلیغ و اشاعت اور مذہبی اداروں کے قیام و انتظام کا بنیادی حق دیتی ہے۔
*نیز شق 31:* ریاست پر لازم قرار دیتی ہے کہ وہ پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کے قابل بنائے اور مساجد کے تقدس کا تحفظ کرے۔
*آئین کی شق 2-A* یعنی قرارداد مقاصد کی رو سے قرآن و سنت کو بالادست قانون کی حیثیت حاصل ہے۔
لہٰذا اس تناظر میں عثمانیہ مسجد جھیکاگلی کو گرانا نہ صرف شریعت کی بلکہ آئین و قانون کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے ۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کے *"مری ری ماڈلنگ منصوبے"* کی ہم اصولی طور پر حمایت کرتے ہیں اور شہر کی ترقی، خوبصورتی اور عوامی سہولت کے ہر مثبت اقدام میں ہم انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارا انتظامیہ کے ساتھ ہمیشہ سے خوشگوار، تعاون پر مبنی اور باہمی احترام کا تعلق رہا ہے۔
*مگر ہم دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ عثمانیہ مسجد جھیکاگلی کا انہدام ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔* ترقیاتی منصوبے مساجد گرا کر نہیں بلکہ مساجد کا احترام کر کے بنائے جاتے ہیں۔ مسجد کو اس کی موجودہ جگہ پر برقرار رکھتے ہوئے منصوبے میں متبادل ڈیزائن اختیار کیا جائے۔
الحمدللہ ہم علماء مری امن پسند ہیں اور شہر یا ملک میں کسی صورت تصادم، افراتفری یا قانون شکنی نہیں چاہتے۔ ہم نے ہمیشہ آئین و قانون کا احترام کیا ہے اور آئندہ بھی کرنے کے لیے پرعزم ہیں ، مری کی تاریخ گواہ ہے کہ ہماری تمام تر جدوجہد آئینی، قانونی، جمہوری اور پُرامن دائرے میں رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی انتظامیہ سے سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کے فوری حل کے خواہاں ہیں۔
اندریں حالات حکومتِ پنجاب، کمشنر راولپنڈی ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر مری سے ہمارا پُرزور مطالبہ ہے کہ:
*الف)* عثمانیہ مسجد جھیکاگلی کو مسمار کرنے کے کسی بھی منصوبے یا تجویز کو فی الفور اور مستقل طور پر منسوخ کیا جائے۔
*ب)* مسجد کو اس کی اصل حالت و مقام پر برقرار رکھتے ہوئے ری ماڈلنگ پلان کو از سر نو ترتیب دیا جائے۔
*ج)* اس سلسلے میں علماء مری، مقامی عمائدین اور تاجر برادری پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دے کر انہیں اعتماد میں لیا جائے۔
*د)* آئندہ کسی بھی مذہبی مقام کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے علماء کرام سے باقاعدہ مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔
اگر ہمارے پُرامن مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو رابطہ کمیٹی علماء مری مجبوراً اگلے مرحلے کی طرف جائے گی:
اس ضمن میں ان شاء اللہ بہت جلد مری میں ایک *"عظیم الشان تحفظِ مساجد کانفرنس"* کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ملک بھر کے جید علماء کرام، مشائخ عظام اور تمام مکاتب فکر کی قیادت کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کانفرنس میں مساجد کے تحفظ کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ جس کی تاریخ و مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
اگر مسجد کے انہدام کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو علماء مری، اہلِ مری اور ملک بھر کے دینی حلقوں کو ساتھ لے کر ایک *پُرامن، آئینی اور جمہوری تحریک* کا آغاز کریں گے جس میں پُرامن احتجاج، دستخطی مہم، اور قانونی چارہ جوئی سمیت تمام آئینی راستے اختیار کرنا شامل ہے ۔۔۔
ہم امید کرتے ہیں کہ انتظامیہ ہماری شرعی، آئینی اور پُرامن گزارشات کا احترام کرتے ہوئے فوری مثبت کردار ادا کرے گی اور اس مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرے گی ۔
*وما علینا الا البلاغ المبین*
*جاری کردہ:*
*علماء مری*