18/02/2026
سوات؛ سوات قومی جرگہ سوات میں مقامی و غیر مقامی کی اصطلاح کو سختی سے رد کرتا ہے ؛ ترجمان سوات قومی جرگہ
سوات قومی جرگہ نے سیدو شریف شنہ کڑپہ میں دو خاندانوں کے مابین حالیہ جان لیوا جھگڑے اور اس میں معروف وکیل و سیاسی کارکن عطاء اللہ جان اور حاجی فضل خالق کی افسوس ناک و ناحق قتل سمیت دونوں فریقین کی قیمتی جانی و مالی نقصانات پر روز اول سے ہی نہ صرف شدید رنج و غم،افسوس اور اظہار تعزیت کیا ہے ـ سوات قومی جرگہ واضح کرتا ہے کہ مذکورہ واقعے میں کئ جہتیں تشویشناک ہیں جو اصلاح احوال کا شدید تقاضہ کرتی ہے جبکہ قاتلوں اور مجرموں کی سخت قانونی گرفت اور عبرتناک سزاوں کا مطالبہ بھی دُھراتا تاہم سوات قومی جرگہ اس دل خراش واقعے کی آڑ میں بعض عناصر کی طرف سے مقامی و غیر مقامی کی غیر ضروری سوال کو کھڑا کرنا اور اس کی آڑ میں سوات و شانگلہ کے غیور عوام کے قومی،سماجی اور تاریخی رشتوں کو نقصان پہنچانے کی بدنیتی پر مبنی شعوری سازش کی پرزور مذمت بھی کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ سوات اور شانگلہ کے عوام ایک ہی اجداد کی اولاد ہیں اور قومی،قبائلی،سماجی اور حتی زمینی ملکیتوں کے حوالے سے مذکورہ عوام ہزاروں سال سے ایک دوسرے سے پیوست اور جڑے ہوئے ہیں لہذا علاقے میں ایک فرد کی انفرادی جرم کی پاداش میں ہم شانگلہ و سوات کے عوام کے تاریخی اخوت اور پشتون ولی کے ان مٹ بندھن پر مبنی بھائی چارے اور یکجہتی کو بی اتفاقی اور لوکل اور نان لوکل کی خبیثانہ فکر و عمل کے نذر نہیں کرسکتے بیان میں زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی گئی اور فریقین سے صبر و تحمل کی پرزور اپیل کی گئی ـ