27/04/2025
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي صَلَاةَ الْخَوْفِ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَصَافَفْنَا لَهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَنَا فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ تُصَلِّي وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَی الْعَدُوِّ وَرَکَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا مَکَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِي لَمْ تُصَلِّ فَجَائُوا فَرَکَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ رَکْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَرَکَعَ لِنَفْسِهِ رَکْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
ابوالیمان، شعیب بیان کرتے ہیں کہ میں زہری سے پوچھا کہ کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی نماز یعنی خوف کی نماز پڑھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میں اطراف نجد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کیا ہم لوگ دشمن کے مقابل ہوئے اور ان کے سامنے ہم لوگوں نے صفیں قائم کیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ہم لوگوں کو نماز پڑھائی، تو ایک جماعت ان کے ساتھ کھڑی ہوئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے گئی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر وہ لوگ اس جماعت کی جگہ پر واپس ہوئے جس نے نماز نہیں پڑھی تھی، وہ لوگ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرلیا اور اس جماعت میں سے ہر ایک نے ایک رکوع اور دو سجدے اکیلے اکیلے کئے۔
صحیح بخاری : جلد اول : حدیث 906
゚viralシfypシ゚