01/09/2026
💔 غریب باپ کی فریاد… میری بچی کو بچا لیں!
میانوالی سرکاری ہسپتال کے حالات
30 اگست کی رات، سرکاری ہسپتال میانوالی میں ایک باپ اپنی معصوم بچی کو سانس کی تکلیف کے باعث ایمرجنسی میں لے کر پہنچا۔
کچھ دیر بعد مبینہ طور پر اسے بتایا گیا:
"آپ کی بچی کی حالت سیریس ہے، اسے وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے، لیکن ہمارے پاس وینٹی لیٹر نہیں۔"
باپ نے پریشان ہو کر پوچھا:
"سر! اتنے بڑے سرکاری ہسپتال میں وینٹی لیٹر نہیں؟ ہم غریب لوگ ہیں، پرائیویٹ ہسپتال کا خرچ کیسے برداشت کریں گے؟"
مبینہ طور پر جواب ملا:
"یہ آپ کا مسئلہ ہے، میں نے آپ کو بتا دیا ہے، ڈاکٹر عمار کے پاس لے جائیں یا پرائیویٹ میں جائیں۔"
یہ الفاظ اگر واقعی اسی طرح کہے گئے ہیں تو سوال بنتا ہے کہ ایک پریشان حال باپ سے اس لہجے میں بات کرنا کہاں کی انسانیت ہے؟
یہاں سوال صرف ایک بچی کا نہیں، ہر اس غریب مریض کا ہے جو سرکاری ہسپتال کو اپنا آخری سہارا سمجھ کر آتا ہے۔
محترمہ مریم نواز صاحبہ!
اگر سرکاری ہسپتال میں ایمرجنسی کے وقت وینٹی لیٹر جیسی بنیادی سہولت دستیاب نہیں تو پھر غریب کہاں جائے؟
اور متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، وینٹی لیٹر کی عدم دستیابی کی وجہ سامنے لائی جائے اور اگر کسی کی غفلت یا غیر مناسب رویہ ثابت ہو تو کارروائی کی جائے۔
غریب کی جیب خالی ہو سکتی ہے،
لیکن اس کی اولاد کی زندگی کی قیمت کم نہیں ہوتی! 💔
#میانوالی #انصاف