Grades Aren't Life

Grades Aren't Life To motivate parents and society for skills development

27/06/2025

کافی ساتھیوں کا یہ سوال ہیں کہ مطالعہ تو کرتے ہیں پر کچھ یاد نہیں رہتا ! تو پھر مطالعہ کا فائدہ کیا ؟؟
جواب:-
شیخ سلمان العوده اپنی کتاب "زنزانہ میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے شیخ سے شکایت کی کہ میں نے ایک کتاب پڑھی، لیکن مجھے اس میں سے کچھ یاد نہیں رہا!
چنانچہ انھوں نے مجھے ایک کھجور دی، اور فرمایا:
لو یہ چباؤ ! پھر مجھ سے پوچھا: کیا اب تم بڑے ہوگئے ؟ میں نے کہا: نہیں ! فرمایا لیکن یہ کھجور تمھارے جسم میں گھل مل گئی ، چنانچہ اسکا کچھ حصہ گوشت بنا کچھ بڑی، کچھ پیٹھ، کچھ کھال، کچھ بال کچھ ناخن اور مسام وغیرہ!!
تب میں نے جانا کہ جو کتاب بھی میں پڑھتا ہوں، وہ تقسیم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ اس کا کچھ حصہ میری لغت مضبوط کرتا ہے، کچھ میرا علم بڑھاتا ہے، کچھ میرا اخلاق سنوارتا ہے ، کچھ میرے لکھنے بولنے کے اسلوب کو ترقی دیتا ہے، اگرچہ میں اسکو محسوس نہیں کر پاتا !!

26/06/2025

چارسدہ میں ڈھائی سالہ زینب جنسی زیادتی و بہیمانہ قتل کیس کا ملزم بری ہو گیا

ملزم لعل محمد عرف بڈا کو آج جسٹس نصرت ناز کی عدالت کی حکم پر باعزت بری کردیا گیا۔
لعل محمد کا مقدمہ معروف قانون دان عالمزیب خان ایڈوکیٹ گزشتہ 5 سال سے بلامعاوضہ لڑ رہے تھے۔
لعل محمد کے خلاف مقدمہ میں زنا بالجبر کا فوجداری سیکشن 376A اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ سیکشن 53 بھی شامل کیا گیا تھا۔
لعل محمد کے خلاف 10 اکتوبر 2020 کو شیخ کلی سردریاب کی رہائشی ڈھائی سالہ زینب کے اغواء اور قتل کا مقدمہ درج تھا۔
لعل محمد کے بارے زینب کے والد اختر منیر نے نشاندہی کی تھی.
45/50 سالہ لعل محمد عرف بڈا ذہنی طور پر ایک معذور شخص ہے۔
لعل محمد عرف بڈا نے واقعہ کے اگلے روز مسجد کے پیش امام کو جبہ کورونہ کے قریب کھیتوں میں پڑی ہوئی بچی کی لاش کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔
بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد پیٹ تیز دھار آلہ سے چھیرا گیا تھا۔
ڈھائی سالہ زینب بہن کے ساتھ گھر کے باہر کھیل رہی تھی، کہ اچانک غائب ہو گئی تھی۔
بچی کی لاش کھیت سے ملنے کے بعد علاقے کے 100 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیکر ڈی این اے ٹسٹ کرایا گیا تھا۔

The latest article on Grades Aren't Life
15/05/2025

The latest article on Grades Aren't Life

"ذہنی کمزوری جر_م نہیں، سمجھنے کا موقع ہے" ماں کی جدوجہد، ایک خاموش پیغام
مزید تفصیلات کے لیے ویب سائٹ وزٹ کیجئے
https://kpobserver.com/1086/

14/05/2025

امتحانات کا مقصد صرف نمبر لینا نہیں بلکہ سیکھنا ہے۔
جب معاشرہ نمبرات کی دوڑ میں لگ جاتا ہے تو نقل، رشوت اور سفارش جیسے ناسور جنم لیتے ہیں۔
اس کلچر کو بدلنے کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔
اساتذہ، والدین، اور میڈیا سب کو چاہیے کہ بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں نہ کہ انہیں دباؤ میں رکھیں۔

ایک کامیاب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو دیانت، علم اور کردار پر کھڑا ہو۔

14/05/2025

قرآن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ "بیشک اللہ دیانت داروں کے ساتھ ہے" (البقرہ: 282)

جب ایک بچہ محنت کے بجائے نقل کے ذریعے کامیابی چاہتا ہے، تو وہ نہ صرف خود کو دھوکہ دیتا ہے بلکہ اللہ کی نصرت سے بھی دور ہو جاتا ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو دین کی روشنی میں دیانتداری اور محنت کا پیغام دینا چاہیے۔

13/05/2025

Please like and Comment for Support

13/05/2025

نہ مارو خواب بچوں کے، نہ دباؤ دل کی خواہش کو
جو چلیں خود کے بھروسے پر، وہی پاتے ہیں منزل کو

ہم بچوں کو یہ سکھائیں کہ راستہ خود تلاش کرنا اہم ہے، اور سچائی کے ساتھ چلنا کامیابی کی اصل علامت ہے۔
نقل ان کی شخصیت کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔

12/05/2025

ایک لڑکی، جس پر والدین کا شدید دباؤ تھا، نقل کرتی رہی۔ جب یونیورسٹی میں گئی تو بنیادی معلومات نہ ہونے کے باعث شدید ذہنی دباؤ میں آ گئی۔
آخرکار وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔
نقل کے نمبر وقتی کامیابی دیتے ہیں، لیکن اصل علم اور اعتماد چھن جاتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ذہنی سکون، علم اور مہارت نمبرات سے زیادہ اہم ہیں۔

12/05/2025

اسلام ہمیں سچائی، دیانتداری اور حق گوئی کا درس دیتا ہے۔
نقل کرنا دھوکہ دہی ہے، جو نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ فرد کی روح کو بھی گندا کر دیتا ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔"

آئیں ہم اپنے بچوں کو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق سچائی پر چلنے کی تربیت دیں۔

11/05/2025

نقل سے کچھ حاصل نہیں، بس دھوکہ ہے ضمیر کا
محنت سے جو ملے وہی ہے حق، یہی ہے خواب تعبیر کا

نقل ایک ایسا زہر ہے جو تعلیم کے جسم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
اگر ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ نمبر سے زیادہ سیکھنا ضروری ہے، تو وہ خود بخود غیر قانونی راستوں سے دور ہو جائیں گے۔

11/05/2025

ایک غریب بچہ جو دن میں کام کرتا اور رات میں پڑھتا، امتحان میں فیل ہو گیا کیونکہ وہ نقل نہیں کر سکا۔
دوسری طرف، ایک امیر بچے نے رشوت دے کر نمبر لے لیے۔
پھر بھی، آج وہ غریب بچہ ایک ایماندار افسر ہے، جبکہ دوسرا بچہ ابھی تک سچ چھپانے میں مصروف ہے۔

کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچائی اور محنت آخرکار کامیابی دیتی ہے، بس صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے۔

Address

Mardan
23200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Grades Aren't Life posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category