تاریخ ریاست یوسف زئی ہوتی- مردان

تاریخ ریاست یوسف زئی ہوتی-  مردان Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from تاریخ ریاست یوسف زئی ہوتی- مردان, Landmark & historical place, Mohallah Zardad khan Azi kheel Par Hoti Mardan, Mardan.

اس پیج پر تمام یوسف زئیوں اور بالخصوص مندنڑ , کمالزئی کے تمام شجرہ نسب اور ضلع مردان کی تاریخ موجود ہے۔
کسی بھی معلومات کیلئے نماز عشاء کے بعد صرف
واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔ 0314.5357887

20/03/2026
خان بہادر کی سند جو مغل دور سے شروع ھوئی اور بعد میں ہندوستانیوں کو برٹش کی وفاداری کی مد میں دی جاتی تھی ۔اسکا سلسلہ 19...
20/03/2026

خان بہادر کی سند جو مغل دور سے شروع ھوئی اور بعد میں ہندوستانیوں کو برٹش کی وفاداری کی مد میں دی جاتی تھی ۔
اسکا سلسلہ 1947 تک جاری رہا ۔اسکا متبادل ایوارڈ جو ہندوؤں کو دیا جاتا وہ رائے بہادر کہلاتا تھا ۔
خان بہادر کا خطاب خان صاحب سے بڑا تصور کیا جاتا تھا ۔

کندھار او گندھار(لر او بر)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔د آمو نہ تر ننگرھار پورہ علاقہ کندھار گنڑلے شی او د ننگرھار ن...
17/03/2026

کندھار او گندھار(لر او بر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
د آمو نہ تر ننگرھار پورہ علاقہ کندھار گنڑلے شی او د ننگرھار نہ تر اباسین پورے علاقہ گندھار گنڑلے شی۔

کندھار د سریانی جبے ٹکے دے چے معنی ئے یخہ علاقہ دہ گندھار د گوتم بدھ حلقہ مذھب دے زکہ ورتہ گندھار یا گندھارا تھذیب وئیلے شی۔

پختانہ بہ پہ یخنی کے پیخور تہ یعنی گندھارا تہ راتلل او پہ گرمی کے بہ واپس کندھار تہ تلل۔

د قامونونہ دا تگ راتگ سہ نوے خبرہ نہ وہ دغہ وخت پختانہ کوچیان وو او مناسب موسم او وارشوگانو پسے بہ گرزیدل۔

د کوچوانی دا جوند د پختنو داسے وو چے د گندھارا خلق بہ کندھار تہ تلل راتلل او د کندھار خلق بہ گندھار تلل راتلل خو دا یاد لرل پکار دی چے د گندھار مالکان پیخوری وو او د کندھار مالکان د برہ پختانہ وو۔

کلہ چے د کوچوانی دور لاڑو او زرعی دور راغلو نو د برہ خلق برہ پاتے شول او د کوزے خلق کوزہ پاتے شول۔

زرعی دور سرہ سم قبائلی جوند ودریدو د باچائی دور شروع شو برہ خلقو خپل حکومت شروع کڑو او کوزہ خلقو خپل حکومت شروع کڑو خوا دا حکومتونہ کہ ھر سومرہ کمزوری ولے نہ وو خو بیا ھم یوہ سلسلہ روانہ وہ۔

کہ دلتہ خبرہ د ملک احمد بابا د ملک کالو خان بابا او د ملک شاہ منصور بابا کیگی چے دوی د کندھار نہ راغلل او دلتہ ئے حکومت قایم کڑو نو دا یاد لرئ چے دا راغلیہ خلق نہ وو بلکہ سنگہ چے ما ووے چے دا تلل راتلل د کندھار او د گندھار پہ مینز کے یوہ عام خبرہ وہ مطلب دا چے دا د پیخور خپلہ زمکہ وہ او دلتہ خپل رٹ قایمولو سہ بدہ خبرہ نہ وہ۔

کہ خبرہ صنعتی دور تہ راشی نو تر ڈیر وختہ پورے کابل د ایران لاندے جوند کولو وخت سرہ سرہ افغانستان جوڑ شو نو دوی د پیخور پختانہ اگنور وساتل او د کابل واکداران د فارسیبانو زناناو غلامان شول د دوی دربار بہ د فارسیبانو خکلو جینکو نہ ڈک وو بلکہ فارسیبانو سرہ بہ ئے ودونہ ھم کول او پہ کور کے بہ ئے فارسی جبہ ویلے شوہ او د پختون واکدار نہ بہ خپلہ پختو جبہ ھیرہ شوہ۔

امیر عبدالرحمان خو د پیخور پختانہ پہ انگریز د سلو کالو دپارہ خرس کڑل او پہ دغہ پیسو ئے فارسیبانو خزو سرہ عیاشی شروع کڑے۔

کلہ چے تقسیم وشو نو ھغہ وخت ھم ظاھر شاہ باچا مونگہ زان سرہ جوخت نہ کڑو او دا زکہ چے زمونگ د خرس د نیٹے سل کالونہ لہ برابر نہ وو نو زکہ باچاخان بابا مجبور شو او پاکستان سرہ شامل شو۔

مطلب تہ بہ راشم او ھغہ دا چے د پنزوسو کالو نہ پہ کابل سختہ دہ دوی پہ خپلہ د زان د جواب نہ دی صرف د پیخور پہ طمع ناست دی او انتظار کوی چے مونگ بہ د خپل ریاست خلاف ٹوپک کلہ راخلو او پہ خپلہ د یو طالب د جواب نہ دی چے خپل ملی بیرغ قدرے اوچت کڑی۔

خلاصہ دا چے د ننگرھار نہ را پہ دیخوا تر اباسین پورے د پیخور د پختنو خاورہ دہ مونگہ د دے مالکان یُو او تاسو کلہ پہ پیخور حکومت کڑے دے چے دا ستاسو خاورہ دہ د پیخور پختانہ ستاسو نہ پہ تعداد کے سوا دی پہ علم او پوھہ کے ستاسو نہ سوا پہ ادبی میدان کے ستاسو نہ وڑاندے دی د تعلیم پہ میدان کے ستاسو نہ وڑاندے دی او کہ خبرہ د حکومت کولو وی نو پیخور پہ تاسو حکومت کڑے دے او بیا ئے ھم حق جوڑیگی چے پہ تاسو حکومت وکڑی۔
نور بیا

کمال زئی قومی جرگہ خاندان ہوتی کی سابق ڈسٹرکٹ ممبر یونین کونسل ہوتی خاص سردار خان کی سربراہی میں بابو خیل گھرانے نے جرگے...
15/03/2026

کمال زئی قومی جرگہ خاندان ہوتی کی سابق ڈسٹرکٹ ممبر یونین کونسل ہوتی خاص سردار خان کی سربراہی میں
بابو خیل گھرانے نے جرگے کو کامیاب بنانے کیلئے ہر قسم کے تعاون اور مکمل شمولیت کا اعلان ۔

له میلاد څخه 600 کاله مخکې یې نوم اریانا و؛ یعنې د پاکو او نجیبو خلکو ځای
15/03/2026

له میلاد څخه 600 کاله مخکې یې نوم اریانا و؛ یعنې د پاکو او نجیبو خلکو ځای

09/03/2026

بلوچ قبائل میں قبیلے کےلئے زئ کا لاحقہ ؟
بلوچی مین بیٹے کےلئے زوے جمع زئ مستعمل نہیں ہے جبکہ
پشتو میں زوے،زوي ،زامن، زيږون ،زوکړه، زېږېدنه ،زېږول جيسے الفاظ ثابت کرتے ہیں کہ قبیلے کےلئے زئ خالص پشتو لفظ ہے بلوچ قبائل میں زئ نہیں ہے جیسے بگٹی،مزاری،شاہوانی ،رند،جتوئ،لاشاری، زرداری کسی میں بھی زئ نہیں اسکا مطلب ہے کہ زئ والے بغلان زئ مری ہو بدوزئ ہو یا زرکزئ ہو یہ سب اصل میں وصلی بلوچ ہے بلکہ سب نہیں بلکہ کین شپ یا انکے سردارخیل افغان ہی ہے مری میں بھی سردارخیل بغلان زئ افغان ہے کچھ لوگ تو مری کو پشتو مرانڑی/شیرانی بتاتے ہیں ہے
اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قبیلے بلوچوں مین وصلی ہے پرانے زمانے میں اسطرح کی رسم تھی کہ اگر کوئ قبیلہ یا اسکی شاخ کمزور ہوتی یا ھجرت کرتی اور حالات ٹھیک نہ ملتے تو دوسرے کسی بڑے قبیلے میں ضم ہو جاتی یہی پگڑی بدل کے اس شاخ یا قبیلے کے سردار کو دوسرے قبیلے کے سردار کابھائ بنالیاجاتا یہ سیاسی مقاصد کےلئے بھی ہوتا تھا جیسے شاہ جہاں اور بہاکو خان اور رنجیت اور شاہ شجاع والے واقعات ہیں اسکے علاؤہ بعض اوقات اپنے قبیلے سے جدا ہونے والے بڑے خاندان یا شاخ کو جب دوسری جگہ منتقل ہونا پڑتا تو اگر مناقشہ ہوتا اور اسی قبیلے کا خان خیل یا سردار خاندان سے کوئ فرد اسکی قیادت قبول نہیں کرتا تو وہ دوسرے قبیلے کے سردار خاندان سے کسی فرد کو اپنے قبیلے کی قیادت کےلئے لے آتے ظاہری بات ہے اب اسطرح اس قبیلے کے سردار خاندان کی اصل نسل قبیلے سے مختلف ہوتی مثلا رئیسانی خاندان ترین ہے جس سے پورا بلوچ قبیلہ منسوب ہے اسلئے نواب رئیسانی سے کسی نے پوچھا آپ افغان ہو اس نے کہا نہیں بلوچوں نے نہیں نوابی دی آپ نواب بناؤ گے ؟
یہ رواج صرف قبائل کی حدتک نہیں۔ ہوتا بلکہ یورپ کے شاہی خاندانوں میں بھی ہوتا تھا اسلئے آج کا برٹش شاہی خاندان بھی نسلا جرمن ہے پرانے زمانے میں جو طاقتور لوگ اقتدار پر قبضہ کرے تو وہ اسلئےاپنا شجرہ نسب کسی پرانے شاہی خاندان سے جوڑ دیتے تاکہ حق حاکمیت برقرار رہے تو قبیلوں کے متعلق آپ جذباتی نہ ہو اب تو ڈی این اے سب کچھ بتاہی رہاہے
پختون قبائل مین اس قسم کی تفریق کےلئے قبیلے کے اندر شاخوں کی شناخت کےلئے تور ،سپین، بور،اور زیڑ جیسی اصطلاحات موجود ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ زئ کا یہ لاحقہ جو پختون قبیلے کے لازمہ ہے تمام بلوچ قبائل میں نہیں ہے اسطرح کسی پنجابی قبیلے میں نہیں ہے سندھیوں میں نہیں ہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اکٹھے رہنے سے پختون قبائلی خاندان بلوچ قبائل میں ضم یا تبدیل ہوئے ہیں

عرب کون ہیں؟ عربوں کی شاندار تاریخ!تاریخی روایات اور قدیم نسب ناموں کے مطابق عربوں کی اصل جزیرۂ عرب (شبه الجزيرة العربي...
09/03/2026

عرب کون ہیں؟ عربوں کی شاندار تاریخ!
تاریخی روایات اور قدیم نسب ناموں کے مطابق عربوں کی اصل جزیرۂ عرب (شبه الجزيرة العربية) سے مانی جاتی ہے۔ یہ خطہ قدیم زمانے سے مختلف سامی قبائل کا مسکن رہا ہے۔ جزیرۂ عرب میں انسانی آبادیاں ہزاروں سال سے موجود رہی ہیں، اور یہاں سے کئی قبائل مشرقِ وسطیٰ اور آس پاس کے علاقوں میں پھیلتے رہے۔
اسلامی مؤرخین اور نسب دانوں نے عربوں کو عموماً تین بڑی اقسام میں تقسیم کیا ہے:
1. العرب العاربة (عربِ عاربہ / قحطانی عرب)
یہ وہ عرب ہیں جنہیں قدیم ترین اور اصل عرب سمجھا جاتا ہے۔ ان کی نسبت قحطان کی طرف کی جاتی ہے اور روایات کے مطابق ان کے جدِ امجد یعرب بن قحطان تھے۔ کہا جاتا ہے کہ عربی زبان کے فروغ میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔ ان قبائل کا مرکز یمن اور جنوبی عرب کا علاقہ تھا۔ قدیم زمانے میں یہاں کئی عظیم سلطنتیں قائم ہوئیں، جیسے:
مملکت سبا (Saba) – تقریباً 1200 قبل مسیح سے، مملکت حمیر (Himyar) ،مملکت حضرموت اور قتبان
یہ ریاستیں تجارت، زراعت اور آبپاشی کے عظیم منصوبوں کے لیے مشہور تھیں۔ خاص طور پر سدِّ مأرب (Marib Dam) کو قدیم عرب کی عظیم انجینئرنگ کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو صدیوں تک یمن کی زراعت کو سہارا دیتا رہا۔

2. العرب المستعربة (عربِ مستعربہ / عدنانی عرب)
یہ وہ عرب ہیں جن کی نسبت حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کی جاتی ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے۔ اسلامی روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہؑ کو مکہ کے علاقے میں آباد کیا۔
بعد میں حضرت اسماعیل علیہ السلام نے قبیلہ جرہم سے عربی زبان سیکھی اور انہی سے ان کی اولاد میں عربی زبان اور عرب ثقافت پھیلی، اسی لیے انہیں عربِ مستعربہ کہا جاتا ہے، یعنی وہ جو بعد میں عرب بنے۔
ان کی نسل سے عدنان پیدا ہوئے، اور اسی لیے انہیں عدنانی عرب بھی کہا جاتا ہے۔ بعد میں انہی کی نسل سے مشہور قبائل پیدا ہوئے جیسے: قریش (جس سے نبی کریم ﷺ کا تعلق ہے)، کنانہ، مضر، ربیعہ
یہ قبائل زیادہ تر شمالی اور وسطی جزیرۂ عرب میں آباد تھے۔

3. العرب الكنعانيون (کنعانی عرب)
کنعانیوں کی نسبت کنعان بن سام بن نوح علیہ السلام کی طرف کی جاتی ہے۔ ان کی آبادیاں قدیم زمانے میں بلادِ شام (آج کے فلسطین، لبنان، اردن اور شام کے بعض حصوں) میں تھیں۔
کنعانیوں نے قدیم زمانے میں کئی ترقی یافتہ شہر اور تہذیبیں قائم کیں، جن میں مشہور شہر شامل ہیں:
أریحا (Jericho) – دنیا کے قدیم ترین آباد شہروں میں سے ایک، صور (Tyre)، صیدا (Sidon)
یہ لوگ تجارت، سمندری سفر اور زراعت میں مہارت رکھتے تھے۔ بعض مؤرخین کے مطابق فینیقی (Phoenician) تہذیب بھی کنعانیوں سے وابستہ تھی، جنہوں نے قدیم دنیا میں حروفِ تہجی پر مبنی تحریری نظام کو فروغ دیا، جس نے بعد میں یونانی اور دیگر زبانوں کے رسم الخط کو متاثر کیا۔

جزیرۂ عرب اور اس کے گرد و نواح کے علاقے قدیم زمانے سے سامی اقوام کی تہذیبوں کا مرکز رہے ہیں۔ قحطانی، عدنانی اور کنعانی قبائل نے مختلف ادوار میں تجارت، تہذیب، زبان اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
بعد ازاں 7ویں صدی عیسوی (610ء کے بعد) اسلام کے ظہور کے ساتھ عرب قبائل نے ایک نئی دینی اور تہذیبی شناخت حاصل کی، اور چند ہی دہائیوں میں عرب دنیا کی سیاسی و ثقافتی تاریخ نے ایک عظیم تبدیلی دیکھی۔

فیسبک کوور فوٹوں کر لگائیں
07/03/2026

فیسبک کوور فوٹوں کر لگائیں

05/03/2026

یوسف زئی روایتی کھیل
مخہ ٹورنامنٹ بمقام عزی خیل پارک
عید الفطر کے بعد انشاء اللہ
مندنڑ بمقابلہ یوسف نامہ

یہ حدیث *مصعب بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ* سے مروی ہے، جو اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تیر اندازی کیا کرو کیونکہ یہ تمہارا بہترین کھیل ہے۔"

*کتاب:* السیلسہ
*حدیث نمبر:* 2100
*حالت:* صحیح ✅

Address

Mohallah Zardad Khan Azi Kheel Par Hoti Mardan
Mardan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تاریخ ریاست یوسف زئی ہوتی- مردان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to تاریخ ریاست یوسف زئی ہوتی- مردان:

Share