14/08/2026
عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کا آغاز قومی پرچم کشائی سے کیا گیا، جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ تقریب میں کیک بھی کاٹا گیا اور ملک و قوم کی سلامتی، خوشحالی اور ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک عظیم نظریے اور مسلمانوں کی مسلسل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے آزادی کے حصول کے لیے بہت سی مشکلات اور تکالیف برداشت کیں۔ آج کا دن ہمیں ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ پاکستان صرف جشن منانے کا نام نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری کا نام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے ملک اور اس معاشرے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ ایک تعلیمی ادارے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں تعلیم، تحقیق، کردار سازی اور ملکی ترقی کے لیے واضح اہداف مقرر کرنے ہوں گے۔
وائس چانسلر نے کہا کہ ہر طالب علم اور ہر استاد کو اس دن اپنے لیے ایک مقصد اور ایک ٹارگٹ مقرر کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کی ترقی میں اپنا کیا کردار ادا کرے گا۔ اگر ہر طالب علم اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کو ملک کی بہتری کے لیے استعمال کرے اور ہر استاد اپنے فرائض ایمانداری اور محنت سے ادا کرے تو ہم پاکستان کو مزید مضبوط اور ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرچم کشائی، قومی ترانہ اور کیک کاٹنا ہماری قومی خوشی کا اظہار ہے، لیکن حقیقی جشنِ آزادی یہ ہے کہ ہم ملک کی ترقی کے لیے عملی کردار ادا کریں۔ ہمیں صرف ایک دن نہیں بلکہ ہر دن پاکستان کی ترقی کے لیے محنت کرنا ہوگی۔
پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ ہمیں پاکستان اور اس کے نظریے کے لیے سخت محنت، دیانت داری، اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہماری اجتماعی محنت ہی اس ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔