02/06/2026
رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے سایہ تلے پنپتے فتنے
(حصہ اول)
پاکستان کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مذہب، عقیدہ اور دینی شعائر جیسے نہایت حساس موضوعات بھی ایسے افراد کی دست برد سے محفوظ نہیں رہے جن کا نہ تو علومِ دینیہ سے کوئی گہرا تعلق ہوتا ہے، نہ علمی روایت سے کوئی نسبت اور نہ ہی امتِ مسلمہ کے مسلمہ عقائد کے ساتھ کوئی حقیقی وابستگی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک ایسا ماحول تشکیل دیا گیا ہے جس میں ہر شخص خود کو مذہبی معاملات پر رائے زنی کا مجاز سمجھتا ہے، خواہ اس کے پاس اس میدان کی بنیادی اہلیت بھی موجود نہ ہو۔ مزید افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے افراد کو باقاعدہ سرکاری، نیم سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر سرپرستی، حوصلہ افزائی اور مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو بعض مخصوص افراد کو اسلامی عقائد، ختمِ نبوت، تقدسِ رسالت اور دیگر حساس مذہبی موضوعات پر بلا خوف و تردد گفتگو کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں؟ اگر اس سوال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو ہر صاحبِ شعور کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ عصرِ حاضر میں ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، عالمی اداروں اور بین الاقوامی فنڈنگ کے پیچیدہ نیٹ ورک نے فکری و نظریاتی اثراندازی کی نئی راہیں ہموار کر دی ہیں۔ اب جنگیں عقائد، تہذیبوں اور نظریات کے میدان میں لڑی جا رہی ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ مغربی دنیا کے بعض ادارے اور تنظیمیں مسلم معاشروں میں مذہبی تصورات کی تشکیلِ نو (Reconstruction) اور دینی حساسیتوں کو کمزور کرنے کے منصوبوں پر طویل عرصے سے کام کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف عنوانات اختیار کیے جاتے ہیں؛ کہیں "مذہبی آزادی" کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے، کہیں "رواداری" کے نام پر مسلمہ عقائد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہیں "مکالمہ" اور "تنقیدی فکر" کی آڑ میں ایسے نظریات کو فروغ دیا جاتا ہے جو براہِ راست اسلامی تشخص اور امت کے اجماعی عقائد سے متصادم ہوتے ہیں۔
اس پورے عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے مقامی سطح پر ایسے افراد تیار کیے جاتے ہیں جو بظاہر مسلمان، دانشور، محقق یا سماجی کارکن دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی فکری سمت اور ترجیحات رفتہ رفتہ انہی بین الاقوامی ایجنڈوں کی ترجمان بن جاتی ہیں۔ انہیں مختلف پروگراموں، تربیتی نشستوں، بیرونی دوروں، تحقیقی گرانٹس اور پرکشش اسکالرشپس کے ذریعے اس فکری دھارے کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہی افراد کو تعلیمی اداروں، پالیسی ساز حلقوں، میڈیا پلیٹ فارمز اور ریاستی اداروں تک رسائی دلائی جاتی ہے تاکہ وہ معاشرے میں مطلوبہ بیانیے کو فروغ دے سکیں۔
پاکستان میں بھی متعدد بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں "انسانی حقوق"، "مذہبی آزادی" اور "شہری مساوات" جیسے خوشنما عنوانات کے تحت سرگرمِ عمل ہیں۔ ان میں سے بعض اداروں کی رپورٹس، سفارشات اور عملی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ ان کی توجہ کا ایک مستقل مرکز مسئلۂ ختمِ نبوت کی حساسیت کو کم کرنا، قادیانی جماعت کے بارے میں عوامی رویوں میں تبدیلی پیدا کرنا اور اس حوالے سے موجود آئینی و قانونی اتفاقِ رائے کو متنازع بنانا ہے۔ یہ کام براہِ راست بھی کیا جاتا ہے اور بالواسطہ بھی؛ کبھی علمی مباحث کے نام پر، کبھی مذہبی ہم آہنگی کے عنوان سے اور کبھی آزادیِ اظہار کے پردے میں۔
تشویش ناک امر یہ ہے کہ اس فکری یلغار کے بعض نمائندے ہمارے قومی اداروں، جامعات، تحقیقی مراکز اور پالیسی ساز حلقوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ ان میں سے بعض افراد انتہائی معمولی مفادات، محدود مراعات یا وقتی شہرت کے عوض ایسے منصوبوں کا حصہ بن جاتے ہیں جن کے طویل المدت اثرات قومی نظریے اور مذہبی شناخت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام صرف نعروں اور خوشنما اصطلاحات سے متاثر ہونے کے بجائے ان فکری تحریکوں، مالی وسائل اور بین الاقوامی روابط کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیں جو پس منظر میں کارفرما ہوتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ اختلافِ رائے کا حق موجود ہے یا نہیں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مذہبی آزادی کے نام پر مسلمہ عقائد کو متنازع بنانے، ختمِ نبوت کے اجماعی تصور کو کمزور کرنے اور دینی حساسیتوں کو مشکوک بنانے کی کوششوں کو بھی صرف فکری تنوع قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب تلاش کیے بغیر اس پورے منظرنامے کو سمجھنا ممکن نہیں۔
تحریر: ابو عاطف رحمانی