Hazara Matter

Hazara Matter قرآن وسنت کی دعوت لیکر اٹھو اور پوری دنیا پر چھا جاو

05/09/2026

حافظ صاحب نے جماعت اسلامی کے احتجاج اور دھرنوں پر طنز کرنے والے عوام دشمن لوگوں کے لئے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ان کو حکومت کے گماشتے قرار دے دیا 👍
سو فیصد متفق ہوں 👍

05/09/2026

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی سیاست سے ہمیں اختلاف ہے اچھا جی زرا بتائیے آپ کو جماعت کی کس بات سے اختلاف ہے کیا آپ کو اس بات سے اختلاف ہے کہ جماعت عام لوگوں کے مسائل کی بات کرتی ہے ۔ کسی مسلک کسی فرقے کی بات نہیں کرتی اپنے کسی لیڈر کی طرف نہیں بلاتی سب کو اللّہ اور اس کے رسول اور قرآن وسنت کی دعوت دیتی ہے ۔ بلا تفریق رنگ و نسل زبان قوم قبیلے سب مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھتی ہے
یا یہ کہ جماعت اسلامی کرپشن نہیں کرتی
یا اس میں موروثی سیاست نہیں اور عوام مورثی سیاست کی عادی ہے اور جماعت اپنی قیادت بذریعہ انتخاب کیوں مقرر کرتی ہے۔۔ زرا
کھل کر بتائیے نا آپ کو جماعت اسلامی کی کس پالیسی اختلاف ہے؟؟

05/09/2026
05/09/2026

آج مینگورہ سوات میں پٹرولیم لیوی کے خلاف جلسہ عام کے مناظر ❤️
سوات کی عوام نے فیصلہ سنا دیا کہ لیوی کے نام پر بھتہ ہمیں قبول نہیں ✊🏼 جماعت اسلامی کو لیوی کے خلاف دھرنے پہ آج 20 دن مکمل ہوگئے ہیں۔

05/09/2026

ملک احتشام علی سابق ڈسٹرکٹ ممبر جماعت اسلامی کے احتجاجی مظاہرے سے مخاطب ہیں۔

05/09/2026

"حکومت نے اگر پٹرول لیوی ختم نہیں کی تو پہیہ جام ہڑتال بھی کریں گے اور پھر جب اسلام آباد کی کال دیں گے تو صرف بات پیٹرولیم لیوی تک نہیں رہے گی پھر وہ مارچ حکومت گراؤ انقلاب لاؤ مارچ ہوگا"امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن

05/09/2026

*سب حافظ نعیم کو مان گئے۔۔!!!💯❤️*

*بھتہ لیوی ختم کرو۔۔!!!😤🔥*

05/09/2026

جماعتِ اسلامی — تحریکِ انصاف
کھٹے میٹھے تعلقات!

جماعتِ اسلامی اور PTI کے تعلقات ابتدا ہی سے دلچسپ رہے ہیں۔ کبھی قربت، کبھی اختلاف، کبھی ساتھ اور کبھی ایک دوسرے پر تنقید—لیکن کہانی کبھی اتنی پیچیدہ نہیں رہی جتنی آج سوشل میڈیا پر دکھائی دیتی ہے۔

کہانی شروع ہوتی ہے قاضی صاحبؒ سے۔

قاضی حسین احمد صاحبؒ کے ساتھ عمران خان کا تعلق تقریباً استاد شاگرد جیسا تھا۔ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ سیاست میں قاضی صاحب کے علاوہ وہ کسی سے مرعوب نہیں ہوئے۔ یہ قاضی صاحب تھے جنہوں نے بھارتی اداکاروں کو فنڈ ریزنگ کیلیے بلانے پر عمران کو بے نقط ڈانٹ پلادی تھی.
یہ بات مسلم ہے کہ جب پوری PTI ایک گاڑی میں سماجاتی تھی اس وقت قاضی صاحب تھے جنہوں نے سیاست میں عمران کو آگے بڑھایا اور اس پر ان پر تنقید بھی کی گئی

ــــــــــــ

پھر وقت بدلا اور منور حسن صاحبؒ کا دور آیا۔

اختلافات اپنی جگہ، لیکن باہمی احترام قائم رہا۔ منور صاحب نے ٹی وی انٹرویوز تک میں عمران خان کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔لیکن جواب میں عمران خان 2013 کے انتخابات میں ان کے ساتھ دھوکہ دہی کے مرتکب ہوئے (حوالہ حفیظ اللہ نیازی، جاوید ہاشمی، پرویز خٹک)

لیکن یہاں بھی اختلاف رہا، مگر دشمنی نہیں ہوئی۔

ــــــــــــ

اس کے بعد آتے ہیں سراج الحق صاحب۔

اور یہاں کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہے۔

وہی سراج الحق صاحب جو بعد میں PTI کے سوشل میڈیا کے ایک حصے کے سب سے زیادہ نشانے پر رہے، ایک وقت میں KP میں PTI حکومت کا اہم ترین سیاسی سہارا تھے۔

پی ٹی آئی اور جماعتِ اسلامی نے KP میں مل کر حکومت چلائی۔ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کے دوران سراج الحق نے کئی مواقع پر ثالثی بھی کی اور حکومت بچائی. عمران خان خود ان کی کارکردگی کو اپنی حکومت کی کامیابی کی دلیل کے طور پر پیش کر چکے ہیں۔

پھر 2018 آیا۔

حکومت سازی کے نمبرز کا کھیل جاری تھا۔ ایسے میں مولانا نے سراج صاحب کو وزارتِ اعلیٰ کی اوپن آفر کی۔انکے پاس جوڑتوڑ کرکے مکمل نمبرز موجود تھے

لیکن شریف النفس سراج الحق کا اصولی مؤقف تھا:

“سب سے بڑی پارلیمانی قوت ہونے کی وجہ سے یہ حق PTI کا ہے۔”

گویا:

وہ قرض اتارے ہیں
جو واجب بھی نہیں تھے!

یہیں سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس جماعت کے ساتھ ماضی میں ایسے تعلقات رہے ہوں، اس کے ساتھ آج اتنی تلخی آخر آئی کہاں سے؟

ــــــــــــ

پھر حافظ نعیم الرحمٰن کا دور آتا ہے۔

اور کہانی ایک نئے موڑ میں داخل ہوتی ہے۔

ذرا جماعتِ اسلامی کا مؤقف دیکھیں:

•رجیم چینج پر کھلی تنقید
•ذمہ داروں کیلئے قومی مجرم کا لقب
•عوامی مینڈیٹ کے احترام پر اصرار
•فارم 47 پر قائم نظام کی مخالفت
•سیاسی قیدیوں کی رہائی،
•اور سیاسی انجینئرنگ کے خلاف آواز۔

تو سوال بنتا ہے:

یہ جماعت PTI کی دشمن کیسے ہوگئی؟

فی الواقع اگر غیر جانبدار ہوکر احسانات کی بیلنس شیٹ بنائی جائے تو KP سے کراچی تک پلڑا ہر لحاظ سے جماعت کا بھاری ہے...

لیکن سین یہ ہے کہ حافظ نعیم کے لیے :

منافق!
دلال!
ایجنٹ!
جنرل عاصم منیر کا آدمی!
چابی سے چلنے والا کھلونا!

جیسے القابات سامنے آرہے ہیں۔

آخر کیوں؟

اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے ہمیں 2026 کی PTI کی Chemical Composition دیکھنی ہوگی۔

اس وقت پارٹی کے نام پر اوپر سے نیچے تک پانچ تہیں نظر آتی ہیں—پہلے تین جینین، بعد کے دو مشکوک!

1️⃣ عمران خان

سب سے پہلے خود عمران خان۔

انہوں نے آج تک جماعتِ اسلامی پر کوئی ہلکی بات نہیں کی ہمیشہ تعریف کی ہے اور سب سے زیادہ قابل قبول قرار دیا ہے. حافظ نعیم سے ملاقات میں بھی ان کی کھل کر تعریف کی ہے

2️⃣ جیل میں موجودقیادت

دوسرا حلقہ وہ قیادت ہے جو جیل میں ہے۔

اعجاز چوہدری، یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید جیسے رہنما حافظ نعیم کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور ان کے دھرنے کی حمایت میں تحریری پیغام تک بھیج چکے ہیں۔

یعنی یہاں بھی جماعت مخالف سوچ نظر نہیں آتی۔

پھر تیسرا حلقہ دیکھیے۔

3️⃣ پارلیمانی قیادت

بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، اچکزئی اور دیگر سینیر پارٹی رہنما حافظ نعیم کے سیاسی کردار کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں اور مسلسل رابطے میں ہیں۔

تو اگر قائد Clear ہے،
جیل کی قیادت Clear ہے،
اور پارلیمانی قیادت بھی Clear ہے—

تو پھر حافظ نعیم کے سب سے بڑے ناقد کون ہیں؟

یہ ہیں بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے
دو نمبری گھس بیٹھئیے !
جو عمران کے صدقے میں زیرو سے ہیرو بن گئے ہیں

4️⃣ دوسری اور تیسری درجے کی سیاسی قیادت

111 ارکانِ قومی اسمبلی، درجنوں سینیٹرز، سینکڑوں ارکانِ صوبائی اسمبلی اور ایک صوبائی حکومت۔

یہ موقع پرست عمران خان کے صدقے اسمبلی میں پہنچ تو گئے ہیں لیکن خوف اور لالچ انہی‍ں بے عمل رہنے پر مجبور کرتا ہے

سوال صرف یہ ہے:

تاریخ کی مضبوط ترین حزب اختلاف عملی میدان میں کیوں نہیں ہے؟

اگر 111 ارکان فی کس ہزار بندہ بھی متحرک کریں تو کتنی بڑی عوامی قوت بن سکتی ہے؟

لیکن جب جماعت اسلامی کی محدود پارلیمانی قوت سڑک پر نکلتی ہے، دھرنا دیتی ہے اور اپنے مطالبات کے لیے دباؤ بناتی ہے تو ان ارکان اسمبلی کی کارکردگی سوالیہ نشان بن جاتی ہے.. یہ بری طرح ایکسپوز ہوجاتے ہیں

حافظ نعیم ان کیلیے ایک Uncomfortable Comparison بن جاتے ہیں۔کیونکہ حافظ نعیم کا تحرک ان نالائقوں کی Credibility پر سوال اٹھا دیتا ہے۔

بس ان کیلئے آسان راستہ کیا ہے؟

حافظ نعیم کو ہی مسئلہ بنا دو!

اتنی دھول اڑاؤ کہ چہرے مسخ ہو جائیں۔

ــــــــــــ

اور پھر کہانی کا پانچواں کردار سامنے آتا ہے۔

ویوز کے بیوپاری!

5️⃣ یوٹیوبرز اور Influencers

“جو دکھتا ہے، وہ بکتا ہے۔”

عمران خان ایک بڑا Political Brand ہیں۔ ان کی تصویر، کلپ یا ایک جملہ Engagement لے آتا ہے۔

اور Negative Content تو مزید بکتا ہے۔

جتنا زیادہ اشتعال،
جتنی زیادہ دشمنی،
جتنا زیادہ الزام—

اتنی زیادہ Engagement!

نتیجہ؟

حافظ نعیم تازہ ترین ہدف بن گئے۔

یوٹیوبرز کی Engagement بڑھ رہی ہے، ڈالرز کی بارش ہورہی ہے مگر پارٹی کااصل سیاسی بیانیہ گھل رہا ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ عمران خان کو ممکنہ سیاسی دوستوں سے محروم کیا جا رہا ہے؟

یہاں دو مختصر مگر اہم سوال بھی ہیں:

جو لوگ اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ گرفت سے نکل کر، رو دھو کر اور آہ و زاری کرتے ہوئے اچانک بیرونِ ملک جا بیٹھے—وہ ملک سے نکلے کیسے؟

یاد رکھیں یہ کلئیر ہوکر گئے ہیں..

کیا کوئی ڈیل ہے؟
اور اگر ڈیل ہے تو کیا کوئی ٹاسک بھی ہے؟

پھر یہ بھی:

یہ یوٹیوبرز بیرونِ ملک آزادانہ سرگرم ہیں، ڈالرز کی بارش ہورہی ہے،سفر کر رہے ہیں— تو قانونی پابندیوں کا معاملہ حکومت کے لیے اتنا مشکل کیوں ہے؟

یقین سے کوئی خفیہ ڈیل نہیں کہی جا سکتی۔

لیکن سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:

دال میں کچھ تو کالا ہے!

ــــــــــــ

افسوس کی بات ہے
ایک بہت مقبول جماعت…
سیاسی طور پر تنہائی کی طرف گامزن ہے ۔
ایک طرف قربانیاں ہیں دوسری طرف بے بس سیاسی قیادت بے اور کمان 10/12 یو ٹیوبرز کے ہاتھ میں ہے.... وہ بیانیہ بنارہے ہیں

یہاں بینظیر بھٹو کی سیاسی حکمتِ عملی یاد آتی ہے۔

انہوں نے ایسے ہی مشکل حالات میں جیل میں رہتے ہوئے 11 جماعتوں کو ساتھ ملایا، اتحادی بنائے اور ایک وسیع Coalition تشکیل دی۔

کیونکہ سیاست بند دیواروں سے راستے نکالنے کا نام ہے۔

یہاں تو دستیاب کھڑکیاں بھی بند کی جا رہی ہیں۔

اگر ہر مختلف آواز غدار،
ہر اختلاف ایجنسی،
اور ہر ممکنہ اتحادی دشمن بن جائے—

تو آخر میں کیا بچے گا؟

اگر آپ عمران خان سے محبت کرتے ہیں تو آپ کو سمجھنا ہوگا

عمران خان کے گرد مقبولیت بے مثال ہے۔

لیکن سیاسی دوست کتنے ہیں؟

سوشل میڈیا کی جنگ جیتنا اور سیاسی میدان میں Coalition بنانا ایک چیز نہیں۔

سیاست میں صرف شور نہیں چاہیے۔

ساتھی بھی چاہین۔

ورنہ…

گلیاں سونی ہو جاتی ہیں۔

اور مرزا اکیلا گلیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔

آپ کے دور میں حسن کو کہیں بے وفا
آپ کو خبر بھی ہے؟ آپ کو پتہ بھی ہے؟

طارق رحمان

05/09/2026

منافقت کس بلا کا نام ہے کون جانتا ہے۔
آج پٹرولیم قیمتوں میں ردوبدل کو نہ تو میڈیا نے بریکنگ نیوز بنایا نہ کسی صحافی نے نہ کسی یوتھیے اور کسی دوسرے نے
کیونکہ یہ سارے منافق قابل رحم جماعت اسلامی پر بھونکنے کیلئے چھوڑے ہوئے ہیں۔

04/09/2026

۔حکومت کے خلاف متحدہ اپوزیشن بہت دیکھی۔اب دیکھیں جماعت اسلامی کے خلاف متحدہ اپوزیشن
PTI + PMLN + PPP + MQM

Address

Mansehra

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hazara Matter posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share