04/08/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔
پیارے ہم وطنو! آج کی یہ گھڑی فیصلہ کن ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نظامِ حکومت کی نئی تعبیر میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کا جو نعرہ لگایا جا رہا ہے، اس کے پیچھے محض ایک خاموش مگر خطرناک حکمتِ عملی ہے۔
یہ منصوبہ عوام کی بہتری کے لیے نہیں، بلکہ عوام کو مزید تقسیم کرنے، ان کی آواز کو ٹکڑوں میں توڑنے اور کنٹرول کی گرفت کو مضبوط کرنے کی سوچ ہے۔
کیا آپ نے غور کیا؟ جب کوئی صوبہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائے، تو اسے اس کے ہمسایہ صوبے کے ذریعے دبایا جائے گا۔ یہ وہی پرانی چال ہے — "مقسم کرو اور حکومت کرو" — جسے جدید پیرائے میں پیش کیا جا رہا ہے۔
78 سال سے اس نظام نے عوام کا غم نہیں سمجھا۔ آج اچانک یہ بیداری؟ یہ جھوٹی شفقت ہے۔ یہ وہی بین الاقوامی پالیسی ہے جو انسان کو دن بہ دن قید کی سلاخوں میں بند کرتی جا رہی ہے — پہلے معاشی، پھر سماجی، پھر فکری قید۔
اور یہ سب کس کے لیے؟ اس نیٹو اور پینٹاگون کے بنائے ہوئے نظام کے لیے، جو اس خطے کو اپنی مرضی کا کھلونا بنا چکا ہے۔
مگر بھائیو اور بہنو! ہمارا واحد، روشن اور پُرسکون راستہ اُس خالص نظام کی طرف ہے — خلافتِ راشدہ — جہاں انصاف، مساوات اور شوریٰ حقیقی معنی رکھتے ہیں۔
وہ نظام جہاں انسان کو قید نہیں، آزادی ملتی ہے۔ جہاں تقسیم نہیں، اتحاد ہے۔ جہاں ظلم نہیں، عدل ہے۔
آؤ، اس خواب کو حقیقت بنائیں۔ آؤ، اپنے شعور کو بیدار کریں۔ آج کا فیصلہ کل کی تقدیر ہے۔
اللہ ہمیں حق کی راہ پر جمع رکھے۔ آمین
Copied