12/11/2025
تحریر: سبط الحسنین
"مار نہیں پیار؟ — جب نرمی راہزنی میں بدل جائے"
تعلیم کا مقصد صرف کتابیں رٹوانا نہیں بلکہ کردار سازی ہے۔ مگر آج کے تعلیمی ماحول میں ایک نعرہ بہت مقبول ہو چکا ہے:
“مار نہیں، پیار!”
یہ جملہ سننے میں خوش کن ضرور ہے، مگر اس کے سائے میں بگاڑ کی ایک خاموش آندھی چل رہی ہے۔
حالیہ چنیوٹ کے سکول کا واقعہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ بچے استاد کی بات کو مذاق سمجھنے لگے ہیں، ڈسپلن ایک کہانی بن گیا ہے، اور “چائلڈ فرینڈلی” کا مطلب بسا اوقات استاد فرینڈلی توہین بن گیا ہے۔
آج کل کے بچے جب دل کرے سکول آتے ہیں،
جب دل کرے چھٹی کر لیتے ہیں۔
نہ وقت کی پرواہ، نہ نظم و ضبط کا احساس۔
الٹا اساتذہ خوف زدہ رہتے ہیں کہ اگر افسرانِ بالا کا وزٹ ہو گیا تو بچوں کی غیر حاضری پر جواب دینا پڑے گا۔
اب یہ کیسا نظام ہے جہاں بچے آزاد ہیں اور استاد قیدی؟
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جہاں نصیحت کارگر نہ ہو، وہاں تادیب ضروری ہے۔
ہر جگہ "چائلڈ فرینڈلی" کا نسخہ نہیں چلتا۔
کچھ جگہوں پر خوفِ استاد ہی وہ بنیاد ہے جو بچے کو سنبھال کر رکھتی ہے۔
جب استاد کے چہرے سے احترام کا خوف مٹ جائے تو پھر نہ علم باقی رہتا ہے نہ تربیت۔
یہ وقت ہے کہ ہم اعتدال کی راہ اپنائیں —
نہ بے جا تشدد، نہ اندھی نرمی۔
جہاں بات پیار سے بن جائے، وہاں محبت کریں؛
لیکن جہاں بدتمیزی، بغاوت اور بے ادبی ہو،
وہاں ایک مضبوط ہاتھ، ایک سخت لہجہ ہی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔
یاد رکھیں:
ڈانٹ وہ نہیں جو توڑ دے،
بلکہ وہ ہے جو جوڑ دے —
جو بچے کے اندر چھپے انسان کو جگا دے۔
اگر آج ہم نے ڈسپلن واپس نہ لایا،
تو آنے والی نسل کتاب نہیں، طاقت کی زبان سمجھے گی۔
پھر نہ سکول بچے گا، نہ استاد۔
“If we let discipline die today, we will raise a ruined generation tomorrow.”