Tehreek Bahali-e-Naam Lyallpur

Tehreek Bahali-e-Naam Lyallpur This page has been created to restore the Lyallpur name and solve the problems of the city.
یہ پ?

ڈپٹی کمشنر فیصل آباد محمد نعمان صدیق کی شہر کی تاریخی شناخت، ثقافتی ورثہ اور "لائلپور" کے نام کی بحالی سے متعلق پیشگوئی ...
28/07/2026

ڈپٹی کمشنر فیصل آباد محمد نعمان صدیق کی شہر کی تاریخی شناخت، ثقافتی ورثہ اور "لائلپور" کے نام کی بحالی سے متعلق پیشگوئی
"لائلپور تحیصل لیول تک نام کی تبدیلی متوقع جبکہ 'ضلع کا نام فیصل آباد ہی رہے گا،
لائلپور سے فیصل آباد(کرائم ٹریسر)نام کی تبدیلی کی مکمل تاریخ
فیصل آباد کا پرانا نام لائلپور (Lyallpur) تھا۔ یہ شہر 1890ء میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران آباد کیا گیا۔ اس شہر کا نام اُس وقت کے پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر جیمز براڈووڈ لائل (Sir James Broadwood Lyall) کے نام پر لائلپور رکھا گیا، کیونکہ انہوں نے نہری کالونیوں کی آبادکاری اور زرعی ترقی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

لائلپور کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا گیا۔ شہر کا نقشہ برطانیہ کے جھنڈے یونین جیک سے متاثر ہو کر بنایا گیا، جس کے مرکز میں آج کا تاریخی گھنٹہ گھر تعمیر کیا گیا، جبکہ اس سے آٹھ بڑے بازار مختلف سمتوں میں نکلتے ہیں۔

نام فیصل آباد کب اور کیوں رکھا گیا؟

1977ء میں حکومتِ پاکستان نے لائلپور کا نام تبدیل کرکے فیصل آباد رکھ دیا۔ یہ نام سعودی عرب کے شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کی یاد میں رکھا گیا،

یوں، لائلپور کا نام برطانوی گورنر سر جیمز لائل کے نام پر رکھا گیا تھا، جبکہ 1977ء میں اسے تبدیل کرکے فیصل آباد رکھا گیا

ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ضلع و شہر کا نام لائلپور اور تحصیل کا نام بے شک فیصل آباد رکھ دیا جائے اور ہم لائلپور کے رہنے والوں کا تشخص بہال کیا جائے۔

ستارہ کیمیکل فیصل آباد کے مالک میاں ادریس پر ایف آئی اے کی FIR کا اردو ترجمہ 👇👇👇👇👇​وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کارپوریٹ س...
27/07/2026

ستارہ کیمیکل فیصل آباد کے مالک میاں ادریس پر ایف آئی اے کی FIR کا اردو ترجمہ

👇👇👇👇👇

​وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کارپوریٹ سرکل فیصل آباد کی انکوائری نمبر 27/2015 اور ایس آئی یو (SIU) ایف آئی اے کی انکوائری نمبر 11/2017 کے اختتام پر یہ بات سامنے آئی کہ ستارہ گروپ آف انڈسٹریز نے اپنی کمپنیوں میسرز ستارہ انرجی لمیٹڈ (SEL) اور میسرز ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ (SCIL) کے ذریعے، فیسکو (FESCO) کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر منظم دھوکہ دہی کی اسکیم کے تحت 2007 سے 2015 تک تقریباً 1,550,276,097 کلو واٹ آور (KWh) بجلی کی خرید و فروخت کے بہانے قومی خزانے کو تقریباً 11.96 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

​میسررز ستارہ انرجی لمیٹڈ (SEL) کو نیپرا (NEPRA) نے 2002 میں بنیادی طور پر اپنی ذاتی کھپت (Self-consumption) کے لیے بجلی پیدا کرنے کا لائسنس دیا تھا، جس کے تحت وہ SEL کی فراہم کردہ لسٹ کے مطابق صرف بلک پاور کنزیومرز (BPC) کو ہی اضافی بجلی بیچنے کی مجاز تھی، جس میں فیسکو (FESCO) شامل نہیں تھی۔ لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، میسرز SEL نے 8 ستمبر 2007 کو فیصل آباد میں فیسکو کے ساتھ بغیر کسی لازمی نیپرا منظوری کے، 3 سال کی مخصوص مدت کے لیے 25+5 میگاواٹ فرنس آئل (RFO) پر مبنی بجلی کا پاور پرچیز ایگریمنٹ (PPA) غیر قانونی طور پر کیا۔

​اس طرح کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے، نیپرا ایکٹ 1997 کے تحت فیسکو کے لیے نیپرا سے پاور ایکوزیشن ریکوئسٹ (PAR) کی منظوری حاصل کرنا پہلے سے لازمی شرط تھی۔ بعد ازاں 3 ستمبر 2010 کو، نیپرا کی اجازت کے بغیر اس معاہدے کی ایک سال یعنی 7 ستمبر 2011 تک غیر قانونی طور پر تجدید کی گئی۔ اس معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی فیسکو مارچ 2015 تک بغیر کسی معاہدے کے غیر قانونی طور پر بجلی خریدتا رہا۔

​انکوائری کے دوران جمع کیے گئے ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ ستارہ گروپ آف انڈسٹریز نے میسرز SEL کے ذریعے فیسکو کو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) کے منظور شدہ نرخوں کی غیر قانونی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتہائی مہنگے داموں بجلی بیچی، جبکہ مقررہ بلک پاور کنزیومرز (BPCs) کو فیسکو کے مقابلے میں بہت کم نرخوں پر بجلی فروخت کی گئی۔ دوسری طرف، اسی عرصے کے دوران، ستارہ گروپ آف انڈسٹریز نے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے فیسکو سے میسرز SCIL کے ذریعے کم یونٹ قیمت پر بجلی خریدی۔

​مزید برآں، اس منظم فراڈ کو انجام دینے کے لیے، مبینہ کمپنی میسرز SEL نے بدنیتی پر مبنی گمراہ کن دستاویزات جمع کرا کے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) سے رعایتی نرخوں پر گیس کنکشن حاصل کرنے کے لیے خود کو کیپٹیو پاور پلانٹ (CPP) ظاہر کیا، جبکہ نیپرا میں ان کا دعویٰ سمال پاور پروڈیوسر (SPP) کا تھا۔

یہ بھی انکشاف ہوا کہ نیپرا کے مبینہ حکام/انتظامیہ اپنا کلیدی ریگولیٹری کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔ فراڈ کے اس عرصے کے دوران، نیپرا مجرمانہ نیت کے ساتھ میسرز SEL کے نصب کردہ پلانٹ اور مشینری کا معائنہ کرنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں میسرز SEL صرف 47.68 میگاواٹ کا لائسنس ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر تقریباً 85 میگاواٹ تک بجلی پیدا کر کے بیچتی رہی۔ میسرز SEL نے متعلقہ حکام سے بجلی پیدا کرنے کی اس اضافی صلاحیت کو بھی چھپایا۔

​فیسکو کے مبینہ حکام اور انتظامیہ نے CPPA کے منظور شدہ ٹیرف سے ہٹ کر باہمی رضامندی سے طے شدہ زیادہ نرخوں پر SEL سے بجلی خریدی، جس سے ستارہ گروپ آف انڈسٹریز کو غیر قانونی مالی فائدہ پہنچایا گیا اور قومی خزانے کو تقریباً 11.96 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

مبینہ ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ (SCIL) فیسکو سے کم نرخوں پر بجلی حاصل کر رہی تھی اور دوسری طرف SEL فیسکو کو مہنگے نرخوں پر بجلی بیچ رہی تھی، باوجود اس کے کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے SEL اور SCIL کو مشترکہ ڈائریکٹرشپ کے تحت وابستہ (Associated) کمپنیاں قرار دے رکھا تھا۔

​انکوائری کے دوران کافی شواہد سامنے آئے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مبینہ ملزمان:

​جاوید اقبال ولد حاجی عبدالغفور (شناختی کارڈ: 9-5656681-33104)، سی ای او ستارہ انرجی لمیٹڈ (SEL) اور ڈائریکٹر SCIL

​محمد ادریس ولد حاجی بشیر احمد (شناختی کارڈ: 9-8359253-33100)، سی ای او ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ اور ڈائریکٹر SEL

​عمران غفور ولد حاجی عبدالغفور (شناختی کارڈ: 3-8871999-33100)، ڈائریکٹر SEL اور ڈائریکٹر SCIL

​محمد انیس ولد حاجی بشیر احمد (شناختی کارڈ: 9-8540703-33100)، ڈائریکٹر SCIL اور SEL

​مختار اے شیخ (شناختی کارڈ: 1-7272282-33100)، ڈائریکٹر ستارہ انرجی لمیٹڈ (SEL)

​احمد سعید اختر (شناختی کارڈ: 5-2256758-35202)، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) فیسکو

(بقیہ اگلے صفحے پر)

​تفصیلی متن (صفحہ 2)

​تنویر صفدر چیمہ (شناختی کارڈ: 3-4052048-35202)، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) فیسکو،

خورشید عالم (شناختی کارڈ: 9-9698631-37405)، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) فیسکو،

رشید احمد اسلم (شناختی کارڈ: 5-0750036-33100)، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) فیسکو

نے بدنیتی کے ساتھ، مذموم مقاصد کے لیے اپنے سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، مادی حقائق کو چھپایا، دھوکہ دہی کی، ریکارڈ میں ردوبدل (جعلسازی) کی، بجلی کے غیر قانونی لین دین میں سہولت کاری کی اور حکومتِ پاکستان کو بھاری مالی نقصان پہنچا کر نجی پارٹیوں کو ناجائز فائدہ پہنچایا۔

​انکوائری مکمل ہونے کے بعد، مذکورہ بالا مبینہ ملزمان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، جبکہ

برگیڈیئر (ریٹائرڈ) طارق رسول (شناختی کارڈ: 5-4774459-37405)، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) فیسکو،

افتخار احمد (شناختی کارڈ: 1-0441580-54400)، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) فیسکو،

ڈاکٹر رانا عبدالجبار (شناختی کارڈ: 9-4940598-34101)، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) فیسکو،

امتیاز حسین بلوچ ولد نور خان (شناختی کارڈ: 5-1396978-33202)،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (ADG) نیپرا،

محمد رمضان (شناختی کارڈ: 9-8665890-61101)، ڈپٹی رجسٹرار نیپرا

اور دیگر کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔

​چنانچہ مذکورہ ملزمان کے خلاف دفعات 5(2)47 PCA معہ 34، 109، 409، 419، 420، 467، 468 اور 471 PPC کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ زیرِ دستخطی (مضمون نگار) اس کیس کی تفتیش کریں گے۔ ایف آئی آر کی کاپیاں متعلقہ اعلیٰ دفاتر کو بھیجی جا رہی ہیں۔

​شاہد عمران (AD)
اسسٹنٹ ڈائریکٹر (تفتیش)
​لیٹر نمبر: DD/CC/FIA/ACC/FSD/C-35/2026/
​تاریخ: 18 جولائی 2026

لائلپور کے گمنام ہیروز (1)تاریخِ لائلپور کا ایک تحقیقی سلسلہ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭تحقیق و تدوین: سعید ندرت۔لائلپور کا پہلا...
30/06/2026

لائلپور کے گمنام ہیروز (1)
تاریخِ لائلپور کا ایک تحقیقی سلسلہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تحقیق و تدوین: سعید ندرت۔
لائلپور کا پہلا راج مستری کون تھا؟

یہ سوال شاید آپ کو عجیب لگے، مگر ذرا سوچئے...
ہم سب جانتے ہیں کہ لائلپور کی بنیاد 1890ء کی دہائی میں رکھی گئی۔
ہم گھنٹہ گھر کو بھی جانتے ہیں، آٹھ بازاروں کو بھی، پرانی عدالت، ریلوے اسٹیشن، نہریں اور ابتدائی عمارتیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔
مگر کیا ہم یہ جانتے ہیں کہ ان عمارتوں کی پہلی اینٹ کس نے رکھی تھی؟
کیا کسی کو اس راج مستری کا نام معلوم ہے جس نے گھنٹہ گھر کی بنیادوں میں اینٹیں چنیں؟
کیا کسی تاریخ کی کتاب میں اس معمار کا ذکر ہے جس نے آٹھ بازاروں کی پہلی دکان تعمیر کی؟
بدقسمتی سے، اب تک میری نظر سے گزرنے والی تاریخی کتابوں اور دستیاب ریکارڈ میں ان راج مستریوں کے نام محفوظ نہیں ملتے۔
تاریخ نے ہمیں یہ تو بتایا کہ منصوبہ کس نے بنایا، کس انگریز افسر نے نگرانی کی، اور شہر کب آباد ہوا؛ لیکن جن ہاتھوں نے اینٹ پر اینٹ رکھ کر لائلپور کو کھڑا کیا، ان کے نام خاموشی میں گم ہو گئے۔
سوچیے...
جب گھنٹہ گھر کی تعمیر شروع ہوئی ہوگی تو صبح سویرے بھٹوں سے اینٹیں آتی ہوں گی، چونا اور گارا تیار ہوتا ہوگا، مستری اپنے اوزار سنبھالتے ہوں گے، مزدور ٹوکریوں میں اینٹیں اٹھاتے ہوں گے، اور آہستہ آہستہ ایک ایسا شہر وجود میں آ رہا ہوگا جو آج پاکستان کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔
مگر آج نہ ان مستریوں کے نام معلوم ہیں، نہ ان کے خاندانوں کا ذکر، نہ ان کی قبریں نشان زد ہیں، نہ ان کی خدمات پر کوئی تختی نصب ہے۔

کیا یہ ہماری تاریخ کا ایک کھویا ہوا باب نہیں؟
میں "لائلپور کے گمنام ہیروز" کے عنوان سے اسی گمشدہ تاریخ کی تلاش شروع کر رہا ہوں۔
اگر آپ کے بزرگوں نے کبھی یہ بتایا ہو کہ ان کے والد، دادا یا پردادا لائلپور کی ابتدائی تعمیرات میں راج مستری، معمار یا تعمیراتی کاریگر تھے، یا آپ کے پاس کوئی پرانی تصویر، دستاویز، رجسٹر یا روایت موجود ہو، تو براہِ کرم ضرور شیئر کریں۔
ہو سکتا ہے آپ کے پاس محفوظ ایک نام، لائلپور کی تاریخ کا وہ گمشدہ صفحہ ہو جس کی ہمیں ایک صدی سے تلاش ہے۔

سوال برائے تحقیق:
کیا آپ کے خاندان میں کوئی راج مستری تھا جس نے پرانے لائلپور کی عمارتوں پر کام کیا؟
کیا کسی بزرگ نے گھنٹہ گھر یا آٹھ بازاروں کے معماروں کا ذکر کیا تھا؟
کیا کسی کے پاس ایسی تصویر، دستاویز یا زبانی روایت موجود ہے جو اس تحقیق میں مدد دے سکے؟
آئیے، مل کر لائلپور کے ان خاموش معماروں کو تاریخ میں ان کا جائز مقام دلائیں۔

نوٹ: اس سلسلے کا مقصد مستند تاریخی معلومات جمع کرنا ہے۔
صرف وہی معلومات شیئر کریں جن کی بنیاد خاندانی روایت، تحریری حوالہ یا قابلِ تصدیق ثبوت پر ہو۔

#لائلپور #معمار #ورثہ

07/06/2026

Faisalabad is the third largest city of Pakistan. It is known as P...

گیٹس چوک، ستیانہ روڈ،المعروف گیٹاں والا — کےنام کی حقیقت اور تاریخ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭لائل پور کی سڑکوں، چوکوں اور م...
05/06/2026

گیٹس چوک، ستیانہ روڈ،المعروف گیٹاں والا — کےنام کی حقیقت اور تاریخ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لائل پور کی سڑکوں، چوکوں اور محلوں کے نام اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔
انہی میں سے ایک معروف نام "گیٹس چوک" یا "گیٹ والا چوک"ہے، جو ستیانہ روڈ پر واقع ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر اس جگہ کو "گیٹس" کیوں کہا جاتا ہے؟
کیا یہاں کبھی کوئی تاریخی دروازے یا فصیل موجود تھی؟
یا یہ نام کسی اور وجہ سے مشہور ہوا؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں لائل پور کی ابتدائی تاریخ اور اس کی منصوبہ بندی کی طرف جانا پڑتا ہے۔
لائل پور کی منصوبہ بندی اور شہر کی حدود
لائل پور کی بنیاد برطانوی دورِ حکومت میں رکھی گئی۔
انگریزوں نے اس شہر کو ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت تعمیر کیا، جس کا نقشہ برطانوی پرچم "یونین جیک" سے متاثر تھا۔
شہر کے مرکز میں گھنٹہ گھر بنایا گیا اور اس سے آٹھ بازار مختلف سمتوں میں پھیلائے گئے۔
شہر کے گردونواح میں زرعی زمینیں، نہری کالونیاں اور نئی آبادیاں تھیں۔
اس دور میں شہر اور دیہی علاقوں کے درمیان واضح حد بندی موجود تھی۔ بعض مقامات پر نگرانی، آمدورفت کے کنٹرول اور محصولات کی وصولی کے لیے چیک پوسٹیں اور پھاٹک قائم کیے جاتے تھے۔
کیا گیٹس چوک پر واقعی کوئی عظیم الشان گیٹ موجود تھا؟
تاریخی شواہد کے مطابق ستیانہ روڈ کے موجودہ گیٹس چوک پر کبھی بھی قیصری گیٹ جیسا اینٹوں اور پتھروں سے تعمیر شدہ کوئی عظیم الشان تاریخی دروازہ موجود نہیں تھا۔
البتہ اس مقام کی اہمیت اس وجہ سے تھی کہ یہ شہر کی حدود اور بیرونی زرعی علاقوں کے درمیان ایک عبوری نقطہ سمجھا جاتا تھا۔
یہاں آمدورفت کی نگرانی اور بعض اوقات محصولات کی وصولی کے لیے چُنگی یا ناکہ قائم تھا۔
اس چنگی پر لوہے کے بیریئر، پھاٹک یا گیٹ نصب ہوتے تھے جنہیں گاڑیوں اور مال بردار سواریوں کی آمدورفت کے مطابق کھولا اور بند کیا جاتا تھا۔ مقامی لوگوں نے اسی نسبت سے اس مقام کو "گیٹ والا" کہنا شروع کردیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ "گیٹس چوک" کے نام سے مشہور ہوگیا۔
ایک دوسری روایت
بعض بزرگوں اور مقامی روایات کے مطابق، قیامِ پاکستان کے بعد جب پیپلز کالونی نمبر 1 اور اس سے ملحقہ رہائشی بلاکس آباد ہوئے تو مختلف داخلی راستوں پر حفاظتی لوہے کے گیٹ نصب کیے گئے تھے۔
یہ علاقہ ان متعدد داخلی راستوں کے قریب واقع تھا، اس لیے رفتہ رفتہ لوگ اسے "گیٹس" کے نام سے پکارنے لگے۔ ممکن ہے کہ موجودہ نام کے فروغ میں اس عنصر نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہو۔
قیصری گیٹ اور گیٹس چوک میں فرق
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ لائلپور کا اصل تاریخی اور یادگاری دروازہ "قیصری گیٹ"ہے جو ریل بازار کے باہر سرکلر روڈ پر واقع ہے۔
قیصری گیٹ 1897ء میں ملکہ وکٹوریہ کی تاج پوشی کے ساٹھ سال مکمل ہونے کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا۔
یہ ایک باقاعدہ تاریخی عمارت ہے، جبکہ گیٹس چوک کا نام انتظامی، جغرافیائی اور مقامی استعمال کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
جھال پل سے ستینہ روڈ اور ڈی گراؤنڈ تک ایک اہم گزرگاہ
ماضی میں جھلل پل، سلیمی چوک اور ستیانہ روڈ کا یہ پورا علاقہ شہر کے پھیلاؤ کی سمت شمار ہوتا تھا۔
وقت کے ساتھ آبادی بڑھتی گئی، نئی کالونیاں آباد ہوتی گئیں اور یہ مقام ایک اہم تجارتی و ٹریفک مرکز بن گیا۔
آج گیٹس چوک لائلپور کے مصروف ترین چوکوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہاں سے جھال پل، پیپلز کالونی، ستیانہ روڈ، ڈی گراؤنڈ اور دیگر اہم علاقوں کی طرف جانے والی ٹریفک گزرتی ہے۔
نام تو باقی رہ گیا، منظر بدل گیا
وقت نے اس علاقے کی شکل مکمل طور پر بدل دی ہے۔
وہ کھیت، کھلی زمینیں، ناکے اور چنگیاں اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کی جگہ بلند عمارتوں، بازاروں، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور تجارتی مراکز نے لے لی ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اصل منظر بدل جانے کے باوجود نام آج بھی زندہ ہے۔
"گیٹس چوک" سننے والا شاید کسی تاریخی دروازے کا تصور کرے، مگر درحقیقت یہ نام لائل پور کی شہری توسیع، انتظامی حدود اور پرانی چنگی یا پھاٹکوں کی ایک یادگار نشانی ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بعض اوقات عمارتیں ختم ہوجاتی ہیں، راستے بدل جاتے ہیں، مگر نام زندہ رہتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے ماضی کی کہانیاں سناتے رہتے ہیں۔
ستیا نہ روڈ کے اس مخصوص چوک پر ماضی میں کبھی بھی کوئی اینٹ یا پتھر کا باقاعدہ روایتی دروازہ (جیسے قیصری گیٹ) تعمیر نہیں کیا گیا تھا۔
لائل پور (فیصل آباد) کی تاریخ اور مقامی روایات کے مطابق، اس جگہ کو "گیٹس" کہنے کی دو بنیادی وجوہات ہیں:
چنگی یا ناکا (Toll Post/Check Post):
انگریز دور حکومت میں جب شہر پھیل رہا تھا، تو موجودہ ستیا نہ روڈ کے اس مقام پر شہر کی حدود ختم ہوتی تھیں اور دیہی یا زرعی رقبہ شروع ہوتا تھا۔
شہر میں داخل ہونے والے مال اور گاڑیوں سے ٹیکس وصول کرنے کے لیے یہاں ایک باقاعدہ چنگی (Toll Gate/Check Post) قائم کی گئی تھی۔
اگرچہ وہاں کوئی بڑا شاہی طرز کا دروازہ نہیں تھا، لیکن لوہے کا ایک بیریئر یا پھاٹک (Gate) ضرور تھا جسے ٹیکس کی وصولی کے بعد کھولا جاتا تھا۔ اسی مناسبت سے لوگ اسے "گیٹ والا چوک" کہنے لگے۔
کالونی کے داخلی راستے (Colony Gates):
قیامِ پاکستان کے بعد جب یہاں پیپلز کالونی نمبر 1 اور اس سے ملحقہ رہائشی بلاکس بنائے گئے، تو سیکیورٹی اور منصوبہ بندی کے تحت گلیوں یا مخصوص رہائشی زونز کے باہر لوہے کے حفاظتی گیٹ (Gates) نصب کیے گئے۔ یہ چوک ان متعدد داخلی راستوں کا مرکز تھا، جس کی وجہ سے یہ "گیٹس" کے نام سے مشہور ہو گیا۔
یہ کس زمانے میں بنے اور انہیں کس نے تعمیر کروایا؟
چونکہ لائل پور کی بنیاد انگریزوں نے رکھی تھی، اس لیے شہر کے اصل اور تاریخی دروازوں کی تاریخ درج ذیل ہے:
تعمیر کا زمانہ:
لائل پور شہر کی باقاعدہ منصوبہ بندی اور تعمیر کا آغاز 1892ء سے 1897ء کے درمیان برطانوی راج میں ہوا۔
کس نے تعمیر کروایا؟
لائل پور کے نقشے اور بنیادی ڈھانچے کے ماسٹر مائنڈ انگریز افسر کیپٹن پوپہم ینگ (Captain Popham Young) تھے، جبکہ تعمیراتی کاموں کے نگران مشہور آرکیٹیکٹ سر گنگا رام تھے۔
لائل پور کا اصل تاریخی گیٹ:
قیصری گیٹ (Kaiseri Gate)
اگر ہم فیصل آباد میں کسی مستند، تاریخی اور اینٹوں سے بنے عظیم الشان دروازے کی بات کریں، تو وہ صرف [قیصری گیٹ ہے جو ریل بازار کے باہر سرکلر روڈ پر واقع ہے
تعمیر:
قیصری گیٹ 1897ء میں ملکہ وکٹوریہ کے دورِ حکومت کے 60 سال مکمل ہونے کی خوشی میں انگریز حکومت نے تعمیر کروایا تھا۔
اس کی تعمیر کا مقصد ملکہ کی لائل پور آمد پر ان کا استقبال کرنا تھا
خلاصہ یہ کہ ستیا نہ روڈ کا "گیٹس" کوئی تاریخی عمارت یا مغل طرز کا دروازہ نہیں تھا، بلکہ یہ انگریز دور کی ایک پرانی چنگی اور بعد میں بننے والی رہائشی آبادیوں کے حفاظتی پھاٹکوں کی وجہ سے زبانِ زدِ عام ہوا جو آج بھی اسی نام سے پہچانا جاتا ہے۔
شہروں کی اصل تاریخ صرف کتابوں میں نہیں بلکہ لوگوں کی یادوں میں بھی محفوظ ہوتی ہے۔

لائلپور کی تاریخ کا ایک بھولا بسرا باب: بھگوان داس ملہوترا کی حویلیسعید اے ندرت یہ تاریخی تصویر لائلپور  کے قدیم اور مصر...
31/05/2026

لائلپور کی تاریخ کا ایک بھولا بسرا باب:
بھگوان داس ملہوترا کی حویلی
سعید اے ندرت

یہ تاریخی تصویر لائلپور کے قدیم اور مصروف ترین جھنگ بازار کے کارنر پر واقع ایک عظیم الشان حویلی کے بالائی حصے کی ہے۔ اس عمارت کی تعمیراتی نفاست اور اس پر لگا کتبہ اس کے ماضی کے بارے میں کئی چھپی ہوئی کہانیاں سناتا ہے۔

عمارت کے اوپر لگے کتبے پر انگریزی میں واضح طور پر نقش ہے:
"ایم ہربھگوان داس صاحب دتہ مل ملہوترا"۔
کتبے پر "EST. 1933" بھی لکھا ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حویلی 1933ء میں تعمیر کی گئی تھی۔
اگرچہ صارف کی معلومات کے مطابق یہ بھگوان داس ملہوترا کی حویلی ہے، کتبے پر نام 'ہربھگوان داس' ہے، جو شاید ان کے پورے نام یا فیملی کے نام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

تصویر میں حویلی کا خوبصورت اور پروقار اگلا حصہ نظر آ رہا ہے،
جو نوآبادیاتی دور کے فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔
بالکونی پر لوہے کا نفیس اور آرائشی جنگلا لگا ہوا ہے، جس کے پیچھے لکڑی کے فریم والے چار بڑے دروازے ہیں۔
ستونوں پر موجود آرائشی کام (کیپیٹلز) اور کتبے کی بناوٹ اس دور کے کاریگروں کی مہارت کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ حویلی صرف ایک رہائشی عمارت نہیں تھی بلکہ برِصغیر کی آزادی کی جدوجہد کے دور میں ایک اہم سیاسی مرکز بھی تھی۔
کانگریس کے مقامی رہنماء اور کارکنان اسی حویلی میں جمع ہو کر اہم میٹنگز، کانفرنسیں اور سیمنار منعقد کیا کرتے تھے، جہاں اہم سیاسی فیصلے کیے جاتے تھے۔

بدقسمتی سے، آج یہ تاریخی ورثہ خستہ حالی کا شکار ہے، جیسا کہ تصویر میں بھی نظر آ رہا ہے۔
دروازوں اور کھڑکیوں کے کچھ شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں، اور بالکونی کے نیچے لٹکتا ہوا کپڑا اور عمارت کی مجموعی حالت اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اس کی دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہے۔
ایسی عمارتیں ہماری تاریخ اور شناخت کا حصہ ہیں۔
کیا ہمیں اپنے اس قیمتی ورثے کو اس طرح نظر انداز کر دینا چاہیے؟

Eid ul Adhaa Mubarak ho
27/05/2026

Eid ul Adhaa Mubarak ho

"لیڈی باغ — لائلپور کی خواتین کی خوشیوں کا وہ سنہرا باب جو آج بھی یادوں میں زندہ ہے"٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ایک وقت تھا جب  ل...
24/05/2026

"لیڈی باغ — لائلپور کی خواتین کی خوشیوں کا وہ سنہرا باب جو آج بھی یادوں میں زندہ ہے"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک وقت تھا جب لائلپور کی خواتین کیلئے تفریح، آزادی اور خوشیوں کا سب سے خوبصورت نام “لیڈی باغ” ہوا کرتا تھا۔
یہ صرف ایک پارک نہیں تھا بلکہ شہر کی تہذیب، ثقافت اور خاندانی روایات کا ایک روشن استعارہ تھا۔
ضلع کونسل کے قریب قائم یہ باغ کئی دہائیوں تک خواتین اور بچیوں کیلئے مخصوص تفریحی مقام رہا، جہاں زندگی کی رونقیں اپنے پورے رنگ میں دکھائی دیتی تھیں۔
اس دور میں جب خواتین کیلئے کھلے عام تفریحی مقامات بہت کم تھے، لیڈی باغ ایک محفوظ اور خوشگوار دنیا کی مانند تھا، جہاں دور دور سے عورتیں، بچیاں اور خاندان خوشیاں سمیٹنے آیا کرتے تھے۔
عید کے دنوں میں تو اس باغ کی رونقیں دیدنی ہوتیں۔
گھروں سے تیاری کے بعد خواتین روایتی تانگوں میں بیٹھ کر لیڈی باغ پہنچتیں۔ تانگوں کی ٹاپوں کی آوازیں، بچوں کی خوشیاں، رنگ برنگے کپڑے، چوڑیوں کی کھنک اور مہندی کی خوشبو پورے ماحول کو ایک تہوار میں بدل دیتی تھی۔
لیڈی باغ کی سب سے بڑی پہچان اس کے مشہور “میلہ نما مینا بازار” تھے۔
یہ بازار صرف خریداری کی جگہ نہیں بلکہ خواتین کی سماجی اور ثقافتی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔
یہاں چوڑیاں، کپڑے، جیولری، کھلونے، گھریلو سامان، ہاتھوں پر لگتی مہندی، روایتی کھانے اور بچوں کیلئے جھولے — ہر طرف خوشیوں کی ایک دنیا آباد ہوتی تھی۔
پارک میں لگے جھولے، بچوں کی ہنسی، عورتوں کی گفتگو، ٹھیلوں سے اٹھتی چاٹ اور پکوڑوں کی خوشبو، اور شام ڈھلتے چراغوں کی روشنی آج بھی پرانی نسل کے دلوں میں زندہ ہے۔
یہ وہ جگہ تھی جہاں عورتیں چند لمحوں کیلئے گھریلو مصروفیات سے نکل کر آزاد فضا میں سانس لیتی تھیں۔
وقت گزرتا گیا…
شہر پھیلتا گیا…
اور لائلپور ایک بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں تبدیل ہوگیا۔
شہری ترقی، آبادی کے دباؤ اور تجارتی تعمیرات نے لیڈی باغ کی وسعت کو آہستہ آہستہ محدود کردیا۔
آج اس جگہ کا بڑا حصہ اپنی پرانی شناخت کھو چکا ہے۔
وہ وسیع سبزہ، جھولے، میلوں کی رونقیں اور مینا بازار اب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔
آج لیڈی باغ کا باقی ماندہ حصہ یونیورسٹی روڈ کے قریب موجود تو ہے، مگر اب اس کے گرد طبی اور تجارتی مراکز قائم ہوچکے ہیں۔
ہلالِ احمر اسپتال اس علاقے کی ایک نمایاں پہچان بن چکا ہے۔
نئی نسل شاید اس مقام کو صرف،
ایک عام شہری جگہ کے طور پر جانتی ہو، لیکن پرانی نسل کیلئے یہ جگہ یادوں، خوشیوں اور تہذیبی ورثے کا خزانہ ہے۔
لیڈی باغ اب شاید اپنی اصل صورت میں موجود نہیں، مگر اس کی خوشبو آج بھی لائلپور کی تاریخ کے صفحات میں بسی ہوئی ہے۔
یہ اس دور کی یاد دلاتا ہے جب خوشیاں سادہ تھیں، میل جول خالص تھا، اور ایک باغ پورے شہر کی عورتوں کیلئے مسرت کی دنیا بن جایا کرتا تھا۔

“کچھ جگہیں ختم نہیں ہوتیں…
وہ صرف یادوں میں منتقل ہوجاتی ہیں۔”

لائلپور میں جنم لینے والی مشہور غیر مسلم ہستیاں۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭اس پوسٹ میں جن شخصیات کو “Legends of Lyallpur” کے...
14/05/2026

لائلپور میں جنم لینے والی مشہور غیر مسلم ہستیاں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس پوسٹ میں جن شخصیات کو “Legends of Lyallpur” کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق لائلپور یا اس خطے کی سماجی و تاریخی یادوں سے جوڑا جاتا ہے۔

1۔ Arjan Singh مارشل ارجن سنگھ۔
ارجن سنگھ 15 اپریل 1919 کو لائلپور میں پیدا ہوئے۔ وہ بعد میں بھارتی فضائیہ کے عظیم ترین افسروں میں شمار ہوئے۔
دوسری جنگِ عظیم میں انہوں نے برما محاذ پر خدمات انجام دیں اور بہادری پر Distinguished Flying Cross حاصل کیا۔
1965 کی جنگ کے دوران وہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ تھے۔
2002 میں انہیں بھارتی فضائیہ کے واحد فائیو اسٹار رینک “Marshal of the Air Force” سے نوازا گیا۔
ان کی شخصیت نظم، قیادت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

2۔ Bhagat Singh بھگت سنگھ۔
بھگت سنگھ 27 ستمبر 1907 کو ضلع لائلپور کے علاقے بنگا میں پیدا ہوئے۔
وہ برصغیر کے معروف انقلابی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
نوجوانی ہی سے برطانوی سامراج کے خلاف سرگرم رہے۔
انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 23 مارچ 1931 کو لاہور میں انہیں پھانسی دی گئی، اور وہ برصغیر کی انقلابی تاریخ کی ایک علامت بن گئے۔

3۔ Teji Bachchan تیجی بچن۔
تیجی بچن ایک تعلیم یافتہ، ادبی اور سماجی شخصیت تھیں۔ وہ مشہور شاعر Harivansh Rai Bachchan کی اہلیہ اور معروف اداکار Amitabh Bachchan کی والدہ تھیں۔
وہ سماجی سرگرمیوں، ادب اور ثقافتی حلقوں میں اپنی پہچان رکھتی تھیں۔ ان کی شخصیت نے بچن خاندان کی فکری اور تہذیبی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

4- Prithviraj Kapoor پرتھوی راج کپور۔
پرتھوی راج کپور برصغیر کے ابتدائی عظیم اداکاروں اور تھیٹر کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے فلم اور اسٹیج دونوں میدانوں میں بے مثال کام کیا۔
انہوں نے Prithvi Theatre کی بنیاد رکھی، جس نے برصغیر کے تھیٹر کو نئی شناخت دی۔
کپور خاندان کی فلمی روایت انہی سے شروع ہوئی۔
پرتھوی راج کپور (1906–1972): سمندری، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے، وہ ہندی سنیما کے مشہور کپور خاندان کے سرپرست اور پرتھوی تھیٹر کے بانی تھے۔
پرتھوی راجکپور بعد میں پشاور چلے گئے،راج کپور کا تعلق بھی اسی خاندان سے تھا،اور وہ پشاور میں پیدا ہوا تھا، لیکن ان کے خاندان کا اصل تعلق سمندری ہی سے تھا۔۔۔
ترلوک کپور: پرتھوی راج کپور کے چھوٹے بھائی اور اداکار تھے۔

5- Yamla Jutt یملا جٹ (محمد شریف)
یملا جٹ برصغیر کے عظیم پنجابی لوک گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی آواز دیہی پنجاب کی روح سمجھی جاتی تھی۔ ان کے گائے ہوئے لوک گیت، ماہئے، ٹپے اور درد بھرے نغمے پنجاب کے شہروں اور دیہات میں بے حد مقبول رہے۔
ان کا تعلق لائلپور کے علاقے سے جوڑا جاتا ہے، اسی لیے انہیں بعض تاریخی و ثقافتی حوالوں میں “لائلپور کی لیجنڈ شخصیات” میں شامل کیا جاتا ہے۔
ان کے گیتوں میں پنجابی ثقافت، محبت، جدائی، دیہی زندگی اور انسانی جذبات کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ ان کی گائیکی نے بعد کے بے شمار پنجابی گلوکاروں کو متاثر کیا۔

6- پرکاش سنگھ (Victoria Cross) — لائلپور کا بہادر سپوت.
پرکاش سنگھ 31 مارچ 1913 کو ضلع لائلپور کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک سکھ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ نوجوانی میں انہوں نے فوجی زندگی اختیار کی اور 1936 میں برٹش انڈین آرمی میں شامل ہوئے۔ وہ 8th Punjab Regiment کا حصہ بنے۔

دوسری جنگِ عظیم میں غیر معمولی بہادری
1943 میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران برما (موجودہ میانمار) کے محاذ پر جاپانی افواج کے خلاف شدید لڑائی جاری تھی۔ اسی دوران پرکاش سنگھ نے ایسی جرات دکھائی جس نے انہیں تاریخ میں امر کر دیا۔
6 جنوری 1943 کو ڈونبائیک (Donbaik) کے محاذ پر دشمن کی شدید گولہ باری کے باوجود انہوں نے اپنی بکتر بند گاڑی آگے بڑھائی اور اپنے زخمی ساتھیوں کو میدانِ جنگ سے نکال کر محفوظ مقام تک پہنچایا۔ چند دن بعد 19 جنوری کو انہوں نے دوبارہ جان کی پرواہ کیے بغیر دشمن کی فائرنگ میں پھنسے مزید ساتھیوں کو بچایا۔ ان کی یہ جرات، ثابت قدمی اور فرض شناسی غیر معمولی سمجھی گئی۔

Victoria Cross کیا ہے؟
Victoria Cross برطانوی سلطنت کا سب سے بڑا فوجی اعزاز تھا، جو دشمن کے سامنے غیر معمولی بہادری پر دیا جاتا تھا۔ پرکاش سنگھ کو یہی اعزاز عطا کیا گیا، جو اس زمانے میں بہت کم سپاہیوں کو ملتا تھا۔

بعد کی زندگی
بعد میں انہیں فوج میں ترقی ملی اور وہ میجر کے عہدے تک پہنچے۔ تقسیمِ ہند کے بعد بھی انہوں نے فوجی خدمات جاری رکھیں۔ ان کی فوجی خدمات تقریباً تین دہائیوں پر محیط رہیں۔
1991 میں لندن میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کا Victoria Cross آج بھی Imperial War Museum میں محفوظ بتایا جاتا ہے۔

"ڈی ٹائپ کالونی کے قدیم اینٹوں کے گول ستون — لائلپور کی خاموش  اور مٹتی ہوئی وراثت"٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ڈی ٹا...
13/05/2026

"ڈی ٹائپ کالونی کے قدیم اینٹوں کے گول ستون —
لائلپور کی خاموش اور مٹتی ہوئی وراثت"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ڈی ٹائپ کالونی کے قدیم اینٹوں کے گول ستون
لائلپور اپنی صنعتی ترقی، گھنٹہ گھر اور آٹھ بازاروں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ مگر اس شہر کی اصل تاریخ صرف بڑی عمارتوں یا مشہور بازاروں میں نہیں بلکہ اُن خاموش نشانیوں میں بھی پوشیدہ ہے جو آج بھی سڑکوں کے کنارے کھڑی ماضی کی داستان سناتی ہیں۔
ڈی ٹائپ کالونی کی مرکزی شاہراہوں پر نظر آنے والے سرخ اینٹوں کے گول ستون انہی تاریخی یادگاروں میں شامل ہیں۔

یہ ستون دراصل 1960ء کی دہائی میں نصب کیے گئے قدیم سیوریج و وینٹیلیشن سسٹم کا حصہ تھے۔ اُس دور میں لائلپور تیزی سے ایک زرعی منڈی سے صنعتی شہر میں تبدیل ہورہا تھا۔ نئی کالونیاں آباد ہورہی تھیں، ٹیکسٹائل ملیں قائم ہورہی تھیں اور آبادی مسلسل بڑھ رہی تھی۔ شہری ضروریات کے پیش نظر حکومت نے جدید نکاسیٔ آب اور سیوریج نظام متعارف کروایا، جس کے تحت یہ منفرد ستون تعمیر کیے گئے۔

ان ستونوں کی بناوٹ اور طرزِ تعمیر
یہ گول ستون نما پلرز سرخ اینٹوں سے بنائے گئے تھے۔
ان کی ساخت نہایت منفرد اور سوچے سمجھے انداز میں تیار کی گئی تھی۔ ستون کے اوپر ایک ہلکی سی باہر نکلی ہوئی گول چھت بنائی جاتی تھی تاکہ بارش کا پانی براہِ راست اندر داخل نہ ہوسکے۔
اسی چھت کے نیچے چھوٹے طاق نما سوراخ یا جھروکے بنائے جاتے تھے، جن کا مقصد زیر زمین سیوریج لائنوں سے نکلنے والی گندی اور زہریلی گیسوں کا اخراج تھا۔

یہ طاق نما وینٹیلیشن حصے نہ صرف انجینئرنگ ضرورت تھے بلکہ ان میں ایک خاص جمالیاتی انداز بھی موجود تھا، جس سے یہ ستون سادہ سرکاری ڈھانچے کے بجائے شہری منظرنامے کا حصہ محسوس ہوتے تھے۔

ان ستونوں کا اصل مقصد
زیر زمین گٹروں اور سیوریج لائنوں میں وقت کے ساتھ مختلف قسم کی خطرناک گیسیں پیدا ہوتی ہیں، جن میں خاص طور پر میتھین اور ہائیڈروجن سلفائیڈ شامل ہیں۔ اگر یہ گیسیں بند نالوں میں جمع رہیں تو شدید بدبو، دباؤ اور حتیٰ کہ دھماکے کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

ان ستونوں کا کام ان گیسوں کو محفوظ انداز میں فضا میں خارج کرنا تھا تاکہ زیر زمین نکاسیٔ آب کا نظام درست طریقے سے کام کرتا رہے۔
اسی وجہ سے یہ ستون زیادہ تر کشادہ سڑکوں یا چوراہوں کے قریب تعمیر کیے جاتے تھے تاکہ ہوا گیسوں کو جلد منتشر کرسکے۔

برطانوی منصوبہ بندی کی جھلک
اگرچہ یہ ستون 1960ء کی دہائی میں تعمیر ہوئے، مگر ان کی منصوبہ بندی میں برطانوی دور کے شہری ڈیزائن کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔
لائلپور کو ابتدا ہی سے ایک باقاعدہ منصوبہ بند شہر کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا، جہاں سڑکیں، بازار اور نکاسیٔ آب ایک منظم گرڈ سسٹم کے تحت بنائے گئے تھے۔ بعد میں پاکستانی انجینئرز نے انہی اصولوں کو جدید شہری ضروریات کے مطابق استعمال کیا۔

آج کی صورتحال
وقت کے ساتھ لائلپور کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور پرانا سیوریج نظام ناکافی ہوتا گیا۔ 1978ء میں واسا فیصل آباد کے قیام کے بعد جدید نکاسیٔ آب کے منصوبے شروع کیے گئے، جس کے نتیجے میں یہ پرانے وینٹیلیشن ستون آہستہ آہستہ منظر سے غائب ہوتے گئے۔

آج ڈی ٹائپ اور چند پرانے علاقوں میں موجود یہ باقی ماندہ ستون دراصل اُس دور کی شہری ترقی، انجینئرنگ مہارت اور منصوبہ بندی کی یادگار ہیں۔
اکثر لوگ ان کے پاس سے گزرتے ہوئے شاید یہ نہ جانتے ہوں کہ یہ خاموش اینٹوں کے مینار کبھی شہر کے زیر زمین نظامِ صفائی کے محافظ تھے۔

ایک فراموش شدہ ورثہ
یہ ستون صرف اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ لائلپور کے ارتقائی سفر کی ایک زندہ نشانی ہیں۔
یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ایک شہر کی ترقی صرف بلند عمارتوں سے نہیں ہوتی بلکہ اُن بنیادی نظاموں سے ہوتی ہے جو خاموشی سے شہری زندگی کو محفوظ اور فعال رکھتے ہیں۔

آج بھی جب سورج کی روشنی ان سرخ اینٹوں پر پڑتی ہے تو محسوس ہوتا ہے جیسے ماضی کا لائلپور اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہو۔

Address

P-157 Mehr Sadiq Market Railway Road Lyallpur
Lyallpur

Telephone

+923008653828

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tehreek Bahali-e-Naam Lyallpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Tehreek Bahali-e-Naam Lyallpur:

Shortcuts

Share