26/12/2021
ژوب کی اس بہن کی آواز بنو
ژوب : ژوب کے رہائشی خاتون ماریہ بی بی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکے شوہر بیوٹمز ژوب کیمپس میں لیکچرر ہے انہوں نے کہا کہ 17 اگست 2021 کو بیوٹمز ژوب کیمپس کے ڈائریکٹر تین دیگر افراد کے ہمراہ انکے گھر میں زبردستی گھس آئے ملزمان انکے شوہر کو گالیاں دینے کے ساتھ حملہ آور بھی ہوئے مذکورہ افراد نے چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا. اس واقعے کے بعد پڑوس میں رہنے والے مذکورہ ڈائریکٹر کے اہل خانہ سے وضاحت چاہی اس حوالے سے مذکورہ افیسر کی بیوی نے کال کر کے واقعے کی معذرت کرتے ہوئے واقعے کا یونیورسٹی سے تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی جس کی ریکارڈنگ انکے ساتھ محفوط ہے. انہوں نے کہا کہ اس پر ہم خاموش رہے. 6 ستمبر 2021 کو شوہر کے ہمراہ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی مگر کمیٹی نے بغیر صفائی کا موقع دئیے اور موقف سنے بغیر میرے شوہر کو ایک نامعلوم کیس میں معطل کیا (معطلی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کی گئی ہے) انہوں نے کہا کہ اس دوران ڈائریکٹر نے اپنے مخصوص طلبا کے توسط سے سوشل میڈیا پر اپنے استعفیٰ کا شوشہ چھوڑا اور پھر انہی عناصر کے فرضی استدعا پر اپنے استعفیٰ کو واپس لیا حالانکہ ڈائریکٹر نے استعفی دیا ہی نہیں تھا مذکورہ ڈائریکٹر واقعے کے بعد ہمیں مختلف طریقوں سے ہراساں کرتے ہوئے کرائے کی پرائیویٹ مکان خالی کرانے اور علاقے کے بااثر افراد کے ذریعے دھمکا رہے ہیں. 13 ستمبر کو وائس چانسلر, پرو وائس چانسلر اور رجسٹرار BUITEMS کو تحریری درخواست دی کہ ہمیں سنا جائے کیونکہ اصل واقعہ کچھ اور ہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی. 20 ستمبر 2021 کو گورنر بلوچستان/چانسلر BUITEMS کو بھی تحریری درخواست دی اور 23 نومبر 2021 کو بالمشافہ ملاقات بھی کی لیکن کارروائی کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود گورنر ہاوس کے نچلے لیول کے ملازمین کی ملی بھگت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے ابھی تک میری درخواست پر کوئی بھی کارروائی نہیں کی گئی. انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی پولیس نے بھی غلط انکوائری کی جس کی رپورٹ بھی نہیں دی جا رہی ہے. انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر کو مبینہ طور پر ملازمین کے گھروں میں گھسنے اور جاسوسی کرنے کی اختیار کس نے دی ہے؟ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یونیورسٹی حکام اپنی پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں. مجھے اپنے شوہر کی دو ٹکے کی ملازمت بچانے کی کوئی فکر نہیں مگر اپنے چادر, چاردیواری کے تقدس کی پامالی اور عزت نفس کی بحالی کے لئے قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے ہر ممکن حد تک جاوں گی. انہوں نے گورنر بلوچستان, وائس چانسلر بیوٹمز اور آئی جی پولیس سے ہراساں کرنے گھر میں گھسنے کے واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یا ان کے بچوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری ڈائریکٹر بیوٹمز ژوب کیمپس سمیت دیگر چار افراد پر عائد ہو گی