23/06/2025
توجہ طلب۔۔۔
محترمہ۔کمشنر صاحبہ بہاول پور
جناب محترم ڈپٹی کمشنر صاحب رحیم یار خان
لیاقت پور چوک فوارہ سے عباسیہ روڈ پر سپیڈ بریکر کے ناکام تجربہ کے بعد سپیڈ بریکر ہٹا دئیے گئے ۔۔۔
بعد ازاں روڈ کی خوبصورتی یا ون وے کا ٹچ دینے کیلئے میٹل ڈیوائڈر لگا دئے گئے جو فاصلہ پر لگانے کی بجائے ڈبل رو میں جوڑ کے لگائے گئے تاکہ رانگ سائیڈ سے اگر اوور ٹیک کرنا ہوتو سپیڈ آہستہ کر کے دوسری سائیڈ پہ جایا جا سکے۔(اچھی بات ہے)
لیکن اب چوک فوارہ سے گرڈ اسٹیشن تک سیمیٹڈ بلاک رکھ دئیے گئے ہیں جن کی منطق سمجھ نہیں آ رہی ۔۔
اگر روڈ کو ون وے کرنا مطلوب ہے تو پہلے اس روڈ کی دونوں طرف سے توسیع کی جائے اور سڑک کے درمیان میں کھڑے درخت اور بجلی کے پول اور ناجائز تجاوزات کو ختم کرایا جائے پھر ون وے کا مقصد پورا ہوتا ہے۔۔۔
لیکن اگر ایسا بھی کیا جائے تو حکومت پنجاب کے پاس اتنا وافر بجٹ ہے کہ وہ بار بار ناکام تجربات کرکے ضائع کیا جائے۔۔۔۔؟
پہلے سپیڈ بریکر پر فنڈز ضائع ہوئے۔۔۔۔؟
پھر میٹل ڈیوائڈر لگائے گئے ۔۔؟اب اگر سیمیٹڈ بلاک ڈیوائڈر لگائے جائیں گے تو اس فنڈز کے غلط استعمال کا ذمہ دار کون ہے جو میٹل ڈیوائڈر پہ لگایا گیا۔۔۔کیونکہ ان کو اکھاڑے بغیر سیمیٹڈ بلاک نہیں لگائے جا سکتے۔۔۔۔
اک اہم سوال ہے یہ۔۔؟
باوثوق ذرائع سے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ سٹی تھانہ میں پٹرول پمپ لگایا جارہا ہے۔PSO کمپنی کے پمپ کی منظوری روڈ کے ون وے ہونے سے مشروط ہے کیونکہ سنگل روڈ پہ PSO منظوری نہیں دیتا اس لئے عارضی طور پر یہ بلاک رکھے گئے ہیں کمپنی کے وزٹ کے بعد ہٹا لئے جائیں گے۔۔۔۔۔
اگر ایسا ہے تو بھی انتظامیہ کیلئے افسوس کا مقام ہے کہ کسی فرد واحد کے ذاتی مفاد کیلئے پورے علاقہ کی عوام کو مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔۔
چوک فوارہ سے گرڈ اسٹیشن تک دونوں اطراف میں آپ کسی گاڑی کو اوور ٹیک نہیں کر پائیں گے۔۔۔وجوہات جو بھی ہوں دونوں صورتوں میں نقصان عوام کا ہی ہورہا ہے اس کے ٹیکس کا پیسہ بے دردی سے ضائع کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔
ڈپٹی کمشنر صاحب سے نوٹس لینے کی اپیل ہے کہ عوام کیلئےآسانیاں پیدا کی جائیں۔۔۔
شکریہ۔۔۔