03/11/2022
تمہیں پتہ ہے میں ایک لکھاری ہوں جس نے اپنی تحاریر میں تمہیں مکمل عبارت کرنے کی ٹھان لی تھی. تخیل کے آخری خوشے پر جا کر تمہارے وجود کو تراشا ، بدن کو چاندی ، آنکھوں کو نیلم، لبوں کو گلاب اور رخسار کو نار کیا مگر افسوس کہ میرا ذوق، میرا یہ وصف اور ساری سعی رائیگاں رہی میں تمہاری سپردگی و عنایت کی اصل قیمت نہ چکا سکا. میں تمھیں روکنے ٹوکنے یا پھر ہر موڑ پر سمجھانے سے زیادہ ساتھ دینے پر ترجیح دیتا۔
مگر یہ دنیا میرے خوابوں کے لیے موزوں جگہ نہیں سو آج میں سفید عَلم بلند کر کے اپنی ہار کے ساتھ تمہیں اپنے قلم سے آزاد کرتا ہوں. لکھے گئے سب اورق جلا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔میں دو سیاروں کے نہ ملنے کی کہانی مٹا رہا ہوں ننھے الو کا گلا گھونٹ کر ہزاروں سالہ پرانی کسی شکستہ صلیبی قبر میں دفنا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔
لیکن تم جاؤ اور جو تصویر ادھوری رہ گئی اس کو مکمل کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی اس مکمل تصویر کو عشق و ضبط کی رعنائی سے عبارت کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس تصویر کی تازگی کے لئے مایوسی کا رنگ نکال دو کیونکہ تم تو جانتے ہو تم مجھے اداس اچھے نہیں لگتے تو جاؤ زندگی کو سینے سے لگا لو اور جب جب تمھیں لگے تم تھک چکے ہو، یا تھکا دیے گئے یا گرنے لگے ہو تو میرا نام پکار لینا، میں ہوؤں یا نہ ہوؤں لیکن یہ نام تمھیں راحت دے گا