23/07/2025
نکاح کے مقاصدوفوائد
مقصد نمبر:۱… نکاح عبادت ہے:
نکاح بذاتِ خود اطاعت اور عبادت ہے، اور نفل عبادت سے افضل ہے۔
مقصد نمبر:۲… تقویٰ کا حصول:
نکاح کا ایک بڑا مقصد پرہیزگاری اور تقویٰ ہے۔
مقصد نمبر:۳… جنسی تسکین کا ذریعہ:
فطری طور پر مرد وعورت کے اندر جنسی خواہشات رکھی گئی ہیں، لذت ایک ایسی شئے ہے جس کا طالب نہ صرف انسان ہے، بلکہ ہر حیوان اس کا طالب ہے۔ وہ بذات خود قابل مذمت چیز نہیں ہے، قابل مذمت وہ اس وقت قرار پاتی ہے جب اس کا غلط استعمال کیا جائے اور امور خیر کو ترک کرکے ناروا مقامات کو اس کے استعمال کے لئے منتخب کیا جائے۔ اس فطری جذبے کو پورا کرنے کا حلال راستہ یہی نکاح ہے۔نکاح چھوڑنے سے کئی فتنوں میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔ قدرتی طور پر انسان کے اندر جو شہوت کا مادہ ہے، یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔اگر نکاح نہ ہو تو ناجائز طریقے سے یہ تقاضا پورا کرنے کی طرف میلان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے حرام سے بچنے کے لئے یہ حلال راستہ رکھا ہے۔
مقصد نمبر:۴…اولاد کا حصول :
اولاد کا طلب کرنا بھی نکاح کے مقاصد میں سے ہے، نسل انسانی کی بقا بھی اسی سے ممکن ہے۔ اس مقصد کے حصول پر حدیث میں بڑی تاکید آئی ہے کہ ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو زیادہ بچے جننے والی ہوں۔
مقصد نمبر:۵…امت محمدیہؐ کے افراد میں اضافہ:
امت محمدیہ کے افراد کا زیادہ ہونا بھی ایک اہم مقصد ہے، جس کی حضور ا نے تمنا فرمائی، آپ ا نے ارشاد فرمایا کہ: میں تمہاری کثرت پر قیامت کے دن فخر کروں گا۔اسی طرح قومی طاقت اور توانائی کا دارومدار کثرتِ آبادی اور ان کی مادی اوراندرونی قوت پر منحصر ہے۔
مقصد نمبر:۶…آرام وراحت کا حصول:
نکاح کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ وہ سکون وآرام اور راحت کا ذریعہ ہے، جی بہلانے کا ذریعہ ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
’’ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوْا إِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً ‘‘۔ (الروم:۲۱)
ترجمہ:’’ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تم میں سے جوڑے بنائے، تاکہ تم ان سے آرام پکڑو اور تم میں محبت اورنرمی رکھ دی‘‘۔
مقصد نمبر:۷… طبی طور پر جسمانی امراض سے بچاؤ :
نکاح کئی بیماریوں اور امراض سے بچاؤ کا بھی ذریعہ ہے۔نکاح نہ کرنے والے مادہ منویہ روکنے کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں، کیونکہ انسان کا یہ مادہ جب کافی عرصہ تک بند رہتا ہے تو اس کا زہریلا اثردماغ تک چڑھ جاتا ہے، اور بسا اوقات اُنہیں مالیخولیا کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔
نیویارک مینٹل ہاسپٹل کے میڈیکل انچارج ڈاکٹر ہاولبرگ کہتے ہیں:
’’مینٹل ہاسپٹل میں عام طور پر مریض اس تناسب سے داخل ہوتے ہیں کہ ان میں ایک شادی شدہ ہوتا ہے تو چار غیر شادی شدہ ہوتے ہیں‘‘۔ (تحفۃ العروس)
برٹلن کے ترتیب دیئے ہوئے اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کی نسبت غیر شادی شدہ کہیں زیادہ خودکشی کے مرتکب ہوتے ہیں، جبکہ اکثر شادی شدہ افراد کی دماغی اور اخلاقی حالت نہایت متوازن اور ٹھوس ہوتی ہے، ان کی زندگی میں ٹھہراؤ ہوتا ہے۔ اور جیسا کجرو اور سوداوی مزاج بہت سارے بن بیاہے نوجوانوں کا ہوتا ہے، شادی شدہ جوڑوں میں اُس طرح نہیں پایا جاتا۔ نیز یہ بھی مشاہدہ ہے کہ شادی شدہ خواتین ہر چند کہ بچہ جننے، ماں بننے اور خانہ داری اور ازدواجی زندگی، غرض زندگی کے بے شمار مسائل میں گھری ہوتی ہیں، پھر بھی دوسری غیر شادی شدہ عورتوں کے مقابلہ میں ان کی عمریں خاصی طویل ہوتی ہیںاور وہ ان کے مقابلہ میں زیادہ مطمئن اور خوش ہوتی ہیں۔