18/08/2026
مغلیہ دور سے دور حاضر تک
دھوکے بازی اور بدعنوانی کا تسلسل
تحریر : ڈاکٹر زرقانسیم غالب
آج کچھ حقائق کہانی کی صورت میں رقم کرنے جا رہی ہوں ہم قلم کار اپنے دل کی بات مشاہدات تجربات قلم کے ذریعے قارئین تک پہنچاتے ہیں اور اگر ان میں صداقت ہو تو اثر کرتی ہے آج کی تحریر آپ کو بہت سی باتوں سے آگاہی دے گی
مغلیہ سلطنت کے عہد میں ایسے عہدیداران تھے جنہوں نے اپنی عیاری اور موقع پرستی کو بروئے کار لاتے ہوئے بادشاہ کو دھوکہ دیا ناصرف خزانے لوٹنے ایسی خطرناک بساط بچھائی جاتی جس سے تمام رعایا بجائے بادشاہ کے اس عہدہ دار چاہے منشی ہو اس سے ڈرتے کیونکہ ان کا کہنا کہ جو کچھ بھی ہے میں ہی میں ہوں خزانے کو لوٹنا ہوتا یا خود کی پہچان بنانا اپنا نام چلانا یہ ہی من مانی چلتی بڑے مکاری سے اپنی پسند کے لوگوں کو منتخب کرتے اور بادشاہ کے سامنے انہیں مظلوم و غریب ظاہر کر کے دکھایا جاتا تاکہ سلطنت اس کے حکم ماننے والوں سے بھر جائے اس کے برعکس جو لوگ شعور والے ہوتے انہیں گرانے کی کوشش کی جاتی مغلیہ سلطنت کے زوال میں ان بدکار مکار و عیار منشی کا بڑا ہاتھ تھا کئ مثالیں موجود ہیں تاریخ گواہ ہے ہمیشہ کسی بھی حکومت کو زوال ملا ایسے ہی مکاروں سے ملا
یہ کہانی شروع ہوتی ہے اب ۔۔۔
یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ آج کے دور میں بھی ایسے ملازموں کی عکاسی کرتا ہے جو عہدوں پر فائز ہوکر نظام کو اپنی ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں
اسی طرح دور حاضر میں بھی وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے یہ نظام رنگ بدل کر سامنے آرہا ہے اب منشیوں نے مینجر اور ایڈمن کی صورت ڈھال لی ہے کسی بھی ادارے تنظیم کسی بھی پروجیکٹ میں جب ایسے بدکاروں کو عہدہ ملتا ہے جس کے وہ اہل نہیں ہوتے تو وہ خود کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں
آج کے کسی بھی ادارے تنظیم پروجیکٹ کے سی او آج کے بادشاہ اور ملکہ ہیں کیونکہ آج کے دور میں خواتین بھی کئ ادارے تنظیم اور پروجیکٹ پر کام کر رہی ہیں انہوں نے بھی اپنی آستین میں سانپ پال رکھے ہیں جن پر انہوں نے حد سے تجاوز بھروسہ کیا اور اسی بھروسے کو ان عیار منیجر ایڈمن نے توڑا اور اگر آج کے سی ای او اپنی عقابی نگاہ سے یہ محسوس کر لیں کہ کہیں کچھ غلط ہے تو وہ اس مینجر ایڈمن سے اوپر یا تو انچارج تعینات کر لیتے ہیں یا ایم ڈی تاکہ حق سچ ان کے سامنے آجائے اور کچھ اللہ بھی ان پر مہربان ہو جاتا ہے کیونکہ وہ تو صاف دلی سے بھروسہ کر کے اپنے تمام امور ان کے ذمہ کر دیتے ہیں اس بات سے انجان کہ کیسے یہ دھوکہ دہی سے انہیں اندر سے دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر رہے ہیں اور جب ایم ڈی (مینجنگ ڈائریکٹر) یا انچارج پروجیکٹ جب آتے ہیں تو بھید کھلنا شروع ہوتے ہیں اب وہ عملہ جو اس پروجیکٹ یا ادارے کا حصہ ہے مصحلتا" اپنی زبان نہیں کھول پاتا یا اس خوف سے کہ کہیں اپنی نوکری سے ہاتھ نہ دھونا پڑے اس کے ساتھ اس گناہ میں شریک رہے اس وقت وہ کافی حد تک اپنی بچھائی عیاری کی بساط مضبوط کر چکا ہوتا ہے لیکن وقت بدلتا ہے سو بدلا جب اس سے اوپر اسے دیکھنے والا آیا تو اور باقی لوگ جو اس کی ظلمت کا نشانہ بنتے رہے یہ پڑھے لکھے بااثر سے یا ان لوگوں سے جو پرانے ہیں ہی دشمنی کرتا ہے اچھی طرح سے جانتا ہے کہ مجھے یہ لوگ پکڑ سکتے ہیں یا یہ ہی حاکم کو میرے بارے میں بتا سکتے ہیں عیار منیجر، ایڈمن اپنی نیچ چالیں چلتا ہے اور انہیں کو سب چھوٹے سٹاف کے سامنے نیچا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس پر اس نے کہنا شروع کر دیا کہ میرا یہ ایم ڈی یا انچارج کچھ نہیں بگاڑ سکتا چند دن کی بات ہے ساری بھاگ دوڑ میرے ہاتھ میں ہے کوئی شکایت بھی جا کر لگائے گا تو میری تنخواہ میں اضافہ ہی ہوگا کیونکہ ہونا وہی ہے جو میں نے چاہنا ہے وہ عیار نہایت معصوم بن کر حاکم کے سامنے جھک جھک کر پیش ہوتا ہے اور مدعا ایسے بیان کرتا ہے جیسے سب سچ ہو اب سی سی او (حاکم) بھی سنبھلنے لگا اور کچھ کچھ سمجھنے لگا کہ کہیں نہ کہیں تو کچھ گڑبڑ ہے اور یہ منجانب اللہ ہے کیونکہ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے اور ان کا ساتھ دیتا ہے جنہیں وہ بڑی ہوشیاری سے بدنامی کے گھاؤ دے رہا ہے اور حاکم کو بڑے قرینے سے دھوکہ دے رہا بھید کھلنے لگا ہے حیران کن بات یہ ہے کہ اس دھوکے کے باوجود وہ خود کو پارسا کہتا ہے ۔۔۔۔ "واہ کیا کہنے عیاروں کے"
دور حاضر کے "عیار منیجر ایڈمن"
کچھ سیاسی مثالیں بھی حاضر
آج کے بیوروکریسی اور سرکاری محکموں میں بدعنوانی کی شکلیں اگرچہ جدید آلات اور ڈیجیٹل نظاموں کے ساتھ چھپی ہوئی ہیں، مگر ان کی روح وہی پرانی ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان میں "بھوت ملازمین" کی تعداد ہزاروں میں ہے — کراچی میونسپل کارپوریشن میں 12,000 ملازمین میں سے کتنے حقیقتاً کام کر رہے ہیں اس کا کوئی پتہ نہیں، اور یہ صورتحال ملک بھر میں عام ہے۔ ان بھوت ملازمین پر ٹیکس پیسوں کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، اور یہ نظام شفافیت کی کمی کا نتیجہ ہے ۔
اسی طرح، نوکریوں اور تبادلوں میں رشوت ستانی ایک عام مرض ہے۔ سندھ سیکرٹریٹ میں سیکشن آفیسرز اور کلرک مختلف محکموں میں تعیناتیوں کے لیے "ریٹس" طے کرتے ہیں، جہاں کراچی اور حیدرآباد کی پوسٹنگز زیادہ مہنگی جبکہ دیہی علاقوں کی پوسٹنگز نسبتاً سستی ہیں۔ ایک نوجوان ڈاکٹر جو محض اپنی پوسٹنگ اپنے آبائی شہر میں چاہتا تھا، اسے رشوت دینے سے انکار پر عمرکوٹ بھیج دیا گیا ۔
بدعنوانی کی جدید شکلیں
آڈٹ رپورٹس کے مطابق، سرکاری افسران کئی طریقوں سے خزانے کو لوٹتے ہیں :
1. منصوبوں کے فنڈز کا غبن: جب منصوبے رک جاتے ہیں تو رقم بینکوں میں ڈال کر اس پر منافع حاصل کیا جاتا ہے جو سرکاری ریکارڈ میں درج نہیں ہوتا۔
2. جعلی اکاؤنٹس اور کمپنیوں کا استعمال: ایک حالیہ کیس میں ایک بینکر اور پی آئی اے کے ملازم نے مل کر جعلی کمپنی بنائی اور 1.5 ارب روپے کا غبن کیا ۔
3. غیر قانونی ترقیاں: سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں افسران نے رشوت لے کر 85 ملازمین کو غیر قانونی ترقیاں دیں، جبکہ جنہوں نے رشوت دینے سے انکار کیا انہیں ترقی سے محروم رکھا گیا ۔
4. غریب عوام کے ساتھ زیادتی: سیلاب متاثرین کے لیے بنائے گئے فنڈز میں سے کروڑوں روپے کا حساب کتاب ہی موجود نہیں، اور خوراک کے راشن معمول سے زیادہ مہنگے خریدے گئے جس سے 17 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ۔
بے بس نظام اور مضبوط ملازم
مغلیہ دور کی طرح جہاں عیار منشیوں کو اس کی بددیانتی کے باوجود نوازا، آج بھی بدعنوان افسران اکثر محفوظ رہتے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق، 77 فیصد شہری حکومتی کوششوں سے غیر مطمئن ہیں، اور پولیس، پبلک پروکیورمنٹ اور عدلیہ کو مملکت کے سب سے زیادہ بدعنوان شعبوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔
حال ہی میں متعارف کردہ سول سروسز کنڈکٹ رولز 2026 نے اثاثوں کا عوامی اعلان، ڈیجیٹل ریکارڈنگ، اور مفادات کے تصادم کے خلاف قوانین متعارف کرائے ہیں، مگر ان کا نفاذ ایک بڑا چیلنج ہے ۔
نتیجہ
آج کے بدعنوان ملازمین میں فرق صرف دور کا ہے، کردار کا نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب نظام کمزور ہوتا ہے تو موقع پرست عناصر اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں چاہے وہ مغلیہ دربار ہو، جدید سرکاری دفتر یا ذاتی پروجیکٹ ادارہ تنظیم ضرورت اس بات کی ہے کہ شفافیت، احتساب اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر اس تسلسل کو توڑا جائے، ورنہ تاریخ خود کو دہراتی رہے گی۔
خیانت کا جال شیطانی بساط کی طرح پھیلتا جا رہا ہے اب ہمیں الرٹ ہونا ہے خود کو خود محفوظ کرنا ہے قلم کار قلم کے زریعے اور باشعور افراد اپنے شعور سے ان اندھیروں میں اجالا اجاگر کریں
بندی خدا نے اپنے قلم سے کچھ تنویریں اجاگر کیں ہیں اب اسے ہم سب کو سمجھ کر عمل پیرا ہونا ہے کہ یہ عمل امانت بھی ہیں اور فرض بھی ۔۔
یہ داستانیں کہانیاں حقیقت سے ہیں ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عہدہ صرف ایک ذمہ داری ہے، کوئی ذاتی جائداد نہیں۔ جب کوئی اپنے عہدے کا غلط استعمال کر کے دوسروں کو دھوکہ دیتا ہے تو اس کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: "اور لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا" (سورہ النساء: 107) ۔
جو شخص اپنے آقا اور مالک کو دھوکہ دیتا ہے، وہ دراصل خود اپنے ساتھ خیانت کرتا ہے، کیونکہ اس نے اپنے ضمیر کو دبایا اور اپنے اخلاقی اصولوں کو ترک کیا ایسے خیانت دار کو سبق ملنا چاہیے۔
ڈاکٹر زرقانسیم غالب مغلیہ سلطنت کے عہد میں ایسے عہدیداران تھے جنھوں نے اپنی عیاری اور موقع پرستی کو بروئے کار لاتے ہوئے بادشاہ کو دھوکہ دیا ناصرف خزانے