20/06/2026
*حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا : ہر عورت کے بیٹوں کی نسبت ان کے باپ کی طرف ہوتی ہے ماسوائے فاطمہ کی اولاد کے، کہ میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں*
1. طبراني، المعجم الکبير، 3 : 44، رقم : 2631
2. هيثمي، مجمع الزوائد، 4 : 224
3. شوکاني، نيل الاوطار، 6 : 139
4. صنعاني، سبل السلام، 4 : 99
اس روایت میں بشر بن مہران کو ابن حبان نے ’(الثقات، 8 : 140)‘ میں ثقہ شمار کیا ہے۔
5. حسيني، البيان والتعريف، 2 : 144، رقم : 1314
6. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، 1 : 121
*حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا : قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سواء ہر سلسلہ نسب منقطع ہو جائے گا. ہر بیٹے کی باپ کی طرف نسبت ہوتی ہے ماسوائے اولادِ فاطمہ کے کہ ان کا باپ بھی میں ہی ہوں اور ان کا نسب بھی میں ہی ہوں*
1. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 2 : 626، رقم : 1070
2. حسيني، البيان والتعريف، 2 : 145، رقم : 1316
3. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، 1 : 169
مختصراً يہ روايت درج ذيل محدثین نے روایت کی ہے :
4. عبدالرزاق، المصنف، 6 : 164، رقم : 10354
5. بيهقي، السنن الکبریٰ، 7 : 64، رقم : 13172
6. طبراني، المعجم الاوسط، 6 : 357، رقم : 6609
7. طبراني، المعجم الکبير، 3 : 44، رقم : 2633
8. هيثمي، مجمع الزوائد، 4 :272
*حضرت جابر بن عبد اللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا : ہر ماں کے بیٹوں کا آبائی خاندان ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں سوائے فاطمہ کے بیٹوں کے، پس میں ہی ان کا ولی ہوں اور میں ہی ان کا نسب ہوں*
1. حاکم، المستدرک، 3 : 179، رقم : 4770
2. ابو يعلیٰ، المسند، 2 : 109، رقم : 6741
3. طبراني، المعجم الکبير، 3 : 44، رقم : 2632
4. سخاوي، استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول و ذوي الشرف : 130
*سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللّٰہ علیہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا : ہر عورت کے بیٹوں کا خاندان ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں ماسوائے فاطمہ کی اولاد کے، پس میں ہی ان کا ولی ہوں اور میں ہی ان کا نسب ہوں*
1. طبراني، المعجم الکبير، 22 : 423، رقم : 1042
2. ابويعلیٰ، المسند، 12 : 109، رقم : 6741
3. هيثمي، مجمع الزوائد، 4 : 224
4. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 11 : 285
5. ديلمي، الفردوس، 3 : 264، رقم : 4787
6. مزي، تهذيب الکمال، 19 : 483
7. عجلوني، کشف الخفا، 2 : 157، رقم : 1968
ماخوذ از ”حسنین کریمین سلام اللہ علیھم “کے مناقب